۔۔۔۔۔ ماں کے بغیر ۔۔۔۔۔ تحریر ۔ بلال شوکت آزاد انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

۔۔۔۔۔  ماں کے بغیر  ۔۔۔۔۔

تحریر ۔ بلال شوکت آزاد

انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔  ماں کے بغیر  ۔۔۔۔۔ تحریر ۔ بلال شوکت آزاد۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی )ماں چلی جائے تو گھر نہیں، انسان کے اندر ایک دنیا خالی ہو جاتی ہے! – بلال شوکت آزاد

6 اکتوبر 2026 کو میری ماں اس دنیا سے چلی گئی۔

یہ جملہ لکھ دینا شاید دنیا کے آسان ترین کاموں میں سے ایک ہے، لیکن اس جملے کے اندر اتر کر اسے محسوس کرنا شاید انسان کے لیے دنیا کے مشکل ترین تجربات میں سے ایک ہے۔

لفظ ’’چلی گئی‘‘ کاغذ پر صرف دو لفظ ہیں، مگر ان دو لفظوں کے پیچھے ایک پوری کائنات دفن ہوتی ہے۔

ایک آواز، ایک چہرہ، ایک لمس، ایک دعا، ایک گھر، ایک سایہ، ایک عادت، ایک رشتہ اور ایک ایسا وجود جس کے بارے میں انسان کو کبھی یہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کہ ایک دن یہ وجود اس کی آنکھوں کے سامنے سے غائب بھی ہو سکتا ہے۔

میں پچھلے دو دن سے اسی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جس عورت کی آواز میرے لیے گھر کی ایک آواز نہیں بلکہ گھر کی پہچان تھی، اب وہ آواز دوبارہ نہیں آئے گی۔ جس چہرے کو دیکھنے کی عادت تھی، وہ چہرہ اب آنکھوں کے سامنے نہیں ہوگا۔ جس ہاتھ نے میرے سر پر ہاتھ رکھا، ماتھا چوما، دعائیں دیں، تسلی دی، وہ ہاتھ اب میرے سر پر نہیں ہوگا۔ جس شخصیت سے میں دنیا بھر کے شکوے کر سکتا تھا، جس کے سامنے اپنی پریشانیاں کسی ترتیب کے بغیر رکھ سکتا تھا، جس سے مشورہ مانگتے ہوئے مجھے یہ سوچنا نہیں پڑتا تھا کہ میں اپنی کمزوری ظاہر کر رہا ہوں، وہ شخص اب میرے درمیان موجود نہیں۔

میں جانتا ہوں کہ موت برحق ہے۔

میں جانتا ہوں کہ ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ دنیا دارالقرار نہیں، دارالامتحان ہے۔

میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صبر کا حکم دیا ہے اور ایک مسلمان کے لیے موت فنا نہیں بلکہ ایک دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی ہے۔

لیکن علم اور تجربہ دو الگ چیزیں ہیں۔

کتاب میں لکھی ہوئی حقیقت اور اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتاری ہوئی حقیقت کے درمیان ایک پوری کائنات کا فاصلہ ہے۔

انسان دوسروں کی موت پر بہت کچھ کہہ سکتا ہے۔

وہ صبر کی بات کر سکتا ہے، تقدیر کی بات کر سکتا ہے، آخرت کی بات کر سکتا ہے، قرآن کی آیات پڑھ سکتا ہے، احادیث بیان کر سکتا ہے، فلسفہ سمجھا سکتا ہے، زندگی کی بے ثباتی پر گفتگو کر سکتا ہے۔

لیکن جب موت آپ کے اپنے گھر کا دروازہ کھولتی ہے، جب وہ کسی ایسے شخص کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے جو آپ کی زندگی کے معمول کا حصہ ہو، جب آپ اس شخص کو اپنے ہاتھوں سے زمین کے حوالے کرتے ہیں، تو بہت سے فلسفے اچانک خاموش ہو جاتے ہیں۔

میں نے اپنی والدہ کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہے۔

میں نے انہیں زمین کے دامن میں اترتے دیکھا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ اب وہ چند ہاتھ مٹی کے نیچے ہیں۔

یہ جاننا عقل کے لیے مشکل نہیں، مگر دل کے لیے اس حقیقت کو قبول کرنا شاید وقت لے گا۔

کیونکہ اب میں فون اٹھا کر ان کا نمبر ملاؤں گا تو وہ آواز نہیں آئے گی۔ اب میں ان کے سامنے بیٹھ کر بات نہیں کر سکوں گا۔ اب وہ ماتھے پر بوسہ، وہ دعا، وہ اچانک میری طرف دیکھ کر پوچھ لینا کہ ’’بیٹا کیا ہوا؟‘‘، میری آواز سے میری پریشانی بھانپ لینا، میری بیماری پر مجھ سے زیادہ پریشان ہو جانا، میرے بچوں کا حال پوچھنا، میری اہلیہ کا ذکر کرنا، میرے دن بھر کے معاملات سننا، یہ سب دنیا میں دوبارہ نہیں ہوگا۔

یہاں تک کہ میری وہ عادت بھی ختم ہو گئی جس کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ ایک دن یہ بھی ختم ہو سکتی ہے۔

