پاکستان پیپلزپارٹی نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دے دی۔
انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے معاملے پر پاکستان پیپلزپارٹی کے وفد نے قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی اور رہنما تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر سے ملاقات کی اور پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپنی تجاویز پیش کریں۔ انتخابی عمل پر بار بار اٹھنے والے سوالات پارلیمان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ شفاف، آزادانہ، منصفانہ انتخابات ووٹرز کے اعتماد، جمہوری اداروں کی مضبوطی کیلئے نا گزیر ہیں۔ علامہ راجہ ناصرعباس نے انتخابات میں شفافیت مؤثر بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے صحافیوں کو بتایا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت سےمتعلق حکومتی دعوت ملی ہے، حکومتی وفد سے کل بھی ملاقات ہوئی، آج بھی وفد نے رابطہ کیا، انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کا فیصلہ مشاورت کے بعد کریں گے۔ دونوں ایوانوں کی قیادت اور متعلقہ فورمز سے مشاورت کریں گے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے دی، اسپیکرجلد انتخابی اصلاحات کمیٹی کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے، پی ٹی آئی نے کمیٹی کی تشکیل سے متعلق تحریک کی مخالفت نہیں کی۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مجوزہ انتخابی اصلاحات کمیٹی 30 ارکان پر مشتمل ہوگی، کمیٹی میں قومی اسمبلی کے 20 اور سینیٹ کے 10 ارکان شامل ہوں گے، کمیٹی میں جماعتوں کےارکان کا تعین ایوان میں ان کی عددی نمائندگی کےتناسب سےہوگا۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی مشاورت اور اتفاقِ رائے کمیٹی کے قیام کا مقصد ہے، شفاف انتخابی نظام کیلئےاپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کی قابل عمل تجاویز کو اہمیت دیں گے، یہ ایک جماعت کا نہیں، جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کا مشترکہ قومی معاملہ ہیں، تمام سیاسی جماعتیں قومی مفاد کو مقدم رکھ کرانتخابی اصلاحات میں مؤثر کردار ادا کریں۔