کیا زمین کا پانی خلا سے آنے والی برف سے نہیں بلکہ خشک پتھریلے ذرات سے بھی بن سکتا تھا؟۔۔​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

کیا زمین کا پانی خلا سے آنے والی برف سے نہیں بلکہ خشک پتھریلے ذرات سے بھی بن سکتا تھا؟

​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

پیشکش: گلوبل تاریخ حب / سائنس قرآن کے حضور میں

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔​تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)دوستو! اگر میں آپ سے پوچھوں کہ زمین کے سمندروں میں لہریں مارنے والا یہ بے پناہ پانی آخر آیا کہاں سے ہے؟ تو شاید آپ کا جواب وہی ہو گا جو عرصے سے سائنس کی درسی کتابیں اور ماہرین ہمیں بتاتے آ رہے ہیں: کائنات میں بھٹکتے ہوئے برفیلے دمدار ستاروں (Comets) یا پانی سے لدے شہابیوں (Asteroids) کے زمین سے ٹکرانے کی وجہ سے۔ یہ نظریہ برسوں سے فلکیاتی بحثوں کا مرکز رہا ہے۔ لیکن اب ایک نہایت دلچسپ سائنسی تحقیق نے ایک نیا اور حیرت انگیز امکان پیش کیا ہے: کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ زمین کے پانی کا ایک بڑا حصہ باہر خلا سے نہ آیا ہو، بلکہ زمین بننے کے عمل کے دوران خشک پتھریلے ذرات اور ابتدائی گیسوں کے باہمی کیمیائی تعامل سے یہیں اندر پیدا ہوا ہو؟

​یہ سوال محض کوئی خیالی مفروضہ نہیں۔ ستمبر 2026 میں ممتاز سائنسی جریدے Nature Geoscience میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے تجربہ گاہ میں بعینہٖ وہی حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جن میں ہماری ابتدائی زمین تشکیل پا رہی تھی۔

​اصل سائنسی خیال کیا ہے؟

سیاروی سائنس میں زمین کے پانی کے حوالے سے عموماً دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ پہلا اور مقبول نظریہ یہ ہے کہ پانی خلا سے آیا (Exogenous source)۔ اور دوسرا نظریہ یہ ہے کہ پانی زمین کے اپنے بننے کے ارتقائی عمل میں اندرونی طور پر پیدا ہوا (Endogenous source)۔

​نئی تحقیق اسی دوسرے امکان کا تجرباتی جائزہ لیتی ہے۔ محققین کے مطابق، جب آج سے اربوں سال قبل ابتدائی زمین ملی میٹر سے سینٹی میٹر سائز کے انتہائی خشک سلیکیٹ ذرات (Pebbles) کے جمع ہونے سے بن رہی تھی، تو اس کے اوپر ایک گرم اور ہائیڈروجن گیس سے بھرپور فضا موجود تھی۔ اگر ان خشک چٹانی ذرات میں آئرن آکسائیڈ (Iron oxide) موجود ہو، اور وہ اس انتہائی گرم اور ہائیڈروجن سے بھرے ماحول سے گزریں، تو ایک کیمیائی عمل واقع ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پانی کے بخارات (Water vapour) پیدا ہو سکتے ہیں۔

​اسے آسان فہم زبان میں یوں سمجھیے کہ خشک پتھر مکمل طور پر بے جان یا غیر فعّال نہیں ہوتے۔ مناسب ماحولیاتی دباؤ، حرارت اور گیسوں کی موجودگی میں ان کے اندر مرکبات ایسی کیمیائی تبدیلیاں کر سکتے ہیں جن کا نتیجہ زندگی بخش پانی کے بننے کی صورت میں نکلتا ہے۔

​لیبارٹری میں کیا تجربہ کیا گیا؟

اس تحقیق میں سائنس دانوں نے لیبارٹری کے اندر ایسے چٹانی مواد کو پگھلایا جو مکمل طور پر خشک اور پانی سے خالی (Anhydrous) تھا۔ پھر اسے ہائیڈروجن گیس کے تیز بہاؤ میں رکھا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا آئرن آکسائیڈ کی تخفیف (Reduction) ہو کر وہ خالص لوہے میں بدلتا ہے اور کیا اس کیمیائی عمل کے دوران پانی کے بخارات بنتے ہیں؟