میں روزانہ کام سے گھر واپس آ کر نہانے دھونے سے فارغ ہوتا تو اپنی والدہ کو فون کرتا تھا۔ کبھی دس منٹ، کبھی آدھا گھنٹہ، کبھی ایک گھنٹہ۔ وہ میرے پورے دن کی روٹین پوچھ لیتیں۔ دفتر میں کیا ہوا، کام کیسا رہا، بچوں کا کیا حال ہے، میری اہلیہ کیسی ہیں، کوئی مسئلہ تو نہیں، طبیعت کیسی ہے؛ میری زندگی کی چھوٹی بڑی باتیں ان کے سامنے آ جاتی تھیں۔

اب اس معمول کی جگہ خاموشی ہے۔

وہ اکثر کہتیں:

’’بیٹا پریشان نہ ہو، اللہ سب ٹھیک کر دے گا۔‘‘

اور ان چند لفظوں میں شاید وہ تسلی ہوتی تھی جو کسی لمبی تقریر میں بھی نہیں مل سکتی۔

موت بعض اوقات صرف سانس کے رک جانے کا نام نہیں ہوتی۔

موت ان تمام معمولات کے رک جانے کا نام بھی ہوتی ہے جو ہماری زندگی کو زندگی بناتے ہیں۔

وہ فون کال جو روز ہوتی تھی، وہ آواز جو روز سنائی دیتی تھی، وہ سوال جو روز پوچھا جاتا تھا، وہ دعا جو روز کسی نہ کسی شکل میں ہمارے ساتھ چلتی تھی، وہ چہرہ جسے دیکھ کر دل کو یہ اطمینان رہتا تھا کہ دنیا میں ابھی ایک ایسی جگہ موجود ہے جہاں مجھے بغیر کسی شرط کے قبول کیا جاتا ہے، سب کچھ اچانک ماضی بن جاتا ہے۔

میری والدہ میری زندگی میں صرف ایک انسان نہیں تھیں؛ وہ میری زندگی کے معمولات کا ایک حصہ تھیں۔ ان کی موجودگی میرے دن کے نقشے میں شامل تھی۔ اس لیے ان کی عدم موجودگی صرف ایک خالی کرسی نہیں، میرے پورے معمول میں ایک خلا ہے۔

اور شاید اسی لیے جن لوگوں کی مائیں زندہ ہیں، میں ان سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ آپ واقعی خوش قسمت ہیں۔ شاید ابھی آپ کو اس خوش بختی کی پوری قیمت معلوم نہ ہو، کیونکہ جس چیز کی موجودگی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے، ہم اس کی قدر اکثر اس وقت پوری طرح سمجھتے ہیں جب وہ ہم سے چھن جائے۔

ان کے پاس بیٹھیں۔

ان کی بات سنیں۔

ان کا ہاتھ چومیں۔

اگر کبھی دل میں کوئی بوجھ ہے تو معافی مانگ لیں۔

انہیں بتائیں کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں۔

کیونکہ موت کے بعد سب سے تکلیف دہ چیز صرف یہ نہیں ہوتی کہ ہم نے کیا کھو دیا؛ کبھی کبھی تکلیف ان الفاظ کی بھی ہوتی ہے جو ہمارے اندر رہ گئے اور زبان تک نہ آ سکے۔

میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ زندہ ماؤں کو سلامت رکھے، انہیں صحت، عافیت اور سکون دے، ان کے بچوں کو ان کی خدمت اور دعائیں سمیٹنے کی توفیق دے اور انہیں اس دن سے محفوظ رکھے جس دن انسان کو میری طرح کہنا پڑے:

’’میری ماں اب نہیں رہی۔‘‘

لیکن ایک بات ایسی ہے جسے شاید وہی شخص پوری طرح سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی ماں کو اپنے ہاتھوں سے مٹی کے سپرد کیا ہو۔

ہم دوسروں کے غم کو سمجھ سکتے ہیں، ان کے ساتھ رو سکتے ہیں، انہیں تسلی دے سکتے ہیں، ان کے لیے دعا کر سکتے ہیں، مگر بعض غم ایسے ہوتے ہیں جن کی مکمل لغت صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو ان سے گزر چکے ہوں۔

جب میں نے اپنی ماں کو قبر میں اتارا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں صرف ایک جسم کو زمین کے حوالے نہیں کر رہا، اپنی زندگی کے ایک ایسے حصے کو بھی دفن کر رہا ہوں جو میرے وجود کے ساتھ بچپن سے چلتا آیا تھا۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں یہ بھی سمجھنے لگا ہوں کہ ’’مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں‘‘ کہنا درست ہونے کے باوجود مکمل بات نہیں۔

ماں کا رشتہ سب کے لیے محترم ہے۔

ماں محبت، قربانی، تربیت اور پناہ کی علامت ہے۔

اسلام نے بھی ماں کے مقام کو غیر معمولی اہمیت دی۔

رسول اللہ ﷺ سے حسنِ سلوک کے سب سے زیادہ حق دار کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ ماں کا ذکر فرمایا، پھر والد کا۔

لیکن ماں کا لفظ مشترک ہونے کے باوجود ہر انسان کی ماں ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔

اس کا مزاج الگ، محبت کا اظہار الگ، تربیت کا انداز الگ، آواز الگ، ڈانٹ الگ، خاموشی الگ اور اپنے بچے کے ساتھ اس کا تعلق بھی الگ ہوتا ہے۔

