بسم اللہ الرحمن الرحیم
اے طالبِ حق! اللہ تعالیٰ تمہارے باطن کو اپنے نور سے منور فرمائے اور تمہارے دل کو اپنے ساتھ وصل، کامل فنا اور حقیقتِ توحید کی دولت سے مالامال کرے۔
آئیں، حضور سیدنا غوثِ اعظم، قطبِ ربانی شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتاب فتوح الغیب کی سترھویں مجلس کو مفصل، واضح اور روح پرور انداز میں سمجھتے ہیں۔
مقالہ نمبر 17
واصل باللہ ہونے کا طریقہ
حضور غوثِ پاکؒ اس مقالے میں "وصول الی اللہ” (اللہ تک پہنچنے) کی حقیقت، فنا فی اللہ کے منازل، پیر و مرشد کے ساتھ باطنی تعلق کا اختتام اور دنیا کی عارضی لذتوں کی حقیقت کو نہایت ہی باریک بینی سے بیان فرماتے ہیں۔
اس مبارک مقالے کے مفصل نکات درج ذیل ہیں:
1. "وصول الی اللہ” کی باطنی حقیقت
حضور غوثِ پاکؒ فرماتے ہیں کہ جب تجھے اللہ تعالیٰ تک رسائی اور وصول حاصل ہو جائے، تو سمجھ لے کہ یہ محض اللہ ہی کی توفیق اور اس کا خاص قرب ہے۔
وصول الی اللہ کا مطلب کسی جسمانی یا مکانی فاصلے کو طے کرنا نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کائنات کی کسی بھی مخلوق کی مانند نہیں ہے (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ)۔
اس وصول کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ بندہ تمام مخلوقات کی محبت و تعلقات، اپنے ذاتی ارادوں اور نفسانی خواہشات کے بندھنوں سے مکمل آزاد ہو جائے۔ اس کے بعد بندے کا ہر قول، فعل، حرکت اور سکون صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حکم و ارادے کے تابع ہو جاتا ہے۔
اسے صوفیاء کی اصطلاح میں حالتِ محویتِ ذات اور فنا فی اللہ کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور واصلین میں سے ہر ایک کا باطنی درجہ اور راز الگ ہوتا ہے، جس سے کوئی دوسرا واقف نہیں ہو سکتا۔
2. مقامِ مرشد اور اس سے استغناء (بے نیازی)
سالک کے روحانی سفر میں مرشد کا ایک خاص اور عارضی کردار ہوتا ہے:
جب تک سالک کے اندر نفسانی خواہشات، عیوب اور ذاتی ارادے باقی ہوتے ہیں، اس کی تربیت اور تصفیۂ باطن کے لیے مرشد اور پیر کا وجود ضروری ہوتا ہے۔
لیکن جب سالک مقامِ فنا تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے تمام نفسانی عیوب اور ارادے ختم ہو جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اسے مرشد کے واسطے سے بھی جدا کر کے بلاواسطہ اپنی آغوشِ تربیت اور حفاظت میں لے لیتا ہے۔
اس کی مثال یوں ہے جیسے بچے کو دودھ چھڑانے کی ایک مقررہ مدت کے بعد ماں کی چھاتی سے الگ کر دیا جاتا ہے۔
اس مقام پر پہنچ کر اب اس کا حقیقی ہادی، رہنما، حافظ اور ناصر خود اللہ تعالیٰ بن جاتا ہے اور وہ ظلماتِ جہل سے نکل کر انوار و تجلیاتِ الٰہی سے سرفراز ہوتا ہے۔
3. خوف و رجا اور تعلق باللہ
جب انسان واصل باللہ ہو جاتا ہے:
وہ دنیاوی نفع و نقصان کے خوف سے بالکل آزاد ہو کر صرف اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہے۔
وہ اپنی تمام حاجات صرف اپنے رب کے سامنے پیش کرتا ہے اور اسی کی رحمت سے مغفرت کا امیدوار رہتا ہے۔
اس کا دل، دماغ، ذوق اور توجہ صرف اور صرف خالقِ واحد کی طرف مرکوز ہو جاتے ہیں۔
امام غزالیؒ اپنی کتاب کیمیاۓ سعادت میں فرماتے ہیں کہ سچی توحید یہ ہے کہ بندہ تمام اسباب سے آنکھیں بند کر کے مسبب الاسباب کے در پر گر پڑے اور غیر اللہ کی ہیبت اس کے دل سے یکسر نکل جائے۔
4. دنیا کی لذتیں اور مؤمن کا رویہ
حضور غوثِ پاکؒ دنیاوی لذات اور خواہشات کی حقیقت یوں بیان فرماتے ہیں:
یہ دنیا ایک بڑی نہر یا ندی کی مانند ہے جس میں شہوات اور نفسانی لذتوں کا پانی بہہ رہا ہے۔ جو انسان بصیرت اور ایمان کا نور رکھتا ہے، وہ اسے عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جان لیتا ہے کہ دنیا کی عارضی زندگی قابلِ اعتماد نہیں۔
نبی کریم ﷺ کے ارشاداتِ گرامی ہیں:
لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ
یعنی حقیقی اور قائم رہنے والی زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے۔
الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ
دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔
مؤمن پر شریعت کی حدود کی پابندی کی لگام لگی ہوتی ہے، اس لیے وہ ان عارضی لذتوں میں دل نہیں لگاتا۔ بندے کے لیے سب سے بڑی راحت یہ ہے کہ وہ مخلوقات سے قطع تعلق کر کے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرے اور اپنے ارادوں کو رب کے سامنے عاجزانہ طور پر نچھاور کر دے۔
حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے تعلق باللہ اور باطنی حریت کو یوں بیان فرمایا ہے:
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
مخلوق اور اسباب سے اپنی توقعات ختم کر دو۔ اپنے نفس کی خواہشات اور ارادوں کو اللہ کی رضا میں فنا کر دو۔ جب تو خالصتاً اللہ کا ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ تجھے ایسا وقار، باطنی تمکنت اور قرب عطا فرمائے گا جو بندگانِ نفس کو کبھی میسر نہیں ہو سکتا۔
![]()






