سورہ یٰسین کو قرآن کا دل کیوں کہا گیا ہے؟

سورہ یٰسین کو قرآن کا دل کیوں کہا گیا ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) دنیا میں کوئی طاقت کوئی عالم کوئی مفکر ایسا نہیں تھا جس نے کبھی یہ کہا ہو، سوچا ہو کہ تمام ستارےconstellation  میں ہیں اور ان میں حرکت ہے،؟ یعنی اس قرآن سے پہلے کسی کتاب نے کسی انسان نےیہ  بات اشارتاََ نہیں کی کہ (في فلك يسبحون) ان میں حرکت ہے، ایک ہی بات کافی ہے خُدا کو ماننے کیلئے کہ یار یہ کیسے ہو سکتا ہے، یعنی ابھی تک تو 2 ہزار یا 3 ہزار سال گزرنے کے بعد، we were confused کہ ہم کس کو سچا کہیں، ایک تو یہ بات کہ تمام ستارے چل رہے ہیں (کُلٌّ یَّجْرِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی) ایک وقت مقررہ تک، دوسری بات اس سے بھی مشکل تھی کے ( كُلٌّ فِىۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ) کہ ہر ایک اپنے اپنے فلک میں تیر رہا ہے۔it is so impossible to say کہ میرا نہیں خیال کہ کوئی سیانا بندہ ہو یہ آیت پڑھے(سوائے اسکے جس نے یہ بنایا تھا اسکو یہ پتا تھا) تو خُدا کے وجود پہ سورہ یٰسین کی یہ آیات حتمی دلائل رکھتی ہیں..

لیکچر:سوال و جواب  سورہ یاسین