جیسے انسانوں کی شناخت ایک جیسی نہیں ہوتی، ویسے ہی ماں اور بچے کا رشتہ بھی اپنی ایک منفرد ساخت رکھتا ہے۔

اس لیے جب کوئی کہتا ہے ’’ماں تو ماں ہوتی ہے‘‘ تو میں اب اس جملے کی تکمیل یوں کرتا ہوں:

ماں تو ماں ہوتی ہے، لیکن میری ماں میری ماں ہوتی ہے۔

اور یہ فرق شاید صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے کسی مخصوص ماں کو کھویا ہو۔

میری والدہ کے ساتھ میرا تعلق بچپن سے بہت گہرا تھا۔

ہر گھر ایک جیسا نہیں ہوتا، ہر خاندان کا مزاج ایک جیسا نہیں ہوتا، ہر بچے کو ایک جیسا ماحول نہیں ملتا اور ہر والدین کا اندازِ تربیت بھی یکساں نہیں ہوتا۔

ہمارے معاشرے میں ان باتوں پر گفتگو بعض اوقات گھر کی بدنامی سمجھ لی جاتی ہے، حالانکہ جن مسائل پر بات نہ کی جائے وہ ختم نہیں ہوتے، صرف چھپ جاتے ہیں۔

ایک زمانے میں ہمارے معاشرے میں آٹھ، دس یا اس سے زیادہ بچوں والے خاندان معمول کی بات تھے۔ ایسے گھروں میں محبت اپنی جگہ موجود ہوتی تھی، مگر توجہ تقسیم ہو جاتی تھی۔

بنیادی ضروریات پوری کرنا ہی اکثر بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا، جبکہ بچے کی انفرادی شخصیت، جذباتی ضرورت، ذہنی سوال اور اندرونی دنیا کہیں پیچھے رہ جاتی تھی۔

بعد میں خاندان چھوٹے ہوئے، مگر اس کے ساتھ مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

بعض والدین اپنی محرومیوں کو اولاد کے ذریعے پورا کرنے لگے اور بعض اوقات اپنی گزری ہوئی محرومیوں کا بوجھ بھی بچوں پر منتقل کر دیتے ہیں۔

یہاں میں کوئی سائنسی سروے پیش نہیں کر رہا۔

برسوں سے مختلف لوگوں کی نجی گفتگو، مشوروں اور ان کی گھریلو کہانیوں کو سنتے ہوئے جو مشاہدہ میرے سامنے آیا، میں صرف اسی کی بات کر رہا ہوں۔

نفسیاتی اذیت ہمیشہ مارپیٹ کی شکل میں نہیں ہوتی۔

کسی بچے کو مسلسل یہ احساس دلانا کہ وہ اہم نہیں، اس کی بات کی قدر نہیں، اس کی کامیابی معمولی ہے، اس کے جذبات بے معنی ہیں، یا وہ گھر میں رہتے ہوئے بھی گھر کا حقیقی فرد نہیں، انسان کے اندر دیرپا زخم چھوڑ سکتا ہے۔

اور پھر ماں کا وجود اس سب کے درمیان ایک پناہ بن سکتا ہے۔

میں اپنے گھر کے بارے میں کوئی مثالی دعویٰ نہیں کرتا۔

ہمارے گھر میں بھی اختلافات رہے، اونچ نیچ رہی، جیسے ہر گھر میں ہوتی ہے۔

میرے والد صاحب سخت مزاج طبیعت کے حامل رہے اور ان کا تعلق فوج سے تھا، اس لیے ان کی شخصیت پر فوجی تربیت کی سختی کا اثر بھی تھا۔ شاید اسی وجہ سے میں اپنے والد کے ساتھ اس سطح پر جذباتی طور پر نہ جڑ سکا جس سطح پر اپنی والدہ سے جڑا رہا۔

لیکن میرے والد کا ایک احسان میری زندگی کے بنیادی حصے میں موجود ہے۔

کتابوں سے محبت کا بیج انہوں نے میرے اندر بویا۔

انہوں نے پڑھنے لکھنے کی طرف میرے رجحان کو پہچانا اور مجھے کتابوں سے جوڑا۔

اگر آج مطالعہ، تحقیق اور لکھنا میری زندگی کا حصہ ہیں تو اس سفر کے آغاز میں میرے والد کا حصہ ضرور موجود ہے۔

لیکن بیج اور درخت میں فرق ہوتا ہے۔

اس بیج کو پانی دینے، اس کی حفاظت کرنے اور اسے بڑھتے دیکھنے میں میری والدہ کا کردار بہت گہرا تھا۔

وہ صرف مجھ سے بات نہیں کرتی تھیں؛ وہ میرے ساتھ سوچتی تھیں۔

وہ سوال کرتی تھیں، نظریات پیش کرتی تھیں، کسی موضوع کا دوسرا پہلو نکال دیتی تھیں اور مجھے مزید سوچنے پر مجبور کرتی تھیں۔

کئی باتیں ایسی ہیں جن پر میں نے ان کے ساتھ برسوں پہلے گفتگو کی، پھر وقت گزرنے کے بعد میں نے ان پر تحقیق کی، علمی مواد پڑھا اور بعض موضوعات پر بعد میں مجھے ایسا مواد ملا جس سے ہماری پرانی گفتگوؤں کی کچھ جہتیں زیادہ واضح ہوئیں۔

کبھی میں واپس جا کر انہیں بتاتا:

