پُر سکون لہریں تحریر۔۔۔ خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کتاب ،،، پیراسائیکالوجی

مراقبہ کرنے والا بندہ جب ایک نقطہ یعنی ٫٫تصورِ شیخ،، پر اپنے ذہن کو مرکوز کر دیتا ہے تو شیخ کی شبیہہ دماغ کی اسکرین پر منتقل ہونے سے شیخ کا علمِ حضوری بتدریج بندہ کے دماغ میں منتقل ہوتا رہتا ہے ، کیسے ۔۔۔؟

مراقبہ کرنے والا بندہ ایک نقطے پر اپنے ذہن کو مرکوز کر دیتا ہے اور وہ نقطہ ٫٫ تصوّرِ شیخ ،، ہے یعنی وہ دیکھنے کی اجتماعی صلاحیتوں کو شیخ کے تصور میں مجتمع کر دیتا ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی عکس 5 منٹ 10 منٹ 15 منٹ تسلسل کے ساتھ دماغ کے اوپر منتقل ہوتا ہے ۔۔۔
قانون :
جو عکس دماغ کی اسکرین پر منتقل ہوتا ہے اس عکس کے اندر موجود صلاحیتیں ، صفات اور خاصیتیں بھی دماغ کے اوپر منتقل ہوتی ہیں اور دماغ انہیں محسوس کرتا ہے ۔
مثلاً ،،، ایک آدمی آگ دیکھتا ہے جیسے ہی آگ کا عکس اس کے دماغ کی اسکرین پر منتقل ہوتا ہے آدمی کے اندر حرارت اور گرمی کی خاصیت پیدا ہوتی ہے ۔
ایک آدمی سر سبز و شاداب درختوں کے باغ میں موجود ہے ، رنگین پھولوں کی خاصیت یعنی ٹھنڈک دماغ کو منتقل ہوتی رہتی ہے ۔
اس طرح جب شیخ کی شبیہہ دماغ کے اسکرین پر منتقل ہوتی ہے تو شیخ کے اندر جو علمِ حضوری کام کر رہا ہے وہ بتدریج دماغ میں منتقل ہوتا رہتا ہے ۔۔۔

»»» خواجہ شمس الدین عظیمی رحمۃ اللہ علیہ «««
کتاب ،،، پیراسائیکالوجی ۔۔۔ موضوع ،،، پُر سکون لہریں