ترکی میں یہ کوئی عام مجسمے نہیں :

ترکی میں یہ کوئی

عام مجسمے نہیں :

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ترکی کے جنوب مشرق میں ایک بلند و بالا پہاڑ کی چوٹی پر پتھر کے کچھ ایسے چہرے موجود ہیں جنہیں دیکھ کر پہلی نظر میں یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ انسانی ہاتھوں کی تخلیق ہیں۔ کسی کا چہرہ ٹوٹ چکا ہے، کسی کی ناک غائب ہے، کسی کی آنکھیں صدیوں کی بارشوں اور برف باری سے گھس گئی ہیں، لیکن ان کے چہروں پر آج بھی ایک عجیب سی شان باقی ہے۔ یہ عام مجسمے نہیں بلکہ ایک ایسی سلطنت کی یادگار ہیں جو دو ہزار سال پہلے دنیا کے نقشے پر موجود تھی اور جس کے ایک بادشاہ نے اپنی یاد کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کی خاطر پورے پہاڑ کو ایک عظیم الشان یادگار میں بدل دیا تھا۔

اس مقام کا نام **کوہِ نمرود (Mount Nemrut)** ہے، جو ترکی کے صوبہ آدیامان میں واقع ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 2,150 میٹر کی بلندی پر موجود اس پہاڑ کی چوٹی پر آج بھی ایسے دیوہیکل مجسموں کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں جن کی اصل بلندی تقریباً آٹھ سے دس میٹر تھی۔ یہ مجسمے پہلی صدی قبل مسیح میں بنائے گئے تھے، یعنی ان کی عمر دو ہزار سال سے بھی زیادہ ہے۔ ان کی تعمیر کا حکم ایک ایسی سلطنت کے بادشاہ نے دیا تھا جس کا نام آج بہت کم لوگوں نے سنا ہوگا۔

اس سلطنت کو **کوماجینی (Commagene)** کہا جاتا تھا۔ یہ ایک نسبتاً چھوٹی مگر اہم بادشاہت تھی جو یونانی اور ایرانی تہذیبوں کے سنگم پر واقع تھی۔ سکندر اعظم کی سلطنت کے بکھرنے کے بعد اس خطے میں مختلف حکومتیں ابھریں اور کوماجینی بھی انہی میں سے ایک تھی۔ اس کے حکمران اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے مشرق اور مغرب کی طاقتوں کے درمیان نہایت احتیاط سے تعلقات قائم رکھتے تھے۔ اسی سلطنت کا ایک بادشاہ انطیوخس اوّل تھا، جس نے تقریباً 69 سے 34 قبل مسیح تک حکومت کی۔

انطیوخس محض ایک عام حکمران کی حیثیت سے یاد نہیں رہنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے خاندان کو ایرانی بادشاہوں اور سکندر اعظم کے شاہی سلسلے سے جوڑتا تھا۔ اس کے نزدیک اس کی بادشاہت صرف سیاسی اقتدار نہیں بلکہ ایک مقدس حیثیت بھی رکھتی تھی۔ چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ ایک ایسی یادگار تعمیر کی جائے جہاں اس کی اپنی شبیہ قدیم دیوتاؤں کے ساتھ موجود ہو اور آنے والی نسلیں اسے محض ایک بادشاہ نہیں بلکہ ایک غیر معمولی شخصیت کے طور پر یاد رکھیں۔

اس مقصد کے لیے اس نے ایک بلند پہاڑ کا انتخاب کیا۔ یہاں پتھروں کے بڑے بڑے ٹکڑے تراش کر انسانی شکلیں بنائی گئیں۔ ان میں بادشاہ انطیوخس کے علاوہ زیوس، اپولو، ہرکولیس اور دیگر دیوتاؤں کی نمائندگی کرنے والے مجسمے شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دیوتاؤں کی شناخت صرف یونانی روایات سے نہیں لی گئی تھی بلکہ ان میں ایرانی مذہبی تصورات بھی شامل کیے گئے تھے۔ گویا اس پہاڑ پر پتھر کی صورت میں دو قدیم تہذیبیں ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھیں۔

