پی آئی اے کی نئی اڑان — پاکستان کا شاہین پھر سے پر پھیلا رہا ہے!

پی آئی اے کی نئی اڑان — پاکستان کا شاہین پھر سے پر پھیلا رہا ہے!

 ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تازہ خبر کے مطابق پی آئی اے کو پہلی مرتبہ جدید بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کی پروازیں چلانے کی منظوری مل گئی ہے۔ یورپ کے لیے پروازوں کی بحالی، برطانیہ کے روٹس پر واپسی، جدید طیاروں کے انتظامات، نئے یونیفارم اور ادارے کی تنظیمِ نو، یہ سب ایسی پیش رفت ہے جس پر دل خوش ہوتا ہے۔

میں نے بھی گزشتہ دنوں پی آئی اے کی ایک بین الاقوامی پرواز پر سفر کیا، اور سچ کہوں تو کئی چیزوں نے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا!

ایئرپورٹ پر چیک اِن اسٹاف نہایت مستعد، تیز رفتار اور پروفیشنل تھا۔ سامان جمع کروانے سے لے کر بورڈنگ پاس کے اجرا تک کام بڑی خوش اسلوبی سے انجام پایا۔

جہاز کے اندر بھی ماحول بدلا بدلا محسوس ہوا۔ خاص طور پر ایئرہوسٹسز اور کیبن کریو کی ٹیم نہایت متحرک، خوش اخلاق اور ذمہ دار نظر آئی۔ مسافروں کی ضروریات کا خیال رکھا جا رہا تھا، چہروں پر مسکراہٹ تھی، گفتگو میں شائستگی تھی اور کام میں پھرتی تھی۔

اس دوران ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آیا جس نے دل کو خاص طور پر خوش کر دیا۔

میرے قریب ایک بزرگ سندھی بولنے والی خاتون سفر کر رہی تھیں۔ انہیں کسی معاملے میں پریشانی ہوئی تو دو ایئرہوسٹسز ان کے پاس آئیں اور نہایت روانی سے سندھی میں گفتگو کرکے ان کی پریشانی فوراً دور کر دی۔

یہ منظر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہماری سندھی بیٹیاں اور بہنیں بھی اس شعبے میں آگے بڑھ رہی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ حال ہی میں میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان (MDCAT) میں سندھی طلبہ کی نمایاں کامیابیوں کا بھی ذکر سننے کو ملا۔ یہ سب دیکھ کر امید بڑھتی ہے کہ سندھ کی نئی نسل تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

پی آئی اے کے اس سفر میں مجھے وہ روایتی سرکاری اداروں والی بے دلی، سستی اور بے نیازی محسوس نہیں ہوئی جس کی ماضی میں اکثر شکایتیں سننے کو ملتی تھیں۔

یقیناً ابھی سب کچھ مثالی نہیں ہوا، نہ ہی دہائیوں کے مسائل چند مہینوں میں حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن کسی بڑے ادارے کی بحالی کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب اس کے ملازمین کے رویوں، کام کرنے کے انداز اور انتظامی ترجیحات میں مثبت تبدیلی نظر آنے لگے۔

میں اس خوش آئند پیش رفت پر جناب عارف حبیب صاحب، ان کے سرمایہ کار گروپ، پی آئی اے کی انتظامیہ اور خصوصاً ان محنتی ملازمین کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں جو اس ادارے کو دوبارہ کامیاب بنانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

اس موقع پر چند مخلصانہ تجاویز بھی پیش کرنا چاہوں گا۔ یہ تنقید نہیں، بلکہ اپنی قومی ایئرلائن کو دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں کی صف میں دیکھنے کی خواہش ہے۔

 1۔ بند LCD اسکرینیں — شکایت اپنی جگہ، لیکن حقیقت بھی جان لیجیے!

سوشل میڈیا پر اکثر لوگ پی آئی اے کے طیاروں میں LCD اسکرینیں بند ہونے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ میں نے بھی اپنے حالیہ سفر میں یہ بات نوٹ کی۔

لیکن جب منزل پر پہنچ کر اس معاملے کی تفصیل معلوم کی تو پتا چلا کہ یہ مسئلہ پاکستان کی سینیٹ میں بھی زیرِ بحث آ چکا ہے!

