ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سوال سیدھا ہے، مگر جواب ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زمین نے اپنے بچپن کے سارے نشان خود مٹا دیے ہیں۔ آتش فشاں، بارش، سمندر اور سرکتی ہوئی چٹانیں ساڑھے چار ارب سال سے اس کی سطح کو بار بار نیا بناتی آ رہی ہیں۔ جو پہلا دن تھا، اس کا کوئی ثبوت یہاں باقی نہیں۔
تو سائنسدانوں کے پاس ایک ہی راستہ تھا۔ کوئی ایسی چیز ڈھونڈو جسے بننے کے بعد کسی نے چھیڑا ہی نہ ہو۔
نیپچون سے بھی بہت آگے، جہاں سورج آسمان میں بس ایک تیز چمکتا نقطہ رہ جاتا ہے، برف اور چٹان کے بے شمار ٹکڑوں کی ایک چوڑی پٹی سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ یہ وہ بچا کھچا سامان ہے جو سیارے بننے کے بعد کسی کام نہ آیا اور وہیں ٹھنڈا پڑا رہ گیا۔ اس پٹی کو کوائپر بیلٹ کہتے ہیں۔
2014 میں ہبل دوربین نے اسی پٹی میں ایک ننھا سا نقطہ ڈھونڈا۔ اس کا کوئی نام نہیں تھا، بس ایک نمبر: 2014 MU69۔ اسی دوران New Horizons نام کی خلائی گاڑی پلوٹو کی طرف جا رہی تھی۔ جولائی 2015 میں پلوٹو کے پاس سے گزرنے کے بعد، November 2015 میں اس کے انجن چلائے گئے اور اس کا راستہ ایک ڈگری کے چوتھائی حصے جتنا موڑ دیا گیا۔ بس اتنا سا موڑ، اور اگلی منزل یہ نقطہ بن گئی۔
یہ نقطہ کتنا دور ہے؟ زمین سے تقریباً 6 ارب 60 کروڑ کلومیٹر۔ ہوائی جہاز سے جانا ہو تو آٹھ سو سال سے زیادہ لگیں۔ اور جب New Horizons وہاں پہنچی تو اس کا ریڈیو سگنل، جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتا ہے، زمین تک چھ گھنٹے میں پہنچتا تھا۔
1 January 2019 کو، جب زمین پر لوگ نئے سال کی مبارکبادیں دے رہے تھے، New Horizons اس چیز کے پاس سے صرف 3,500 کلومیٹر کے فاصلے سے گزری۔ رفتار تھی تقریباً 14 کلومیٹر فی سیکنڈ۔ اس رفتار سے لاہور سے کراچی ڈیڑھ منٹ سے کم میں پہنچا جا سکتا ہے۔
پہلی دھندلی تصویر میں یہ ایک لمبوتری سی چیز تھی، جیسے مونگ پھلی کا دانہ۔ پھر صاف تصویریں آئیں اور سب نے ایک ہی چیز دیکھی: دو گول گیندیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی، جیسے برف کا پتلا۔ پوری چیز تقریباً 36 کلومیٹر لمبی ہے۔ اتنی کہ موٹروے پر گاڑی میں بیس منٹ لگیں۔
مگر پہلا اندازہ غلط نکلا۔ جب خلائی گاڑی آگے نکل گئی اور اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا، تو پتا چلا کہ یہ گیندیں گول ہیں ہی نہیں۔ دونوں چپٹی ہیں۔ بڑا حصہ پراٹھے جیسا چپٹا، چھوٹا حصہ کچھ موٹا۔ سامنے سے دیکھنے پر جو گولائی لگ رہی تھی، وہ صرف زاویے کا دھوکہ تھا۔
اب اصل سوال یہ تھا کہ یہ دو حصے آپس میں جڑے کیسے؟
سیاروں کے بننے کے بارے میں سائنسدانوں کے پاس دو بڑے خیال تھے۔
پہلا خیال پرانا اور زیادہ مانا جانے والا تھا۔ اس کے مطابق شروع میں گرد اور کنکر آپس میں ٹکراتے رہے۔ ٹکر لگتی، کچھ ٹوٹتا، کچھ جڑ جاتا۔ ٹکڑے آہستہ آہستہ بڑے ہوتے گئے۔ یعنی سیاروں کے بیج ایک لمبی، شور شرابے والی دھکم پیل میں بنے۔
دوسرا خیال یہ تھا کہ کنکروں اور گرد کا ایک بادل اپنی ہی کشش سے اندر کی طرف سمٹنے لگا۔ جیسے دھوپ کی کرن میں تیرتے ذرے کسی ایک جگہ اکٹھے ہونے لگیں۔ اس طرح ٹکڑے تیزی سے بنتے ہیں، مگر نرمی سے۔ کوئی بڑی ٹکر نہیں۔
اروکوتھ کی شکل نے ان دونوں کے بیچ فیصلہ کرنے میں مدد کی۔ تین سراغ ملے۔
