Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔  مشتاق شباب  مشتاق شباب

*شباب کی باتیں*

*اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی*

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔  مشتاق شباب  مشتاق شباب) پشاور تعلیمی بورڈ نے ان شاء اللہ خان انشاء کی یاد دلادی ہے،  جس نے اپنے ایک ہم عصر شاعر قلندر بخت جراءت کے ایک مصرعہ پر گرہ لگا کر اسے اچک لیا تھا۔  واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک بار نابینا شاعر قلندر بخت جراءت،  بیٹھے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھے کہ ان شاء اللہ خان انشاء پہنچ گئے،  جراءت کو سوچ میں ڈوبا ہوا دیکھ کر کہا حضرت خیریت ہے،  کس سوچ میں گم ہیں؟  جراءت نے کہا ایک مصرعہ موزوں ہوا ہے، دوسرا سوجھ نہیں رہا۔  انشاء نے کہا، سنائیے کیا مصرعہ سوجھا ہے؟  جراءت نے کہا نہیں نہیں، آپ مصرعہ سن کر فورا” گرہ لگا کر اس پر قبضہ کر لیں گے۔ انشاءاللہ خان انشاء فی البدیہہ کہنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ اس لیے جراءت نے منع کر دیا مگر،  انشاء نے کہا، ارے نہیں حضرت،  ایسی بھی کیا بات ہے،  آپ سنائیے تو سہی۔ جراءت نے مصرعہ کہا

*اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی*

انشاء کہاں چوکنے والے تھے، فوراً دوسرا مصرعہ جوڑ دیا

*اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی*

جراءت کو بڑا غصہ آیا اور وہ لاٹھی لے کر انشاء کو مارنے کے لیے لپکے تو انشاءاللہ خان انشاء  یہ جا وہ جا۔

اب اس واقعے کا پشاور تعلیمی بورڈ سے کیا تعلق؟  تو وہ یوں ہے کہ انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں بورڈ والوں نے ایک نابینا طالب علم پر بھی نقل کا کیس بنا دیا ہے۔ امتحان میں (نابینا امیدوار مدد کیجئے)  پالیسی کے تحت پرچہ حل کر کے گیا تھا،  تاہم تعلیمی بورڈ نے نقل کے اس مبئینہ واقعے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے ۔جبکہ سوشل میڈیا پر بینائی سے محروم سال دوم کے طالب علم پر یو ایم ایف کے حوالے سے پوسٹیں وائرل ہو رہی ہیں۔

بورڈ کے جاری کردہ نتائج کے خلاف ان دنوں شدید رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور طلباء کو بھاری تعداد میں فیل کیے جانے پر طلباء کا یونیورسٹی روڈ اور پشاور بورڈ کے باہر احتجاج کی وجہ سے گزشتہ روز ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہوئی تھی۔ بہرحال اس حوالے سے بورڈ کے کردار پر ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے کہ اگر ایک بار یہ پنڈورا باکس کھل گیا تو صورتحال کچھ اور ہو جائے گی۔  البتہ یہ جو مبینہ واقعہ ہے یعنی بورڈ کے کرتا دھرتا ان شاء اللہ خان انشاء کے روپ میں سامنے آگئے ہیں اور قلندر بخت جراءت کی طرح ( نابینا طالب علم کے خلاف) جراءت کے مصرعہ پر گرہ لگاتے ہوئے  بیچارے نابینا طالب علم کے مقابلے میں ابن انشاء بن کر اس کے مال متاع سے محروم کر دیا ہے،  تو اس حوالے سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی خبروں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بغیر معاملہ صاف نہیں ہو سکتا۔ اب جن لوگوں نے اس بیچارے نابینا طالب علم پر مبینہ طور پر نقل کے الزامات لگائے ہیں وہ ان الزامات سے جان چھڑانے کے لیے یقینا (اگر کوئی انکوائری ہوئی تو)  ایک دوسرے کو بچانے کے لیے دست تعاون باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ بڑھائیں گے اور انشاء اللہ خان انشاء کے ایک اور شعر میں پناہ ڈھونڈیں گے کہ

*بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاء*

*غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں*

ہمارے ہاں ویسے بھی جب کسی معاملے میں محکمانہ کاروائی کی نوبت آتی ہے تو ملزموں کو بچانے کے لیے انکوائری کمیٹی کے ارکان بھی بسا اوقات اپنے پیٹی بند بھائیوں کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور انکوائری میں الزامات کو “جھوٹ کا پلندہ”  قرار دے کر بچاؤ پر اتر آتے ہیں،  کیونکہ کل کلاں کو خود تحقیقات کرنے والوں کو بھی کسی معاملے میں (خدانخواستہ) ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. اگرچہ مظلوم تو یہی سوچتا ہے کہ اس کو انصاف مل جائے گا مگر معاملہ کچھ ایسا رخ اختیار کر لیتا ہے کہ بیچارا سوچتا ہی رہ جاتا ہے یعنی

*میں تو سمجھ رہا تھا کہ مجھ پر ہے مہرباں*

*دیوار کی یہ چھاؤں تو سورج کے ساتھ تھی*

اس پر ایک ایک بھارتی ڈرامہ (کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی)  پر عمر شریف مرحوم کا بھارت ہی کے ایک شو  میں کیا گیا تبصرہ یاد آجاتا ہے، جب  اس نے یہ تبصرہ کیا تو ہزاروں کا مجمع ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا تھا۔  یعنی کہانی کے مطابق جب ایک بہو رات کے وقت اپنے کسی عاشق سے ملتی ہے اور اس کی ساس یہ سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش رہتی ہے،  تو عمر شریف نے اس ڈرامائی سچویشن پر یوں تبصرہ کیا تھا کہ، “ساس خاموش رہی کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی” اب بورڈ حکام اس (انشائی)  انشاء اللہ خان انشاء حرکت پر کیا کہتے ہیں؟  کہ انہوں نے قلندر بخت جرات جیسے (نابینا)  طالب علم کے ساتھ جو حرکت فرمائی ہے اس پر کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ

*قیامت چیخ اٹھی ہے چال پر اس فتنہ قامت کی*

*ارے ظالم قیامت کی،  ارے ظالم قیامت کی*

بیچارہ نابینا طالب علم تو کچھ کہنے کی “جراءت” کیا کر سکے گا کہ جب اسے نظر ہی نہیں آتا تو بھلا اس نے نقل کیسے کی؟  کیونکہ خبر میں ایسی کوئی معلومات بھی درج نہیں ہیں کہ نابینا طالب علم کے قبضے سے کوئی جدید ترین قیمتی موبائل فون تک برآمد نہیں کیا گیا،  جس میں اس نے سوالوں کے جوابات پہلے سے ریکارڈ کر رکھے ہوں،  یا پھر اس کا انٹرنیٹ کے ذریعے امتحان ہال کے باہر بیٹھے ہوئے کسی “سہولت کار”  سے کوئی رابطہ ہو اور وہ اس سے ہدایات لے کر پرچہ حل کر رہا تھا،  بلکہ ہماری دانست میں تو مادام کیوری کی روح بھی قبر میں کانپ گئی ہوگی جنہوں نے نابینا افراد کے لیے *بریل سسٹم*  ایجاد کر کے انہیں اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ بھی دیکھنے والوں کی طرح علم سے آگاہی حاصل کر کے بہت حد تک نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

 اس حوالے سے ایک بہت پرانی انگریزی فلم wait until dark   یاد آگئی ہے جس میں آرڈرے  ہیپ برن نے اندھی کا کردار ادا کر کے اس فلم کے ایک ایک لمحے کو یادگار بنا دیا تھا۔  اب تو اور بھی کئی فلمیں بن چکی ہیں تاہم ہمارے ہاں اس قدر ٹیلنٹ کی موجودگی ناممکنات میں سے ہے کیونکہ پہلے تو ایسی فلموں یا ڈراموں کے لیے کہانی لکھنا خاصا دشوار ہے پھر ایک ایک سین اور ایک ایک فریم پر محنت بہت ہی دقت طلب  کام ہے۔  ویسے تعلیمی بورڈ والے چاہیں تو اس نوع کی فلمیں اور ڈرامے بنانے میں فلمی  شعبے کی مدد کر سکتے ہیں اور ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ انشاء اللہ خان انشاء بن کر “جراءت” کرنے والوں کو نقل کرنے سے باز رکھنے میں اپنا کمال فن سکھا اور دکھا سکتے ہیں اور اس دور کے مرحوم شاعر ابن انشاء کی یاد بھی دلا سکتے ہیں جو کہہ گئے ہیں کہ

*آنکھیں موند کنارے بیٹھو من کے رکھو بند کواڑ*

*انشاء جی لو دھاگا لو اور لب سی لو خاموش رہو*

Loading