’’مما، یاد ہے ہم نے یہ بات کتنے سال پہلے ڈسکس کی تھی؟ آج اس پر باقاعدہ تحقیق موجود ہے۔‘‘

وہ خوش ہوتیں۔

وہ اسے صرف میری کامیابی نہیں سمجھتی تھیں؛ انہیں ہماری پرانی گفتگوؤں کا دوبارہ زندہ ہونا محسوس ہوتا تھا۔

وہ اپنے بچے کو صرف بیٹا نہیں دیکھتی تھیں، ایک ذہن بھی سمجھتی تھیں۔

یہ معمولی بات نہیں۔

ہر والدین بچے کو پڑھنے کے لیے کہہ سکتے ہیں، مگر ہر والدین بچے کو سوال کرنے کی آزادی نہیں دیتے۔

میری والدہ نے میرے سوالوں سے گھبرا کر مجھے خاموش نہیں کیا۔

وہ میرے سوالوں میں دلچسپی لیتی تھیں۔

وہ اپنے زمانے میں سائنسی تعلیم سے وابستہ رہی تھیں، کتابیں اور رسائل پڑھتی تھیں اور نئی باتوں میں دلچسپی رکھتی تھیں۔

ہماری گفتگو صرف گھر کے معمولات تک محدود نہیں تھی۔

زندگی، علم، مذہب، سائنس، انسان، معاشرہ، کائنات اور نہ جانے کتنے موضوعات ہماری گفتگو کا حصہ رہے۔

شاید آج مجھے پہلی بار پوری شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ میرے بہت سے سوالوں کے پیچھے میری ماں کی آواز بھی موجود تھی۔

وہ میری پہلی سامع تھیں۔

میری پہلی ناقد تھیں۔

میری پہلی فکری ساتھی تھیں۔

اور کئی معنوں میں میری پہلی مشیر اور سہیلی بھی۔

میری والدہ میری فیس بک وال پر بھی موجود رہتی تھیں۔

وہ میری تحریریں پڑھتی تھیں، ردعمل دیتی تھیں، کمنٹس کرتی تھیں اور بعد میں فون پر ان تحریروں کے بارے میں بات بھی کرتی تھیں۔ قرآن کے موضوعات، سیرت النبی ﷺ، دین، تحقیق اور علم سے متعلق تحریریں انہیں خاص طور پر پسند تھیں۔

سینکڑوں کمنٹس میں ان کا ایک کمنٹ میرے لیے سب سے زیادہ قیمتی ہوتا تھا، صرف اس لیے کہ وہ میری ماں کا کمنٹ تھا۔

اب میری وال پر لوگ موجود ہیں، تحریریں موجود ہیں، پرانے کمنٹس موجود ہیں، مگر اس مخصوص کمنٹ کے پیچھے بیٹھنے والی شخصیت موجود نہیں۔

کبھی کسی پرانی پوسٹ پر ان کا کمنٹ دیکھوں گا تو شاید ایک لمحے کے لیے بھول جاؤں کہ وہ دنیا میں نہیں رہیں۔ پھر حقیقت واپس آئے گی۔

شاید غم یہی ہے۔

یاد انسان کو ماضی میں لے جاتی ہے اور حقیقت اسے واپس حال میں کھینچ لاتی ہے۔

میں اپنی والدہ کے ساتھ ہمیشہ کامل نہیں رہا۔

اولاد اور والدین کے درمیان غلط فہمیاں اور اختلافات ہوتے ہیں۔

لیکن اللہ کا شکر ہے کہ میرے دل پر ایسا بوجھ نہیں کہ میں اپنی ماں سے معافی مانگے بغیر دنیا میں رہ گیا۔

جب کبھی مجھے لگا کہ مجھ سے کوئی زیادتی یا غلطی ہوئی ہے، میں نے معذرت کی۔

وہ محبت سے ڈانٹ کر کہتیں:

’’کیسی باتیں کرتے ہو؟ ماں باپ اور بچوں میں غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں۔ دل چھوٹا نہ کرو۔ میری طرف سے تمہارے لیے کچھ نہیں۔ میں تمہیں بددعا کا سوچ بھی نہیں سکتی، میں تو تمہیں ہمیشہ دعاؤں میں یاد رکھتی ہوں۔‘‘

آج اس بات پر ایک عجیب اطمینان ہے کہ میں اپنی ماں سے محبت چھپا کر نہیں گیا۔

میں نے اس سے معافی مانگی تھی۔

میں نے اس کے ساتھ وقت گزارا تھا۔

میں نے اس کی دعائیں لی تھیں۔

اور اس نے مجھے اپنی دعاؤں سے محروم نہیں کیا۔

خاص طور پر زندگی کے آخری دو تین مہینوں میں وہ میرے ساتھ ایسے پیش آتی تھیں جیسے میں اب بھی بہت چھوٹا بچہ ہوں۔

کبھی میرے ہاتھ میں پیسے رکھ دیتیں کہ اپنے بچوں یا اپنے لیے کچھ لے لینا، جو پسند ہو کھا لینا۔

میری پریشانی سنتیں تو کہتیں:

