سوال:-آپ کہتے ہیں کہ موت سے نہ ڈرو مگر مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے!۔۔۔حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

سوال:-آپ کہتے ہیں کہ موت سے نہ ڈرو مگر مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے!

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ )جواب:-آپ یوں سمجھو کہ موت نیند کا ہی نام ہے ۔ جیسے انسان تھکا ہوا ہوتا ہے اور اُسے اچھی نیند مل جائے تو وہ خوش ہو جاتا ہے ، اسی طرح زندگی کی محنتوں سے ایک گہری نیند آ جائے گی ۔ تھکاوٹ دُور ہو جائے گی ۔ موت کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اذیت ہے ۔ موت کا مطلب ہے کہ اطمینان سے انسان قدرت کی گود میں جا کے سو گیا ۔ بڑے آرام سے ۔ موت سے ڈرنے والی کوئی بات نہیں ہے ۔ آپ کو یہ بتاٶں کہ یہاں ہم بچوں کے پاس ہوتے ہیں ، وہاں ماں باپ کے پاس چلے جاتے ہیں ، بزرگوں کے پاس ۔ یہاں ہم اللہ تعالیٰ کے محبوبؐ کے محبوبوں کے ساتھ ملتے ہیں ، آگے جا کے اللہ کے محبوبؐ سے مل جائیں گے ۔ یہاں اُن ہستیوں کے آستانوں پر جاتے ہو ۔ قبروں پر جاتے ہو اور وہاں صاحبِ مزار کے پاس چلے جائیں گے ۔ پھر یہ کہ وہ علاقہ زیادہ آباد ہے

یہ علاقہ اتنا آباد نہیں ہے جتنا وہ علاقہ ہے ۔ یہاں یہ زندگی کا ایک جزو سا ہے ، جزو کا بھی جزو ہے ۔ وہاں پر بے شمار لائف ہے ۔ سارا جتنا علم آپ نے پڑھا ہے ، پیغمبر ، پیر ، ولی ، درویش ، اور مردانِ خدا سارے اُدھر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ آدم علیہ السلام سے لے کے اللہ کے محبوبؐ تک سارے ۔ جہاں مرضی آپ جاوء وہاں پر، رونقیں لگی ہوئی ہیں ۔ اس لیے گھبرانے والی بات نہیں ہے ۔ وہاں انسان اکیلا نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:-

قبر کا عذاب وغیرہ جو ہے؟

جواب:-

*قبر کا عذاب مسلمان کے لیے نہیں ہے ۔ یہ درمیان والا واقعہ آپ نکال ہی دو ۔ مسلمان کا سفر اللہ تعالیٰ کے ہاں سیدھا ہی ہے ۔ یہ زندگی ہے جس آپ رہ رہے ہیں ، یہی عذاب ہے ۔ اس میں جو اذیت ہوتی ہے یہی قبر ہوتی ہے ۔ انسان سوتا ہے تب بھی پریشانی ہوتی ہے ، جو اندر لگی ہوئی ہے یہی قبر ہے ۔ وہاں قبر کا کیا ہونا ہے

کہتے ہیں کہ قبر تنگ ہوتی ہے ۔ اُدھر آپ نے فُٹ بال کھیلنی ہے؟ پھر کہتے ہیں کہ تاریک ہوتی ہے آنکھیں تو ہیں نہیں ، روشنی کدھر سے ہونی ہے

یہ قبر کا تصور اور ہی ہے ۔ یہاں زندگی میں ہم بتا رہے ہیں کہ قبر تنگ ہوتی ہے تا کہ تم لوگ تھوڑا ڈرتے رہو ۔ اصل قبر جو ہے وہ اور واقعہ ہے

قبر اُس مدت کا نام ہے جو مرنے اور اُٹھانے کے درمیان ہے ۔ یہ جگہ نہیں ہے ، ایک مدت ہے ۔ مسلمان کے لیے وہ عرصہ اچھا ہے

ہم نے دین نہیں چھوڑنا ، لہٰذا ہماری قبر آج سے کشاده ہے ۔ دنیا کے سارے مسلمان اگر اسلام کو چھوڑ جائیں تو بھی ہم نے نہیں چھوڑنا ۔ فیصلہ ہو گیا ، ہماری قبر آزاد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو 31…………… صفحہ نمبر 194 ، 195 ، 196)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

Loading