ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ عورت جب انگریزوں کے خیمے میں داخل ہوتی تھی تو کوئی اس پر شک بھی نہیں کرتا تھا، کیونکہ اس کے ہاتھ میں پھولوں کی ٹوکری ہوتی تھی، لیکن اسی ٹوکری میں وہ خبریں چھپی ہوتی تھیں جن سے سلطنتوں کے فیصلے ہوتے تھے۔
آج ہم آپ کو ٹیپو سلطان کے سب سے خفیہ ہتھیار کی کہانی سناتے ہیں، ایک ایسی عورت جس کا نام تاریخ کی کتابوں میں نہیں، لیکن میسور کے بوڑھوں کی زبان پر آج بھی زندہ ہے۔ اس کا نام بی بی مریم بتایا جاتا ہے۔
🟡ٹیپو سلطان کون تھا؟ وہ صرف ایک بادشاہ نہیں تھا۔ وہ ایک سائنسدان تھا، ایک سپہ سالار تھا، اور سب سے بڑھ کر ایک بہت بڑا منتظم تھا۔ اس نے اپنے دور میں راکٹ بنائے تھے، جنہیں دیکھ کر انگریز بھی حیران رہ گئے تھے۔ لیکن ٹیپو کا سب سے بڑا ہتھیار اس کی جاسوسی کا نظام تھا۔ ٹیپو نے اپنے باپ حیدر علی سے ایک بات سیکھی تھی کہ تلوار سے پہلے خبر جیتتی ہے۔ حیدر علی نے اپنے دربار میں ایک محکمہ بنایا تھا جسے اخبار نویسی کہا جاتا تھا۔ ٹیپو نے اسی محکمے کو بہت بڑا بنا دیا۔ اس کے جاسوس ہر جگہ ہوتے تھے۔ مدراس میں، بمبئی میں، حیدرآباد میں، یہاں تک کہ کلکتہ میں بھی۔ ان جاسوسوں میں کئی ہندو، کئی مسلمان، کئی عورتیں بھی تھیں۔ ٹیپو کے دربار میں مذہب نہیں دیکھا جاتا تھا، قابلیت دیکھی جاتی تھی۔ اس کی فوج میں بھی ہندو سپہ سالار تھے، جیسے پورنیا۔ اس کے خزانے کا منتظم بھی ہندو تھا۔
کہتے ہیں کہ تیسری میسور جنگ کے دوران جب لارڈ کارنوالس نے سری رنگا پٹم کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو انگریزوں کا کیمپ بہت بڑا تھا۔ اس کیمپ میں ہزاروں سپاہی، توپیں، گھوڑے تھے۔ اس کیمپ کے اندر جانا ناممکن تھا۔ اسی کیمپ کے باہر ایک ہندو عورت پھول بیچا کرتی تھی۔ اس کا نام مریم تھا، لیکن لوگ اسے بی بی مریم کہتے تھے۔ وہ بہت غریب تھی۔ وہ روز صبح تازہ پھول توڑ کر ٹوکری میں رکھتی اور انگریز افسروں کے خیموں میں جاتی۔ انگریزوں کی عورتیں اس سے پھول خریدتیں۔ انگریز افسر اسے پھول والی کہہ کر بلاتے۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ پھول والی ٹیپو سلطان کی سب سے قابل اعتماد جاسوس ہے۔ وہ کیسے خبریں پہنچاتی تھی؟ اس کا طریقہ بہت ذہین تھا۔ وہ پھولوں کی مالا میں ایک خاص گرہ لگاتی۔ ایک گرہ کا مطلب ہوتا کہ انگریز آج حملہ کریں گے۔ دو گرہوں