ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان کے لیے اپنی ضرورتوں، حقوق اور جائز مفادات کا خیال رکھنا فطری بات ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مفاد حقیقت کو جانچنے کا معیار بن جائے۔ انسان جس بات سے فائدہ اٹھاتا ہے، اسے درست ثابت کرنے کے لیے دلائل تلاش کرنے لگتا ہے، اور جس حقیقت سے اس کا نقصان وابستہ ہو، اس کے سامنے تاویلوں کے پردے کھڑے کر دیتا ہے۔ یوں عقل حقیقت کی تلاش کے بجائے ذاتی منفعت کی وکالت کرنے لگتی ہے۔ یہ فکری لغزش اس لیے خطرناک ہے کہ انسان بسا اوقات اپنے مفاد کی پیروی کو بھی اصول پسندی اور معقول فیصلہ سمجھتا رہتا ہے۔
مفاد بذاتِ خود قابلِ مذمت نہیں۔ انسان اپنی ضروریات پوری کرے، اپنے اہل و عیال کی کفالت کرے، محنت سے روزی کمائے اور اپنے حقوق کا تحفظ کرے تو یہ جائز اور ضروری امور ہیں۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جائز مفاد کے حصول کے لیے ناجائز ذرائع اختیار کیے جائیں، دوسروں کے حقوق پامال ہوں یا ذاتی فائدے کو حق و انصاف سے بلند کر دیا جائے۔ عقل کا امتحان یہ نہیں کہ انسان اپنے فائدے کا راستہ تلاش کر لیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ فائدہ حاصل کرتے ہوئے بھی عدل، دیانت اور اخلاقی حدود کی پابندی کرتا ہے یا نہیں۔
مفاد عقل کو مختلف طریقوں سے متاثر کرتا ہے۔ کبھی انسان اپنے فائدے کے مطابق معیار بدل لیتا ہے؛ اپنے لیے رعایت کو مجبوری اور دوسرے کے لیے اسی رعایت کو کمزوری قرار دیتا ہے۔ کبھی اپنی کامیابی کو قابلیت اور دوسرے کی کامیابی کو سفارش یا اتفاق کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ کبھی اپنے گروہ کی غلطی کو حالات کا تقاضا کہتا ہے، مگر مخالف کی معمولی لغزش کو اس کے کردار کا ثبوت بنا دیتا ہے۔ ان صورتوں میں مسئلہ صرف غلط استدلال نہیں، بلکہ ایک ہی معاملے کے لیے دو مختلف پیمانے اختیار کرنا ہے۔ عقل کی دیانت تقاضا کرتی ہے کہ اصول کا اطلاق اپنی ذات اور دوسروں پر حتی الامکان یکساں ہو۔
قرآنِ مجید انصاف کی اس ذمہ داری کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے:
’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بنو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے، خواہ وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہی ہو۔‘‘ (النساء: ۱۳۵)
اس ہدایت میں مفاد پرستی کے مقابلے میں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: حق کی گواہی دیتے وقت اپنی ذات کو استثنا حاصل نہیں۔ اگر کسی فیصلے میں ہماری اپنی غلطی ثابت ہو جائے تو اسے تسلیم کرنا، کسی معاملے میں ہمارا فائدہ دوسرے کے حق سے متصادم ہو تو حدِ انصاف میں رہنا، اور اپنے پسندیدہ شخص کے خلاف بھی درست بات قبول کرنا ایمان و عقل دونوں کی پختگی کا تقاضا ہے۔ انصاف کی حقیقی آزمائش اکثر اسی وقت ہوتی ہے جب اس کی قیمت خود ہمیں ادا کرنا پڑے۔
مفاد پرستی کا ایک لطیف پہلو یہ ہے کہ انسان ہمیشہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا؛ کبھی وہ اپنے آپ کو ہی قائل کر لیتا ہے کہ اس کا موقف درست ہے۔ وہ اپنے فائدے کے شواہد کو نمایاں کرتا ہے، نقصان دہ حقائق کو نظرانداز کرتا ہے اور اپنے فیصلے کے لیے بعد میں دلیلیں جمع کرتا ہے۔ اس لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ میرے پاس دلیل کیا ہے، بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ اگر یہی دلیل میرے مخالف کے حق میں ہوتی تو کیا میں اسے قبول کرتا؟ اگر اس فیصلے کا فائدہ مجھے نہ پہنچتا تو کیا میں پھر بھی اسے درست سمجھتا؟ یہ سوالات انسان کو اپنی پوشیدہ جانب داری پہچاننے میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے باوجود ہر ذاتی فائدے کو مشکوک سمجھنا بھی درست نہیں۔ کسی شخص کا مفاد کسی موقف کے ساتھ وابستہ ہونا بذاتِ خود اس موقف کو غلط ثابت نہیں کرتا، جیسے مخالف کا مفاد کسی دلیل کو خود بخود باطل نہیں بنا دیتا۔ اصل اہمیت دلیل، شواہد اور اصول کی ہے۔ انسان کو کسی دعوے کا جائزہ اس کی بنیاد پر لینا چاہیے، محض اس بنیاد پر نہیں کہ اسے پیش کرنے والے کو اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہی فرق منصفانہ تنقید اور شخصی بدگمانی کے درمیان حد قائم کرتا ہے۔
عقل کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے مفادات سے واقف ہو، مگر انہیں حقیقت پر حاکم نہ بنائے۔ اہم فیصلوں میں اپنے فائدے اور نقصان کے ساتھ دوسروں کے حقوق، طویل مدتی نتائج اور اخلاقی تقاضوں کو بھی سامنے رکھے۔ جہاں ذاتی مفاد فیصلہ کرنے کی غیر جانب داری کو متاثر کر سکتا ہو، وہاں مشورہ، شفافیت اور غیر جانب دار جائزہ زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ اپنی غلطی مان لینا ہمیشہ نقصان نہیں ہوتا؛ کبھی یہی اعتراف بڑے نقصان سے بچاتا اور اعتماد کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔
حاصلِ فکر یہ ہے کہ مفاد انسان کو فائدے کی طرف متوجہ کرتا ہے، مگر عقل اسے یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ہر فائدہ قابلِ حصول نہیں، ہر نقصان قابلِ اجتناب نہیں، اور ہر ذاتی کامیابی حقیقی کامیابی نہیں ہوتی۔ جب انسان مفاد کو حق کے تابع رکھتا ہے تو اس کی عقل دیانت دار رہتی ہے؛ اور جب حق کو مفاد کے تابع کر دیتا ہے تو دلیل بھی خواہش کی خدمت کرنے لگتی ہے۔
لیکن مفاد کے دباؤ کے باوجود حق پر قائم رہنے میں ایک اور قوت رکاوٹ بن سکتی ہے: خوف۔
انسان کبھی نقصان، مخالفت، محرومی یا تنہائی کے اندیشے سے وہ بات قبول نہیں کرتا جسے عقل درست سمجھ چکی ہوتی ہے۔ چنانچہ اگلی قسط میں ہم دیکھیں گے کہ عقل اور خوف کا تعلق انسان کے فیصلوں، حق گوئی اور طرزِ عمل کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