ان دیوہیکل شخصیات کے ساتھ عقاب اور شیر کے مجسمے بھی بنائے گئے تھے۔ عقاب آسمانی طاقت اور شاہی اقتدار کی علامت سمجھا جاتا تھا، جبکہ شیر قوت اور حفاظت کی نمائندگی کرتا تھا۔ مجسموں کو پہاڑ کی مشرقی اور مغربی سمتوں میں اس طرح ترتیب دیا گیا کہ وہ دور سے آنے والوں کو بھی اپنی عظمت کا احساس دلائیں۔ ان کی تعمیر میں استعمال ہونے والے بعض پتھروں کا وزن کئی ٹن تھا۔ اتنی بلندی پر بھاری پتھر پہنچانا، انہیں تراشنا اور پھر درست ترتیب سے نصب کرنا اس زمانے کی انجینئرنگ کا غیر معمولی کارنامہ تھا۔

لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ مجسمے اتنے بڑے تھے اور باقاعدہ بیٹھنے کی حالت میں بنائے گئے تھے تو آج ان کے سر زمین پر الگ کیوں پڑے ہیں؟

اصل میں یہ سر کبھی ان کے عظیم الشان جسموں کے اوپر نصب تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ زلزلوں، موسم کی سختیوں اور دیگر ممکنہ نقصانات کے باعث ان کے سر جسموں سے جدا ہوکر نیچے آ گرے۔ آج سیاح جب کوہِ نمرود پہنچتے ہیں تو انہیں ایک طرف پتھر کے بڑے بڑے جسم اور دوسری طرف ان سے الگ پڑے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں۔ یہی منظر اس مقام کو دنیا کے دوسرے آثارِ قدیمہ سے منفرد بناتا ہے۔ بعض چہروں پر پڑی گہری دراڑیں اس طویل زمانے کی گواہ ہیں جو ان پتھروں پر گزر چکا ہے۔

تاہم کوہِ نمرود کا سب سے حیران کن پہلو ابھی باقی ہے۔

ان مجسموں کے پیچھے پہاڑ کی چوٹی پر چھوٹے چھوٹے پتھروں کا ایک بہت بڑا مصنوعی ٹیلہ موجود ہے۔ یہ تقریباً پچاس میٹر بلند اور ایک سو پینتالیس میٹر قطر پر مشتمل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عام پتھروں کا ڈھیر نہیں بلکہ ایک شاہی مقبرے سے متعلق تعمیر ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بادشاہ انطیوخس نے اپنی آخری آرام گاہ اسی مقام پر بنوانے کا ارادہ کیا تھا اور ممکن ہے کہ اس کی تدفین بھی یہیں ہوئی ہو۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ **ایک صدی سے زیادہ عرصے کی آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کے باوجود بادشاہ کا اصل تدفینی کمرہ ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا۔**

ماہرین نے اس مقام کا بار بار جائزہ لیا، مختلف طریقوں سے اندرونی ساخت سمجھنے کی کوشش کی، لیکن پتھروں کے اس عظیم ڈھیر کے اندر بادشاہ کی قبر کہاں ہے، اس بارے میں حتمی جواب آج بھی موجود نہیں۔ یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ اس کے اندر کون سی اشیا محفوظ ہیں یا پھر وہاں واقعی بادشاہ کی باقیات موجود ہیں بھی یا نہیں۔ اسی غیر یقینی صورت حال نے کوہِ نمرود کو محض ایک تاریخی یادگار کے بجائے آثارِ قدیمہ کے ایک دلچسپ معمہ میں بدل دیا ہے۔

