Daily Roshni News

ستارہ لگے ، مگر ستارہ نہیں۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک نقطہ۔ اتنا چھوٹا کہ دوربین میں بس ایک عام ستارہ لگے۔ مگر اس کی روشنی پوری ملکی وے سے سینکڑوں گنا زیادہ ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

۱۹۶۰ کی دہائی کی بات ہے۔ سائنسدانوں کو آسمان میں ایسے نقطے ملے جو ریڈیو دوربینوں کو زبردست سگنل بھیج رہے تھے۔ عام دوربین میں دیکھیں تو بس ایک معمولی ستارہ نظر آتا۔ کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ یہ چیز اصل میں ہے کیا۔ برسوں یہ ایک معمہ رہا۔

لاہور یا کراچی کی چھت پر رات کو بیٹھیں اور دور شہر کی روشنیاں دیکھیں۔ ہر روشنی چھوٹی سی نظر آتی ہے، چاہے نیچے پورا اسٹیڈیم روشن ہو۔ فاصلہ ہر چیز کو چھوٹا بنا دیتا ہے۔ اب سوچیں: اگر کوئی روشنی اتنی دور ہو کہ چھوٹی نظر آنی چاہیے، اور پھر بھی آنکھیں چندھیا دے، تو اصل میں وہ کتنی زبردست ہو گی؟

سیدھی بات یہ ہے: جس جگہ سے یہ روشنی آ رہی تھی، وہاں ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود تھا۔ مثال لیں: بلیک ہول کے گرد گیس اور گرد کا ایک چکر گھوم رہا تھا، بالکل ویسے جیسے نالی میں پانی نیچے جانے سے پہلے تیزی سے گھومتا ہے۔ دوبارہ، دوسرے الفاظ میں: یہ گیس اتنی تیزی سے گھومتی ہے کہ رگڑ سے بے تحاشا گرم ہو جاتی ہے۔ اتنی گرم کہ خود روشنی چھوڑنے لگتی ہے۔ اتنی روشنی کہ اربوں ستاروں والی پوری کہکشاں اس ایک نقطے کے سامنے پھیکی پڑ جاتی ہے۔

اس روشن نقطے کا نام کواسر رکھا گیا۔ بس اتنا نام۔ مطلب: وہ چیز جو ستارہ لگتی ہے، مگر ستارہ نہیں۔

ایک منٹ رکیے۔ سیدھی بات صرف اتنی ہے: روشنی بلیک ہول سے نہیں آتی۔ روشنی اُس گرتی ہوئی گیس سے آتی ہے، بلیک ہول کے کنارے تک پہنچنے سے پہلے۔

اور یہاں ایک الٹی بات ہے۔ جو چیز روشنی نگلنے کے لیے مشہور ہے، وہی کائنات کی سب سے روشن چیزوں کے پیچھے کھڑی نکلی۔ یہ حصہ مجھے خود بھی حیران کرتا ہے۔

ایک اور بات یاد رکھیں: کواسر اتنی دور ہیں کہ ان کی روشنی کو یہاں پہنچنے میں اربوں سال لگے ہیں۔ یعنی آپ جو روشنی دیکھ رہے ہیں، وہ کائنات کے بچپن کی ہے۔ جس کہکشاں سے یہ روشنی چلی تھی، وہ آج شاید بالکل مختلف شکل میں ہو، یا شاید ویسی ہی نہ رہی ہو۔ ہم اُس کا آج کا حال نہیں دیکھ رہے، بس وہ خط پڑھ رہے ہیں جو اُس نے اربوں سال پہلے بھیجا تھا۔

اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔

ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔

Loading