’’بیٹا پریشان نہ ہو، سب ٹھیک ہوگا۔ اللہ تمہیں بہت دے گا۔‘‘

’’تم ایک دن بہت اونچی جگہ پر ہوگے۔‘‘

’’میں اپنے اللہ سے تمہارے لیے سب کچھ مانگتی ہوں۔‘‘

میں شاید اس وقت ان جملوں کی قیمت پوری طرح نہیں سمجھتا تھا۔

آج سمجھ رہا ہوں۔

ماں ہمیشہ آپ کے مسئلے حل نہیں کرتی، مگر آپ کے مسئلے اٹھانے کی طاقت بڑھا دیتی ہے۔

2020 سے 2026 تک میری زندگی میں کئی مشکلات آئیں۔ مالی پریشانی ہو، کام کا مسئلہ ہو، صحت کا معاملہ ہو یا مستقبل کی فکر، میری والدہ ان پریشانیوں سے الگ نہیں تھیں۔ میں پریشان ہوتا تو وہ بھی پریشان ہوتیں۔ میں بیمار ہوتا تو مجھ سے زیادہ فکر کرتیں۔ اگر انہیں نظرِ بد کا خیال آتا تو اللہ سے اس سے بھی پناہ مانگتیں۔

دنیا کے سامنے میں ایک بالغ آدمی ہوں۔

اپنے بچوں کا باپ ہوں، فیصلے کرتا ہوں، لکھتا ہوں، دوسروں کو مشورے دیتا ہوں، اپنے خیالات کا دفاع کرتا ہوں۔

مگر اپنی ماں کے سامنے میں ہمیشہ بچہ رہا۔

ہم دنیا کے سامنے بڑے ہو جاتے ہیں۔

ماں کے سامنے نہیں۔

اور شاید اب مجھے یہ بات سب سے زیادہ سمجھ آ رہی ہے کہ میں جتنا خود کو خودمختار سمجھتا تھا، اتنا تھا نہیں۔

آج اس جدائی کا تیسرا دن ہے اور میری ذہنی کیفیت عجیب ہے۔

زندگی کے معمولات سامنے کھڑے ہیں، ذمہ داریاں موجود ہیں، بچے موجود ہیں، کام موجود ہے، دنیا اپنی رفتار سے چل رہی ہے، مگر میرے اندر جیسے وقت رک گیا ہے۔

کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ذہن خلا میں معلق ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ کیا کیا جانا ہے، مگر یہ معلوم نہیں کہ اب وہ بات کس سے کرنی ہے جو میں ہر مشکل کے وقت اپنی ماں سے کرتا تھا۔

یہی وہ خلا ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔

بیوی سے آپ بہت کچھ کہہ سکتے ہیں، بچوں سے بہت کچھ، دوستوں سے بہت کچھ، مگر ماں کے سامنے اپنی کمزوری بیان کرنے میں بھی آدمی کو خود کو کمزور محسوس نہیں کرنا پڑتا۔

آپ دنیا بھر کی شکایات لے کر اس کے سامنے بیٹھ سکتے ہیں، اپنی ناکامی، پریشانی، بے بسی، غصہ اور خوف سب رکھ سکتے ہیں۔

اور کبھی ماں پوری بات سن کر صرف اتنا کہتی ہے:

’’اللہ بہتر کرے گا۔‘‘

مسئلہ حل نہیں ہوتا، مگر دل کا وزن کم ہو جاتا ہے۔

اب وہ جگہ خالی ہے۔

کچھ خلا وقت کے ساتھ چھوٹے نہیں ہوتے؛ انسان صرف ان کے ساتھ جینا سیکھتا ہے۔

مجھے اپنا بچپن یاد آئے گا، اپنی کتابیں یاد آئیں گی، وہ بحثیں یاد آئیں گی، وہ سوال یاد آئیں گے، وہ دعائیں یاد آئیں گی، وہ آخری مہینے یاد آئیں گے جب میری عمر چاہے جتنی بھی تھی، ان کی نظر میں میں اب بھی ان کا بچہ تھا۔

اور اب مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ ماں کی نظر میں بچے کی عمر شاید کبھی ختم نہیں ہوتی۔

میں اب بھی اس کا بچہ ہوں۔

اور شاید ہمیشہ رہوں گا۔

اسلام نے والدین کے رشتے کو اسی لیے معمولی نہیں سمجھا۔ قرآن مجید نے والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا، ان کے سامنے سختی سے روکا اور یہاں تک فرمایا کہ انہیں ’’اُف‘‘ تک نہ کہو۔ سورۂ لقمان میں ماں کی مشقت کا خصوصی ذکر ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے ماں کے مقام کو بار بار واضح فرمایا۔

لیکن ماں کے انتقال کے بعد اس حکم کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے: خدمت کا وہ موقع جس میں انسان ماں کے لیے پانی لاتا، دوا دیتا، اس کے ہاتھ چومتا، اس کے پاس بیٹھتا یا اس کے سر پر ہاتھ رکھتا، اب دنیاوی زندگی میں واپس نہیں آتا۔

اب میرے پاس دعا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے ان اعمال کے جن میں صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم اور نیک اولاد کی دعا شامل ہے۔

میں اپنی ماں کے لیے دعا کرنا چاہتا ہوں۔

بار بار۔

اور اپنی زندگی کے ان کاموں کو بھی اللہ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جن میں قرآن، سیرت، علم، تحقیق، اصلاح اور الحاد کے سوالات کے جوابات کی کوشش شامل ہے۔

میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میری ہر تحریر یا ہر کوشش کا اجر لازماً میری ماں تک پہنچتا ہے۔ اجر کا قطعی فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ لیکن میں اس کی رحمت سے امید رکھتا ہوں کہ نیک اولاد کی دعا، خیر کے کام اور نفع بخش علم کو وہ اپنی رحمت سے ایسے لوگوں کے لیے بھی باعثِ خیر بنا سکتا ہے جنہوں نے اس خیر کی بنیاد رکھنے میں حصہ لیا ہو۔

میری ماں نے مجھے پڑھنے، سوچنے اور سوال کرنے کا حوصلہ دیا۔ اس لیے اب میری کوشش ہوگی کہ میری زندگی میں جو کچھ خیر ہے، وہ صرف میرے نام تک محدود نہ رہے۔

اگر میں قرآن پر لکھوں تو بہتر لکھوں۔

اگر سیرت پر لکھوں تو اخلاص اور تحقیق کے ساتھ لکھوں۔

اگر الحاد کے سوالات کا جواب دوں تو علم، دلیل اور دیانت کے ساتھ دوں۔

اگر کسی انسان کو دین کی طرف بلاؤں تو نفرت کے ذریعے نہیں، حکمت کے ذریعے۔

اور اگر میری کوئی تحریر کسی انسان کو قرآن کے قریب لے جائے، سیرت پڑھنے پر آمادہ کرے، کسی شبہے کے جواب کی تلاش میں تحقیق کی طرف لے جائے یا اللہ کی معرفت کی طرف ایک قدم بڑھا دے، تو میں اللہ سے امید رکھوں گا کہ وہ اپنی رحمت سے اس خیر کو میری ماں کے لیے بھی نفع کا ذریعہ بنا دے۔

اسی لیے اگر میری کوئی تحریر آپ تک پہنچے اور آپ کو اس میں کوئی خیر محسوس ہو تو اسے صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیے گا۔ اسے کسی ایسے شخص تک پہنچا دیجیے جسے اس سے فائدہ ہو سکتا ہے، اور پھر ایک لمحے کے لیے میری ماں کے لیے دعا کر دیجیے:

"یا اللہ! جس ماں نے اس بیٹے کو پیدا کیا، جس نے اسے پڑھنے، سوچنے اور لکھنے کا موقع دیا، جس نے اس کے لیے دعائیں کیں، جس نے اس کی مشکلات میں اسے حوصلہ دیا، جس نے اس کے علم اور دین سے متعلق کاموں پر خوشی محسوس کی، اس کے اس بیٹے کی کوششوں میں جو بھی خیر ہے، اس میں سے اپنی رحمت کے مطابق اس ماں کو بھی حصہ عطا فرما۔”

یا

"اے اللہ! جس ماں نے یہ بیٹا پیدا کیا، پالا، تربیت دی، اس کے ذہن کو سوال کرنے، کتاب پڑھنے اور خیر کے لیے لکھنے کی صلاحیت دی، تو اس ماں پر رحم فرما۔ اس کی مغفرت فرما۔ اس کی قبر کو نور سے بھر دے۔ اس کے درجات بلند فرما۔ اور اگر اس کے بیٹے کی یہ کوشش تیرے ہاں خیر ہے تو اپنی رحمت سے اس خیر کا حصہ اس کی ماں کو بھی عطا فرما۔”

یہ میرے لیے رسمی تعزیت سے کہیں زیادہ قیمتی ہوگا۔

میں اپنی ماں کو شہرت نہیں دے سکتا، نہ اسے کسی بڑے نام کی ضرورت ہے۔

اسے اب صرف اللہ کی رحمت کی ضرورت ہے۔

اور میں اسی رحمت کا امیدوار ہوں۔

میں چاہتا ہوں کہ اگر اللہ نے میری والدہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائی تو وہ وہاں سے اپنے بیٹے کے لیے بھی دعا کرے۔

اور میں اللہ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ہمیں دوبارہ ملا دے۔

وہاں نہ کوئی آخری فون کال ہوگی، نہ ’’بعد میں بات کرتا ہوں‘‘ کا خوف، نہ قبر، نہ جدائی۔

صرف ملاقات ہوگی۔

ہم دنیا میں سمجھتے رہے کہ موت رشتے کو ختم کر دیتی ہے، مگر شاید حقیقت یہ ہے کہ موت رشتے کی شکل بدل دیتی ہے۔

پہلے ماں میرے لیے دعا کرتی تھی، اب میں اس کے لیے دعا کروں گا۔

پہلے میں اپنی پریشانی اس کے پاس لے کر جاتا تھا، اب اللہ کے پاس لے کر جاؤں گا۔

پہلے وہ کہتی تھی، ’’اللہ سب ٹھیک کر دے گا‘‘، اب میں اپنے رب سے کہوں گا:

’’یا اللہ، میری ماں کے لیے سب ٹھیک کر دے۔‘‘

یہی شاید اس جدائی کا سب سے مشکل سبق ہے۔

میں آج اپنی والدہ کے غم کو کسی فلسفے میں مکمل طور پر بیان کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

ابھی میں صرف ایک بیٹا ہوں، جس کی ماں دو دن پہلے دنیا سے گئی ہے۔

میں اب بھی کبھی موبائل اٹھا سکتا ہوں اور ایک لمحے کے لیے سوچ سکتا ہوں کہ مما کو فون کر لوں۔