اس پہاڑ پر ایک اور حیران کن چیز بھی ملی ہے۔ پتھر کی ایک تختی پر شیر کی شبیہ بنائی گئی ہے جس کے ساتھ ستاروں اور سیاروں کی علامتیں دکھائی دیتی ہیں۔ اسے عام طور پر **شیر کا زائچہ (Lion Horoscope)** کہا جاتا ہے۔ بعض محققین اسے 62 قبل مسیح کے ایک مخصوص فلکیاتی منظر سے جوڑتے ہیں۔ اس تختی کی تشریح اور اس کی تاریخی اہمیت پر تحقیق ہوتی رہی ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس سلطنت کے حکمرانوں کے نزدیک آسمانی علامتیں، مذہبی عقائد اور شاہی اقتدار آپس میں گہرا تعلق رکھتے تھے۔

کوہِ نمرود کی ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ صدیوں تک یہ عظیم یادگار بیرونی دنیا کی توجہ سے تقریباً اوجھل رہی۔ انیسویں صدی میں اس مقام نے یورپی محققین کی توجہ حاصل کی اور 1881 کے بعد یہاں کے مجسموں اور کتبوں پر باقاعدہ تحقیق شروع ہوئی۔ ان تحریروں اور مجسموں کی مدد سے ماہرین نے کوماجینی سلطنت، اس کے حکمرانوں اور ان کے مذہبی تصورات کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کیں۔

1987 میں یونیسکو نے کوہِ نمرود کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا۔ آج دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں، خاص طور پر طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت، جب سورج کی روشنی ان قدیم پتھریلے چہروں پر پڑتی ہے تو ان کی ساخت، دراڑیں اور خاموش تاثرات اور بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔

اس پوری داستان میں سب سے دلچسپ بات بادشاہ انطیوخس کی وہ خواہش ہے جس کے لیے اس نے اتنی عظیم تعمیر کروائی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ آنے والی نسلیں اسے فراموش نہ کر سکیں۔ اس نے اپنے مجسمے دیوتاؤں کے ساتھ بنوائے، پہاڑ کی چوٹی پر اپنا مقدس مقام قائم کیا اور اپنی یادگار کو اتنا بڑا بنایا کہ صدیوں تک قائم رہے۔

دو ہزار سال گزر گئے۔ اس کی سلطنت ختم ہوگئی، اس کے محل مٹ گئے، اس کے جانشین تاریخ کے صفحات میں گم ہوگئے اور اس کے مجسموں کے سر بھی اپنے جسموں سے جدا ہو گئے۔ لیکن اس بادشاہ کی ایک خواہش کسی حد تک پوری ضرور ہوئی۔ آج بھی ہزاروں میل دور بیٹھے لوگ اس کے بارے میں پڑھ رہے ہیں، اس کی بنوائی ہوئی یادگار دیکھ رہے ہیں اور اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ آخر اس عظیم پتھریلے ٹیلے کے اندر کیا چھپا ہوا ہے۔

ایک بادشاہ جس نے اپنی زندگی میں آسمان کے قریب اپنا مقام بنوانا چاہا، دو ہزار سال بعد بھی پتھروں کی صورت میں اسی پہاڑ پر موجود ہے۔ لیکن جس قبر کو اس نے اپنی آخری آرام گاہ بنانا چاہا تھا، اس کا دروازہ آج تک دریافت نہیں ہو سکا۔

دعا کا طالب

محمد عظیم حیات

لندن

#funpaaray #history #turkey

ترکی کے جنوب مشرق میں ایک بلند و بالا پہاڑ کی چوٹی پر پتھر کے کچھ ایسے چہرے موجود ہیں جنہیں دیکھ کر پہلی نظر میں یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ انسانی ہاتھوں کی تخلیق ہیں۔ کسی کا چہرہ ٹوٹ چکا ہے، کسی کی ناک غائب ہے، کسی کی آنکھیں صدیوں کی بارشوں اور برف باری سے گھس گئی ہیں، لیکن ان کے چہروں پر آج بھی ایک عجیب سی شان باقی ہے۔ یہ عام مجسمے نہیں بلکہ ایک ایسی سلطنت کی یادگار ہیں جو دو ہزار سال پہلے دنیا کے نقشے پر موجود تھی اور جس کے ایک بادشاہ نے اپنی یاد کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کی خاطر پورے پہاڑ کو ایک عظیم الشان یادگار میں بدل دیا تھا۔