​تجربے کے نتائج انتہائی شاندار تھے۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی وہاں قابلِ ذکر مقدار میں پانی کے بخارات پیدا ہو گئے۔ تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا کہ اس عمل کے دوران بننے والا لوہا ‘فاسفورس’ (Phosphorus) کو بھی اپنی طرف کھینچ سکتا ہے، جو کہ زمین کے اندرونی کیمیائی توازن اور زندگی کے بنیادی اجزا کو سمجھنے کے لیے ایک اور اہم کڑی ہے۔

​کیا زمین کا سارا پانی اسی طرح بنا تھا؟

یہاں سائنسی احتیاط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ سائنس دان یہ دعویٰ نہیں کر رہے کہ زمین کا سو فیصد پانی صرف اور صرف اسی عمل سے پیدا ہوا۔ بلکہ یہ تحقیق پانی کی پیدائش کا ایک نہایت مضبوط ‘اندرونی راستہ’ ثابت کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پانی کی کہانی صرف دمدار ستاروں کی محتاج نہیں رہی، بلکہ زمین کی اپنی کوکھ میں پتھروں اور گیسوں کے ملاپ نے بھی پانی پیدا کرنے میں نمایاں حصہ ڈالا ہوگا۔ پانی کا موجودہ ذخیرہ ممکنہ طور پر اندرونی پیدائش اور بیرونی شہابیوں کا مجموعہ ہے۔

​یہ تحقیق اتنی اہم کیوں ہے؟

"زمین زندگی کے قابل کیسے بنی؟” یہ سیاروی سائنس کے چند سب سے بڑے اور بنیادی سوالات میں سے ایک ہے۔ اگر خشک پتھریلے ذرات اور ہائیڈروجن کی فضا کے ملنے سے پانی پیدا ہو سکتا ہے، تو یہ خوشخبری صرف ہماری زمین تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں موجود زمین جیسے دوسرے پتھریلے سیارے (Exoplanets) بھی اپنے بننے کے دوران اس کیمیائی عمل سے سمندروں جتنا پانی حاصل کر سکتے ہیں۔ کائنات میں پانی اور زندگی کی تلاش کے حوالے سے یہ نظریہ ماہرینِ فلکیات کے لیے امید کی ایک بہت بڑی کرن ہے۔

​قرآنی تدبر:

اللہ تبارک و تعالی سورۃ الأنبیاء کی آیت 30 میں حیات اور پانی کے اس کائناتی اصول کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

​وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ

ترجمہ: ”اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا۔ تو کیا وہ (ان نشانیوں کو دیکھ کر بھی) ایمان نہیں لاتے؟“

​ہم یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم اس آیتِ مبارکہ کو ابتدائی زمین کے ہائیڈروجن والے ماحول، آئرن آکسائیڈ کے کیمیائی تعامل یا سیاروی سائنس کے لیبارٹری تجربات کی نصابی پیش گوئی کے طور پر پیش نہیں کر رہے۔ قرآنِ مجید فکری تدبر، ہدایت اور کائنات کے خالق کی پہچان کی کتاب ہے۔

​اس قرآنی آیت کی روشنی میں جب ہم اس سائنسی تحقیق پر غور کرتے ہیں تو کائنات کے خالق کی عظیم الشان کاریگری سامنے آتی ہے۔ اس تحقیق کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اس نے بظاہر خشک اور بے جان سمجھے جانے والے پتھروں کے اندر بھی پانی کی پیدائش کی کہانی تلاش کر لی۔ کائنات میں زندگی اور پانی کا وجود محض حادثاتی برف کے ٹکڑوں کا محتاج نہیں، بلکہ ربِ کائنات نے پتھروں اور گیس کے درمیان ہونے والی خاموش کیمیائی گفتگو میں بھی حیات کے چشمے چھپا رکھے ہیں۔

​مستند حوالہ جات:

۱۔ سشمیتا گرائی اور ساتھی (Garai, Susmita et al.)، Experimental simulation of water formation on Earth from dry pebble rain، سائنسی جریدہ نیچر جیو سائنس (Nature Geoscience)، 24 ستمبر 2026۔

۲۔ نیچر جیو سائنس ریسرچ بریفنگ، 12 اکتوبر 2026۔

۳۔ مطالعہ: آئرن آکسائیڈ کی ہائیڈروجن ریڈکشن سے واٹر ویپر کی پیدائش اور فاسفورس کا انجذاب (Scientific Analysis)۔

۴۔ القرآن الکریم، سورۃ الأنبیاء، آیت 30؛ تفسیر طبری۔

​#زمین #پانی #ارضیات #سیاروی_سائنس #تحقیق #گلوبل_تاریخ_حب #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں