ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ یہ مدحت سرکار مدینہ کی گھڑی ہے ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔مشتاق شباب )سرکار دو عالم سرتاج انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے منسوب کوئی بھی محفل انور و تجلیات کے حوالے سے ہمیشہ روشن و رخشاں رہتی ہے، اہل ایمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اول بھی آپ کی ذات اور آخر بھی آپ ہی منصب نبوت پر متمکن ہوئے۔ دنیا میں مبعوث ہونے والے کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبروں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آمد کی بشارت دی اور ان میں سے ایسے بھی تھے جنہوں نے رب کائنات جل شانہ؛ کے حضور یہ دعا کی کہ آخرت کے روز انہیں بھی نبی آخر الزماں کے امتیوں میں اٹھایا جائے ۔ فرشتے ازل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت میں مصروف رہے اور تا ابد آپ کی تعریف و توصیف کرتے رہیں گے، اسی لیے ہمارا ایمان ہے کہ سرکار دو جہاں کے دربار میں محبت و عقیدت کا اظہار توشہء آخرت بن کر ہماری بخشش کا سبب بنے گا۔ ویسے تو ادبی حلقے اکثر و بیشتر دیگر ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نعتیہ مشاعروں کا اہتمام کر کے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خراج عقیدت پیش کرتے رہتے ہیں، تاہم گزشتہ روز ایک تنظیم ادراک نے اپنے دوسرے پڑاؤ میں اپنی سرگرمیوں کی ابتدا ہی نعتیہ مشاعرے سے کر کے ایک نئی روایت کا اغاز کیا۔ اس سلسلے میں خانہء فرہنگ اسلامی جمہوری ایران کے امام خمینی ہال میں محفل شعر سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کے لیے چند روز پہلے ہی سے پشاور کے اردو، پشتو اور ہند کو زبان کے شعرائے کرام کو نہ صرف دعوت نامے جاری کیے گئے تھے بلکہ بار بار یاد دہانی بھی کرائی جا رہی تھی اور مشاعرے کی کامیابی کے لیے پشاور کے ادبی حلقوں کے سرخیل ناصر علی سید، جو تنظیم ادراک کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں ذاتی طور پر فعال اور متحرک رہے جبکہ تنظیم کے صدر نیمروز قیس اور جنرل سیکرٹری مفتی آفتاب اعوان (راحم اعوان) بھی شعرائے کرام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور ان کی کوشش تھی کہ نعتیہ مشاعرہ وقت پر شروع ہو جائے. تاہم بدقسمتی سے اسی روز پشاور میں ایک سیاسی جماعت کے جلوس کی وجہ سے سڑکوں پر آمد و رفت محدود بلکہ مسدود والی کیفیت سے دوچار ہونے کی وجہ سے اکثر شعرائے کرام مشاعرے میں شرکت سے معذور رہے۔ حالانکہ ہمارے ایک دیرینہ کرم فرما، نیر سرحدی نے اسلام آباد سے بروقت پشاور پہنچ کر مقامی شعراء کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ مشاعرے کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ پشاور میں تعینات ایران کے ڈپٹی قونصل جنرل جناب حسن معظمی اور خانہء فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین چاقمی نے اس موقع پر اپنے خطابات میں ہادیء برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر گفتگو کرتے ہوئے نہ صرف فارسی زبان کے نابغہ اور مشہور عالم شعراء کرام، مولانا جلال الدین رومی، حافظ شیرازی، مولانا جلال الدین محمد بلخی، مولانا سعدی شیرازی اور علامہ محمد اقبال کے مدحت رسول میں کہے ہوئے اشعار کا حوالہ دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات بیان کیں بلکہ پشتو کے صوفی شاعر اور دانشور حمزہ بابا کے اشعار پیش اور ان کی وضاحت کر کے اہل پشاور کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔
جناب حسن معظمی نے اس موقع پر کہا کہ آج کی یہ نورانی محفل ایک ایسی ذات گرامی کی حمد و ثنا کے حوالے سے منعقد ہوئی ہے، جو ایک درخشان نور کی مانند صدیوں سے کروڑوں لوگوں کے دل و جان کو منور کر رہی ہے۔ اگر آج فارسی کے شعراء کے نام اس خطے میں گونج رہے ہیں تو اس کی وجہ صرف ان کے کلام کی ظاہری حسن و دلکشی نہیں بلکہ ہر ایک نے منفرد انداز و اسلوب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے اپنے عشق بے پناہ کا اظہار اور کائنات میں آپ کے مقام عالی کا ذکر کیا ہے۔
ڈاکٹر حسین چاقمی نے اس موقع پر کہا کہ رسول سے محبت صرف ایک دینی موضوع نہیں بلکہ لوگوں کی روح اور ان کے ادبی و روحانی شناخت کا بھی ایک حصہ ہے، دوسرے لفظوں میں عالم اسلام کا مشترکہ نقطہ اتصال، حضور سے محبت ہے۔ آج دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی ضرورت ہے۔ ایسے پیغام کی جس میں تشدد کے بجائے رحمت، تحقیر کی بجائے انسانی کرامت، دشمنی کی بجائے مکالمہ اور ظلم کی بجائے عدل ہو۔
دونوں ایرانی زعماء نے فارسی شعراء کے مدحت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہے ہوئے نعتیہ اشعار بھی پیش کیے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ نعتیہ مشاعرے میں باوجود اور بوجوہ راستے بند ہونے کے توقع سے بڑھ کر شعرائے کرام نے حصہ لیا۔ اس موقع پر جو اشعار پیش کیے گئے ان کا انتخاب پیش خدمت ہے۔