پھر یاد آئے گا کہ اب اس نمبر کے دوسری طرف وہ آواز نہیں ہوگی۔

میں کسی نئی بات پر رک سکتا ہوں کہ یہ ماں کو بتاؤں گا۔

پھر یاد آئے گا کہ اب وہ میری بات سننے کے لیے فون نہیں اٹھائیں گی۔

میں کسی پرانی پوسٹ پر ان کا کمنٹ دیکھ سکتا ہوں اور چند لمحوں کے لیے اس دنیا میں واپس جا سکتا ہوں جہاں وہ زندہ تھیں۔

پھر حقیقت مجھے دوبارہ اپنی طرف کھینچ لے گی۔

شاید غم یہی ہے۔

ہم مرنے والے کے ساتھ دفن نہیں ہوتے، مگر ہمارے اندر کچھ ضرور دفن ہو جاتا ہے۔

میری ماں کے ساتھ میرے اندر کا وہ یقین بھی دفن ہوا ہے کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں ایک شخص ایسا ہے جو میرے لیے بے حساب فکر مند ہے، جسے میری خوشی اپنی خوشی، میری بیماری اپنی بیماری اور میری پریشانی اپنی پریشانی محسوس ہوتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ میری ماں نے میرے اندر کچھ چھوڑ بھی دیا ہے۔

اس کی تربیت۔

اس کی کتابوں سے محبت۔

اس کے سوال۔

اس کا حوصلہ۔

اس کی دعائیں۔

اس کی آواز میں کہی ہوئی وہ تسلیاں جو اب یاد بن کر میرے ساتھ چلیں گی۔

وہ میری نئی تحریر نہیں پڑھے گی، مگر ہماری پرانی گفتگوؤں کے بیج میرے الفاظ میں زندہ رہ سکتے ہیں۔

وہ نیا کمنٹ نہیں کرے گی، مگر پرانے الفاظ میری یادداشت میں رہیں گے۔

وہ میرے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کرے گی، مگر میں اس کے لیے ہاتھ اٹھاتا رہوں گا۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں موت رشتہ ختم نہیں کرتی بلکہ ذمہ داری بدل دیتی ہے۔

اب میری باری ہے۔

اپنی ماں کی محبت کو اپنی زندگی میں آگے لے جانے کی۔

اس کی دی ہوئی تربیت کو اپنے بچوں تک پہنچانے کی۔

اس کے اندر موجود علم دوستی کو اپنے کام میں زندہ رکھنے کی۔

اور اگر اللہ نے مجھے لکھنے کی صلاحیت دی ہے تو اسے محض شہرت کے لیے نہیں بلکہ خیر کے لیے استعمال کرنے کی۔

کیونکہ میری ماں کو میری شہرت کی ضرورت نہیں۔

اسے میرے بڑے نام کی ضرورت نہیں۔

اسے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کا بیٹا ایسا کام کرے جسے اللہ قبول فرما لے۔

اور اگر اس کام میں کوئی خیر پیدا ہو تو وہ خیر اس کی قبر تک بھی پہنچ جائے، یہ میری امید ہے۔

میں اپنی ماں کو واپس نہیں لا سکتا۔

وقت کو پیچھے نہیں موڑ سکتا۔

وہ آخری گفتگو دوبارہ نہیں کر سکتا۔

وہ آخری لمس دوبارہ محسوس نہیں کر سکتا۔

لیکن میں اس کی محبت کا جواب اپنی زندگی سے دینے کی کوشش کر سکتا ہوں۔

میں بہتر انسان بننے کی کوشش کر سکتا ہوں۔

اپنے بچوں کو وہ توجہ دینے کی کوشش کر سکتا ہوں جو ہر بچے کا حق ہے۔

علم کے ساتھ دیانت رکھنے کی کوشش کر سکتا ہوں۔

دین کے بارے میں لکھتے ہوئے اللہ سے ڈر سکتا ہوں۔

اور اپنی ماں کی دی ہوئی سوال کرنے کی جرأت کو زندہ رکھ سکتا ہوں۔

شاید یہی اس کے لیے میرا سب سے خوبصورت خراجِ عقیدت ہوگا۔

میں آج اپنی والدہ کی قبر سے واپس آ کر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ یہ کسی ادبی نمائش کے لیے نہیں لکھی گئی۔ یہ ایک بیٹے کی طرف سے اپنی ماں کے بارے میں پہلی تحریری گواہی ہے۔

اس ماں کے بارے میں جس نے اسے صرف جنم نہیں دیا، بلکہ اسے پڑھتے دیکھا، سوچتے دیکھا، سوال کرتے دیکھا، پریشان دیکھا، بیمار دیکھا، ناکام دیکھا، کامیاب دیکھا، اسے ڈانٹا، معاف کیا، تسلی دی، اس کی تحریریں پڑھیں، ان پر کمنٹ کیے اور آخری وقت تک اس کے لیے فکر کرتی رہی۔

اب وہ نہیں ہے۔

لیکن میں اللہ سے مایوس نہیں ہوں۔

میں اپنی ماں کے لیے رو رہا ہوں، مگر اس کے رب سے امید بھی رکھتا ہوں۔

میں اس کی قبر کو یاد کر کے ٹوٹتا ہوں، مگر دعا کرتے ہوئے خود کو سنبھالتا ہوں۔

اور شاید یہی میری زندگی کا نیا باب ہے۔

ایسا باب جس کا آغاز میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا، مگر جس میں مجھے اب اس کی تربیت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

ماں چلی گئی ہے۔

ماں کی تربیت نہیں گئی۔

ماں کی یاد نہیں گئی۔

ماں کی محبت نہیں گئی۔

اور اس کے لیے میری ذمہ داری بھی ختم نہیں ہوئی۔

میں اپنی ماں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس رب کے پاس گئی ہے جس کے اختیار میں ہماری ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی۔

یا اللہ!

