ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان علم تنہا حاصل نہیں کرتا؛ اس کے سوالات، دلچسپیاں، ترجیحات اور فہم کسی نہ کسی درجے میں اس ماحول سے تشکیل پاتے ہیں جس میں وہ زندگی گزارتا ہے۔ گھر، تعلیمی ادارہ، معاشرہ، دوستوں کی صحبت اور ذرائع ابلاغ صرف معلومات فراہم نہیں کرتے، بلکہ یہ بھی متاثر کرتے ہیں کہ انسان کن باتوں کو اہم سمجھے، کن سوالات کو نظرانداز کرے اور کن خیالات کو بلا تحقیق قبول کر لے۔
ایسا ماحول جہاں سوال کرنے کی گنجائش، دلیل کی قدر اور اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہو، وہاں علم جستجو اور تحقیق کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ اس کے برعکس، جہاں ہر سوال کو گستاخی، ہر اختلاف کو دشمنی اور ہر نئی دلیل کو خطرہ سمجھا جائے، وہاں ذہن آہستہ آہستہ تحقیق کے بجائے اندھی تقلید کا عادی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تعصب پر مبنی ماحول انسان کو مخالف نقطۂ نظر سمجھنے سے پہلے ہی مسترد کرنا سکھا سکتا ہے۔
قرآن مجید انسان کو محض معاشرتی اثرات کے حوالے نہیں کرتا، بلکہ حق کی پیروی اور دلیل کی جانچ کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا﴾ (البقرۃ: ۱۷۰)۔ یہ آیت اس رویّے کی نشان دہی کرتی ہے جس میں موروثی طرزِ عمل کو حق کی دلیل بنا لیا جاتا ہے۔ اس کا سبق یہ ہے کہ کسی خیال کا قدیم، مقبول یا خاندانی روایت ہونا کافی نہیں؛ اسے حق و دلیل کے میزان پر بھی پرکھنا چاہیے۔
تاہم ماحول کا اثر قبول کرنا لازماً کمزوری نہیں۔ انسان زبان، آداب، اجتماعی تجربات اور بہت سے بنیادی علوم دوسروں ہی سے سیکھتا ہے۔ مسئلہ اثر پذیری نہیں، بلکہ غیر شعوری اور غیر تنقیدی اثر پذیری ہے۔ ایک باشعور انسان اپنے ماحول سے فائدہ اٹھاتا ہے، لیکن اس کے ہر رواج کو معیارِ حق نہیں بناتا؛ وہ اپنی رائے کے مخالف شواہد کو بھی سننے اور اپنی غلطی کی اصلاح کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
علمی ترقی کے لیے ایسے ماحول کی تشکیل ضروری ہے جہاں مطالعہ، مکالمہ، سوال، تحقیق اور اختلاف کے آداب کو فروغ دیا جائے۔ اس کا آغاز گھر اور فرد کی اپنی عادتوں سے بھی ہو سکتا ہے: مستند کتابوں کا مطالعہ، سنجیدہ گفتگو، مختلف آرا کو دیانت داری سے سمجھنا اور غیر مصدقہ معلومات کی تشہیر سے گریز۔ انسان ہمیشہ اپنا پورا ماحول تبدیل نہیں کر سکتا، لیکن وہ اپنے علمی ماحول کے انتخاب اور تشکیل میں اپنا کردار ضرور ادا کر سکتا ہے۔
ماحول انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے، مگر تجربہ اسے یہ جانچنے کا موقع دیتا ہے کہ سیکھی ہوئی بات زندگی کی حقیقتوں میں کس حد تک درست ثابت ہوتی ہے۔ محض معلومات جمع کرنا اور تجربے سے بصیرت حاصل کرنا دو الگ مرحلے ہیں۔ یہی فرق ہمیں اگلے قدم تجربہ اور بصیرت کی طرف لے جاتا ہے: ۔ ۔