وزارتِ ہوا بازی نے وضاحت کی تھی کہ پی آئی اے کے بوئنگ 777 طیاروں میں نصب Panasonic اور Rockwell Collins کے پرانے تفریحی نظام اپنی تکنیکی عمر پوری کر چکے ہیں اور اب متروک ہو چکے ہیں۔ انہیں جدید نظام سے تبدیل کرنے پر خاصے اخراجات آتے ہیں، اس لیے پی آئی اے نے کم خرچ متبادل کے طور پر مسافروں کو جہاز کے اندرونی Wi-Fi نیٹ ورک کے ذریعے اپنے موبائل فون پر تفریحی پروگرام دیکھنے کی سہولت فراہم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

میں نے بھی یہ سہولت استعمال کرکے دیکھی۔ نظام کام تو کر رہا تھا، لیکن ابھی اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تفریحی پروگراموں کا انتخاب محدود تھا۔

میرے خیال میں کاروباری لحاظ سے یہ فیصلہ غلط نہیں، بلکہ مالی وسائل کے بہتر استعمال کی ایک اچھی مثال بن سکتا ہے۔

اگر جہاز کے اندر Wi-Fi کے ذریعے فلمیں، ڈرامے اور دوسرے پروگرام موبائل پر دیکھے جا سکتے ہیں تو ہر نشست پر مہنگی LCD اسکرینیں لگانا لازمی نہیں۔

البتہ اس سہولت کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

میرے سفر میں اس نظام کا اعلان صرف ایک مرتبہ کیا گیا۔ بہتر ہوگا کہ پرواز کے آغاز میں واضح اعلان کیا جائے، ہر نشست پر اس کے استعمال کی مختصر اور آسان ہدایات موجود ہوں اور کیبن کریو ضرورت پڑنے پر خصوصاً بزرگ مسافروں کو موبائل کنیکٹ کرنے میں مدد فراہم کرے۔ ساتھ ہی تفریحی پروگراموں کی تعداد اور ورائٹی بھی بڑھائی جائے۔

ایک اور تجویز یہ ہے کہ جہاز کے ہر کیبن زون میں کم از کم ایک بڑی اسکرین ضرور ہو، جس پر پرواز کا نقشہ، طیارے کی موجودہ پوزیشن، طے شدہ فاصلہ اور منزل پر پہنچنے کا متوقع وقت دکھائی دیتا رہے۔

 2۔ کھانے میں تھوڑی سی بہتری، میرے جیسے مسافروں کی خوشی میں بڑا اضافہ کر سکتی ہے! 🙂 کھانے کے معیار اور پیش کرنے کے انداز میں بھی بہتری کی گنجائش ہے۔ کھانا محض اس انداز میں پیش نہ کیا جائے کہ کھانے کا وقت ہوگیا ہے تو  پلیٹ میں گوشت یا سالن رکھ دیا اور بات ختم!

کھانے کے ساتھ مناسب سلاد، تازہ پھل، بہتر معیار کی سائیڈ ڈش اور خوب صورت پریزنٹیشن مسافر کے تجربے کو بہت خوشگوار بنا سکتی ہے۔

آخرکار مہمان نوازی تو ہماری پاکستانی ثقافت کی پہچان ہے۔ کیوں نہ پی آئی اے کے کھانے میں بھی وہی خوب صورتی، ذائقہ اور اپنائیت نظر آئے؟ 🙂

اسی طرح تقریباً 14 گھنٹے کی طویل پرواز میں مسافروں کو نہ ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ جیسی بنیادی اشیا کا کوئی چھوٹا سا پیکٹ فراہم کیا گیا، نہ تازہ دم ہونے کے لیے گرم تولیے کی سہولت ملی۔

یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، لیکن طویل سفر میں ان کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ان پر نسبتاً معمولی اخراجات کرکے مسافروں کے اطمینان اور ایئرلائن کے امیج میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

3۔ عارف حبیب صاحب! یونیفارم کے ساتھ ایئرلائن کے نام پر بھی غور کیجیے!

جب آپ پی آئی اے کو نئی شناخت دے رہے ہیں، ری برانڈنگ کر رہے ہیں اور عالمی مارکیٹ میں اس کا امیج بہتر بنانا چاہتے ہیں تو کیوں نہ ایئرلائن کے نام پر بھی غور کیا جائے؟

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن ایک طویل نام ہے آج کے دور میں لفظ International  کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ دنیا کی بہت سی کامیاب فضائی کمپنیاں مختصر، آسان اور یاد رہ جانے والے ناموں سے پہچانی جاتی ہیں۔

مثلاً:

PAK AIR — پاک ایئر

PAK AIRLINES — پاک ایئرلائنز

PAKISTAN AIRLINES — پاکستان ایئرلائنز

مجھے ذاتی طور پرPAK AIR بہت خوب صورت، مختصر اور جدید نام لگتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ایئرپورٹ پر اس نام کے ساتھ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم کتنا اچھا لگے گا!