پہلا سراغ اس کی گردن تھی، یعنی وہ پتلی جگہ جہاں دونوں حصے ملتے ہیں۔ وہاں کوئی دراڑ نہیں۔ کوئی ٹوٹ پھوٹ نہیں۔ دونوں حصے سلامت ہیں۔
دوسرا سراغ رنگ تھا۔ دونوں حصے ایک جیسے گہرے سرخ ہیں، اور دونوں پر ایک ہی طرح کی برف ہے۔ یعنی دونوں ایک ہی محلے کے مال سے بنے، کہیں دور سے آ کر نہیں ٹکرائے۔
تیسرا سراغ سب سے دلچسپ تھا۔ دونوں چپٹے حصوں کے رخ تقریباً بالکل ایک سیدھ میں ہیں، پانچ ڈگری کے اندر۔ دو چیزیں اتفاق سے ٹکرائیں تو اتنی سیدھ میں آنا تقریباً ناممکن ہے۔
ایک منٹ رکیے۔ اصل بات صرف اتنی ہے: اگر یہ دونوں ٹکڑے زور سے ٹکراتے تو ٹوٹ جاتے یا پچک جاتے۔ وہ ٹوٹے نہیں۔ یعنی وہ آہستہ سے ملے۔
مگر "آہستہ” کتنا؟ اور یہ بات ناپی کیسے گئی؟
واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدان ولیم میک کنن (William McKinnon) اور ان کی ٹیم نے کمپیوٹر پر اروکوتھ کے دونوں حصوں جیسی نقلی چیزیں بنائیں، اور انہیں مختلف رفتاروں اور زاویوں سے آپس میں ٹکرایا۔ نتیجہ صاف تھا۔ چند میٹر فی سیکنڈ کی رفتار پر بھی ٹکر بہت نقصان دہ نکلی۔ اروکوتھ جیسی شکل صرف اس وقت بنی جب دونوں حصے اس سے بھی کم رفتار پر، اور ترچھے ہو کر ملے۔ یعنی گلی میں آہستہ چلتی سائیکل سے زیادہ تیز نہیں۔ میک کنن نے اسے یوں بیان کیا کہ یہ دونوں بس ایک دوسرے کو چھو رہے ہیں۔
ان کی تحقیق 2020 میں Science جریدے میں چھپی، اور اس میں ایک اور نتیجہ تھا۔ دونوں حصوں کی سیدھ بتاتی ہے کہ ملنے سے پہلے یہ کافی عرصے تک ایک دوسرے کے گرد گھومتے رہے۔ ایک دوسرے کی کشش نے آہستہ آہستہ دونوں کو ایک سیدھ میں کر دیا۔ پھر ان کا مدار سکڑتا گیا، دائرہ چھوٹا ہوتا گیا، یہاں تک کہ ایک دن دونوں نے ایک دوسرے کو بس چھو لیا اور وہیں رک گئے۔ جیسے دو کشتیاں گھاٹ پر آہستہ سے آ لگیں۔
اور اس کی سطح پر گڑھوں کی گنتی بتاتی ہے کہ یہ سطح تقریباً چار ارب سال یا اس سے بھی پرانی ہے۔ یعنی جڑنے کے بعد سے اسے کسی نے چھیڑا ہی نہیں۔
مجھے اس کہانی میں سب سے حیران کن بات یہ لگتی ہے کہ ایک برفیلے ٹکڑے کی گردن نے ہمیں سیاروں کی پیدائش کے بارے میں اتنا کچھ بتا دیا۔
اروکوتھ جیسے ٹکڑے ہی وہ بیج تھے جن سے آگے چل کر بڑے سیارے بنے۔ اور اروکوتھ کہتا ہے کہ یہ بیج دھکم پیل میں نہیں، ایک خاموش سمٹاؤ میں بنے۔ گرد کا بادل اپنی کشش سے اکٹھا ہوا، ٹکڑے بنے، ایک دوسرے کے گرد گھومے، اور نرمی سے جڑ گئے۔
یہ بات ابھی حتمی نہیں۔ شواہد مضبوط ہیں، مگر یہ صرف ایک چیز کا مشاہدہ ہے، اور سیاروں کے بیج کیسے بنے، یہ سوال سائنسدان آج بھی پوری طرح حل شدہ نہیں مانتے۔ پھر بھی، نیو ہورائزنز ٹیم کا کہنا تھا کہ پرانے "ٹکر اور جوڑ” والے خیال سے اروکوتھ جیسی شکل بنتی وہ سوچ ہی نہیں سکتے۔
November 2019 میں اس چیز کو باقاعدہ نام ملا: اروکوتھ (Arrokoth)۔ یہ امریکہ کے مقامی پاؤہاٹن (Powhatan) لوگوں کی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے "آسمان”۔
اگلی بار جب آپ زمین پر پاؤں رکھیں تو یہ سوچیے گا کہ جن بیجوں سے سیارے بنے، ان کا آغاز شاید کسی دھماکے سے نہیں ہوا تھا۔ ممکن ہے وہ ایک بہت پرانا، بہت ٹھنڈا اور بہت آہستہ سا ملاپ رہا ہو، جس کی ایک تصویر آج بھی نیپچون سے پرے، اندھیرے میں، بالکل ویسی کی ویسی محفوظ پڑی ہے۔
اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