میری ماں کو معاف فرما۔

اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔

اسے قبر کی وحشت سے محفوظ فرما۔

اس کے درجات بلند فرما۔

اس کی نیکیوں کو قبول فرما اور اس کی کوتاہیوں سے درگزر فرما۔

اسے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما۔

اسے اپنی رضا عطا فرما۔

اور اگر میرے الفاظ میں، میرے علم میں، میری تحقیق میں، میری دعوت میں، میری قرآن سے متعلق کوششوں میں، میری سیرت کے کام میں، میرے ردِ الحاد کے کام میں یا میری کسی بھی کوشش میں ذرہ بھر خیر ہے تو اپنے فضل سے اس خیر کو میری ماں کے لیے بھی نفع کا ذریعہ بنا دے۔

یا اللہ، مجھے ایسا بیٹا بنا دے جس کے اعمال اس کی ماں کے درجات بلند کرنے کا سبب بنیں۔

مجھے ایسا لکھنے والا بنا دے جس کے الفاظ لوگوں کو تیرے قریب کریں، تجھ سے دور نہ کریں۔

اور قیامت کے دن مجھے میری ماں کے ساتھ دوبارہ جمع فرما۔

اس بار جدائی کے بغیر۔

اس بار موت کے بغیر۔

اس بار کسی آخری فون کال کے خوف کے بغیر۔

اس بار کسی قبر کے کنارے کھڑے ہونے کے بغیر۔

ہمیشہ کے لیے۔

اور اگر کبھی میری کوئی تحریر آپ تک پہنچے، اگر کبھی میرے الفاظ آپ کو قرآن کے قریب لے جائیں، اگر کبھی میری تحقیق آپ کے لیے علم کا سبب بنے، اگر کبھی میری کوئی بات آپ کو رسول اللہ ﷺ کی سیرت پڑھنے پر آمادہ کرے، تو اسے صرف ایک تحریر سمجھ کر آگے نہ بڑھ جائیے گا۔

ایک لمحے کے لیے میری ماں کو یاد کر لیجیے گا۔

اس کے لیے دعا کر دیجیے گا:

’’یا اللہ، بلال کی ماں پر رحم فرما۔‘‘

مجھے رسمی تعزیت کے بہت سے الفاظ نہیں چاہییں۔

مجھے صرف دعا چاہیے۔

کیونکہ اب میں اس کے لیے دنیا کی بہت سی چیزیں نہیں کر سکتا۔ میں اسے فون نہیں کر سکتا، اس کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتا، اس کی رائے نہیں لے سکتا، اسے اپنی نئی تحریر نہیں دکھا سکتا۔

لیکن میں اس کے لیے دعا کر سکتا ہوں۔

اور آپ بھی کر سکتے ہیں۔

شاید یہی وہ آخری تحفہ ہے جو ایک زندہ بیٹا اپنی فوت شدہ ماں کو مسلسل دے سکتا ہے۔

میری ماں دنیا سے چلی گئی ہے، لیکن میری دعا باقی ہے۔

اس کی آواز خاموش ہو گئی ہے، مگر اس کی یاد باقی ہے۔

اس کا ہاتھ میرے سر سے اٹھ گیا ہے، مگر اس کی تربیت باقی ہے۔

اس کا نیا کمنٹ کبھی نہیں آئے گا، مگر اس کے پرانے الفاظ میرے پاس ہیں۔

دنیاوی زندگی میں اس کی دعاؤں کا سلسلہ میرے لیے رک گیا ہے، مگر اب میری دعاؤں کا سلسلہ اس کے لیے شروع ہونا چاہیے۔

کچھ رشتے قبر پر ختم نہیں ہوتے۔

وہ اپنی شکل بدل لیتے ہیں۔

ماں دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے، مگر بیٹا اس کے بعد بھی اس کا بیٹا رہتا ہے۔

فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ پہلے ماں آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بیٹے کے لیے دعا کرتی تھی، اب بیٹا آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر ماں کے لیے دعا کرتا ہے۔

میں آج اپنی ماں کے لیے ہاتھ اٹھا رہا ہوں اور دل میں صرف ایک دعا ہے:

یا اللہ، جس ماں نے مجھے دنیا میں تیری نعمت بنا کر دیا، تو اسے اپنی رحمت میں وہ مقام عطا فرما جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔

اسے اپنی رضا عطا فرما۔

اس کی قبر کو نور سے بھر دے۔

اس کے درجات بلند کر دے۔

اور مجھے ایسا بیٹا بنا دے کہ قیامت کے دن جب میں اپنی ماں کے سامنے کھڑا ہوں تو میرے رب کی رحمت ہم دونوں کو اپنے دامن میں لے لے۔

ہم ایک دوسرے کے لیے قبول کر لیے جائیں۔

اور پھر کبھی جدا نہ ہوں۔

آمین یا رب العالمین۔

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Loading