پھول کی شاخ صبح کے آنسووں یعنی شبنم کے قطروں کے باعث موتیوں کی لڑی معلوم ہوتی ہے اور شبنم کے کسی قطرے میں سورج کی شعاع الجھ گئی ہے ۔ دریا کا سینہ سورج کی شعاعوں کے لئے پالنے کا کام دیتا ہے ۔ ندی کے کنارے سورج کا منظر کس قدر خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے۔ جیسے صنوبر کا درخت اپنی آرائش میں مصروف ہے اور بہتی ہوئی ندی اس کے لیے آئینے کا کام دے رہی ہے ۔ جبکہ بہار کی زندگی بخش ہوا پھولوں اور غنچوں کے لئے آئینے کا کام کرتی ہے۔ باغ ۔ میں بلبل انسان کی آنکھوں سے چھپ کر اور پتوں میں بیٹھ کر گانا گانے میں مصروف رہتی ہے۔ سے گلستان میں رنگین نتے کھانے والی اس بلبل کی وجہ سے گلستان کی فضامیں زندگی کے آثار نظر آتے ہیں ۔ یہ بلبل عشق کی اڑتی ہوئی تصویر ہے اور قدرت کے قلم نے یہ کتنی شوخ عبارت لکھی ہے ۔ باغ میں درخت بالکل چپ چاپ کھڑے ہیں اور پہاڑ کی داری میں گڈریوں کے بچے کھیل کود میں مصروف ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں ۔ یہ پرانا خاکداں یعنی قلعہ زندگی سے بھر پور ہے اور گو اس قلعے کے رہنے والے موت کا شکار ہو چکے ہیں لیکن یہاں پر موت کے پردے میں زندگی کا اضطراب چھپا ہوا ہے ۔ قلعے میں آگے ہوئے پودوں کی شاخوں سے موسم خزاں کے باعث پھولوں کی پتیاں اس طرح جھڑ رہی ہیں جیسے سوئے ہوئے بچے کے ہاتھ سے رنگین کھلونے کرتے ہیں ۔
خوشی و مسرت کی اس دنیا میں اگر چہ انسان کیلئے عیش و عشرت کے بہت سے سامان ہیں لیکن قوم و ملت کا تنزل اور بربادی کا غم ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والا غم ہے ۔
بند 12
*دل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیں ۔*
ہمارے دل گزرے ہوئے زمانے کی یاد سے خالی نہیں ہیں اور مسلمان قوم نے اپنے گزرے عظمتوں کے لٹ جانے پر رونے کے بہانے ہیں ۔ ہماری آنسووں سے بھیگی ہوئی آنکھ صرف مسلسل رونے کی وجہ سے دیکھنے کے قابل ہے ۔ ہم مسلمان اپنی رونے والی آنکھ سے زمانے کو موتی عطا کرتے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان گرتے ہوئے تند و تیز طوفان کے آخری بادل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لیکن اس آخری بادل کے دامن میں بھی بے شمار موتی ہیں ۔ اس کے خاموش سینے میں ابھی بجلیاں باقی ہیں۔ یہ بادل اب بھی صحراؤں کی مٹی کو گلستانوں میں بدل سکتا ہے اور کسانوں کی امید جو مایوس ہو کر سو چکی ہے، اسے خواب سے بیدار کر سکتا ہے ۔
گر چہ قوم کی جلالی شان کا اظہار ہو چکاہے لیکن ابھی قوم کی جمالی شان کا ظہور باقی ہے۔ شان جلالی سے مراد رعب و دبدبہ شان و شوکت اور حکمرانی و فتوحات ہیں جبکہ شان جمالی کا منشا حسن اخلاق اور ادب و فنون میں کامیابی ہے ۔