پاکستان کے پرچم اور ترانے کا احترام ہمیشہ قلوب میں رہے گا ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سہیل آفریدی کا یہ بیان کہ "ہمارے بعد کی نسلیں قومی ترانے کے لیے کھڑی نہیں ہوں گی اور نہ ہی پاکستان کا جھنڈا اٹھائیں گی” انتہائی بزدلانہ، غیر ذمہ دارانہ اور ریاست کی بنیادوں پر ڈائریکٹ حملہ ہے۔ ایک آئینی عہدے، خاص طور پر ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان شخص کی زبان سے ایسے الفاظ کا نکلنا نہ صرف اس کے حلف کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ کروڑوں ان پاکستانیوں کی قربانیوں کی شدید تذلیل ہے جنہوں نے اس سبز ہلالی پرچم کی سربلندی اور قومی ترانے کے احترام کے لیے اپنا خون بہایا ہے۔ قومی پرچم اور ترانہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ 24 کروڑ عوام کی وحدت، خودداری اور شاندار تاریخ کی علامت ہیں، اور ان کی نفی کرنا دراصل قومی وجود کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے
یہ انتہائی تشویشناک اور افسوسناک امر ہے کہ ایک صوبائی سربراہ ہونے کے ناطے سہیل آفریدی نے کبھی ان دہشت گردوں اور باطل قوتوں کی کھل کر مذمت نہیں کی جو روزانہ کی بنیاد پر ہمارے بازاروں، مساجد، حجروں اور چیک پوسٹوں پر معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خون میں نہلا رہے ہیں۔ جب ریاست کے اہم ذمہ دار دہشت گردی کے اس ناسور پر چپ کا روزے رکھ لیں اور سیکیورٹی فورسز کے شہداء کے جنازوں میں شرکت تک گوارا نہ کریں، تو اس سے نہ صرف ملک دشمن عناصر کے حوصلے بلند ہوتے ہیں بلکہ عوام میں بھی ایک شدید بے چینی اور محرومی کا احساس جنم لیتا ہے۔ ایک اعلیٰ آئینی عہدیدار کا فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے بجائے یوں نظریں چرانا اس کی ترجیحات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے
پاکستان میں جمہوریت اور آزادی اظہارِ رائے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی کو ملک کی سلامتی، سالمیت اور قومی علامات کی تذلیل کی نام نہاد ‘شترِ بے مہار’ آزادی دے دی جائے۔ دنیا کے کسی بھی مہذب اور آئین پسند ملک میں کسی بھی عہدیدار کو یہ اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ ریاست کو توڑنے، نفرت پھیلانے یا قومی پرچم و ترانے کے خلاف ہرزہ سرائی کرے۔ آزادی کا یہ غلط استعمال دراصل انتشار پسندی اور منفی سیاست کا شاخسانہ ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف عوام میں مایوسی پھیلا کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا ہے
وقت کا تقاضا ہے کہ ایسے گمراہ کن اور ریاست مخالف بیانات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے اور آئین و قانون کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ہمارے بعد آنے والی نسلیں نہ صرف اس پرچم کو فخر سے لہرائیں گی بلکہ قومی ترانے کے احترام میں ہمیشہ سر بلند رکھیں گی، کیونکہ یہ وطنِ عزیز لاکھوں شہداء کی دعاؤں اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو عناصر اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک میں انارکی اور نفرت کا بیج بونا چاہتے ہیں، ان کا آئینی و قانونی دائرے میں محاسبہ کیا جائے تا کہ ریاست کا وقار اور سلامتی ہمیشہ قائم و دائم رہے۔