یقیناً PIA ایک تاریخی اور دنیا بھر میں پہچانا جانے والا برانڈ ہے۔ اس لیے کسی بھی تبدیلی سے پہلے اس کی تجارتی اہمیت، عالمی شناخت اور مسافروں کی رائے کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

ایک نیا نام، ایک نئی امید، ایک نئی منزل!

4۔ پی آئی اے کو صرف ہماری نہیں، ہمارے بچوں کی بھی پسندیدہ ایئرلائن بنائیے!

عارف حبیب صاحب! یہ ایک اہم بات یے۔

ہم اوورسیز پاکستانیوں کی نئی نسل کو بھی پی آئی اے کی طرف راغب کرنا ہوگا۔

ہماری نسل کے بہت سے لوگ پی آئی اے سے اس لیے سفر کرتے ہیں کہ براہِ راست پرواز مل جاتی ہے، اردو بولنے والا عملہ ہوتا ہے، پاکستانی کھانا ملتا ہے اور ایک اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے بچے؟ 🙂

وہ کیوں ترکش ایئرلائنز، ایمریٹس، قطر ایئرویز اور دوسری بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو ترجیح دیتے ہیں؟

میری تجویز ہے کہ پاکستانی نوجوانوں، خصوصاً بیرونِ ملک پیدا ہونے اور پرورش پانے والی نئی نسل سے باقاعدہ سروے کروایا جائے کہ وہ پی آئی اے سے سفر کیوں نہیں کرتے، اور کون سی سہولتیں انہیں اپنی قومی ایئرلائن کی طرف واپس لا سکتی ہیں؟

ہمیں پی آئی اے کو صرف سینئر پاکستانیوں کی ایئرلائن نہیں بنانا، بلکہ ایسی جدید، بااعتماد اور معیاری ایئرلائن بنانا ہے جسے ہمارے بچے بھی فخر سے منتخب کریں۔

وہ صرف اس لیے پی آئی اے کا ٹکٹ نہ خریدیں کہ یہ پاکستان کی ایئرلائن ہے، بلکہ اس لیے خریدیں کہ یہ واقعی ایک بہترین ایئرلائن ہے!

پی آئی اے کی تاریخ صرف خسارے، شکایتوں اور مسائل کی تاریخ نہیں۔ یہ وہ ایئرلائن بھی ہے جس نے ایک زمانے میں دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، دوسری فضائی کمپنیوں کی تربیت اور ترقی میں کردار ادا کیا اور اپنی مہمان نوازی اور سروس سے پہچان بنائی۔

وہ صلاحیت آج بھی ہمارے لوگوں میں موجود ہے۔ ضرورت صرف اچھی قیادت، پیشہ ورانہ انتظام، محنت، احتساب اور درست فیصلوں کی ہے۔

عارف حبیب صاحب!

مجھے خوشی ہے کہ آپ کے سرمایہ کار گروپ اور نئی انتظامیہ کے دور میں امید کی کرنیں نظر آنے لگی ہیں۔ یہ سفر آسان نہیں ہوگا، لیکن اگر اسی جذبے سے کام جاری رہا تو پی آئی اے ایک مرتبہ پھر پاکستانیوں کے لیے فخر کا باعث بن سکتی ہے۔

آپ سے اور آپ کی ٹیم سے ہم اوورسیز پاکستانیوں کی توقعات بہت زیادہ ہیں، اور توقعات سے بہت زیادہ ہماری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں۔

ہم دنیا کے بڑے بڑے ایئرپورٹس پر اپنے سبز ہلالی پرچم والے طیارے دیکھنا چاہتے ہیں، جن میں ہر عمر کے مسافر خوشی اور اعتماد کے ساتھ سفر کریں۔

ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ایک مرتبہ پھر پی آئی اے کے تاریخی نعرے کو حقیقت بنتا دیکھیں:

“Great People to Fly With”

ایسے بہترین لوگ جن کے ساتھ سفر کرنا خوشگوار ہو!

پی آئی اے کی کامیابی، عارف حبیب صاحب، صرف آپ کی ایک اور کمپنی کی کامیابی نہیں ہوگی۔ یہ پاکستان کے اعتماد، وقار اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے ۔

پی آئی اے۔۔۔ اڑان بھرو۔۔۔  اونچا اڑو ۔۔۔بہت اونچا !

ہم تمہیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، ۔۔۔۔۔کیونکہ تمہارے پروں پر۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے وطن کا پرچم ہے!🇵🇰

پاکستان زندہ باد!

پی آئی اے پائندہ باد!

سہیل بلخی

#کینیڈا