خیبرپختونخوامیں گورنرراج، تحریک انصاف کی عدالت سے لارجر بینچ بنانے کی استدعا
پاکستان(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پشاور ہائی کورٹ میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ تحریک انصاف کی عدالت سے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ درخواستوں میں فیڈریشن آف پاکستان، صدر، وزیرِ اعظم، گورنر کے پی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
دوران سماعت بیرسٹر گوہر علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کو جواز بنا کر صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ وفاقی حکومت کا ساتھ دیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیخلاف تحریک انصاف کی پشاور ہائیکورٹ سے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی، عدالت نے سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے عدالت سے ریلیف ملنے کی توقع ظاہر کردی ۔ کہا ہم عدالت میں ثابت کریں گے کہ جو کچھ ہوا غیرآئینی ہوا۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کسی بھی صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا لازمی ہوتا ہے لیکن غیرآئینی طور پر تمام اقدامات کیے گئے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر ارکان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام غیر آئینی اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ امن وامان کا قیام صوبائی حکومت کا مینڈیٹ ہے۔ یہ اقدام غیر آئینی اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ اسپیکر اور وزیراعلیٰ کو اس طرح غیر قانونی طریقہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ صوبائی حکومت کو بحال کرنے کے ساتھ وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو بازیاب کروایا جائے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صوبے میں ایک ایپکس کمیٹی ہوتی ہے۔ اپیکس کمیٹی میں صوبائی، وفاقی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی فورسز کے ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔ صوبے کے حالات، دہشت گردی اور پالیسی سازی ایپکس کمیٹی کا مینڈیٹ ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبائی حکومت بحال کی جائے، وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو بازیاب کرایا جائے اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، جبکہ گورنر راج کے لیے صوبائی حکومت کا آئینی طور پر کام کرنے سے قاصر ہونا لازم ہے۔
عدالت کا کہنا ہے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔ سلمان اکرم راجہ نے عبوری ریلیف کی درخواست پر بھی حکم جاری کرنے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لے کر حکم دیا جائے گا۔