بلیک ہول انفارمیشن پیراڈاکس

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )1. تعارف: وہ سوال جس نے اسٹیفن ہاکنگ کو 30 سال الجھائے رکھا

فرض کریں آپ ایک کتاب بلیک ہول میں پھینک دیتے ہیں۔ کتاب ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتی ہے، کیونکہ بلیک ہول سے روشنی تک واپس نہیں آ سکتی۔ یہاں تک تو بات سیدھی ہے۔

لیکن پھر ایک عجیب بات ہوتی ہے۔ بلیک ہول خود بھی ہمیشہ نہیں رہتا۔ وہ اربوں کھربوں سال میں آہستہ آہستہ "بخارات” بن کر ختم ہو جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے:

جب بلیک ہول ہی ختم ہو گیا، تو اس کتاب میں لکھی تحریر کہاں گئی؟ کیا وہ کائنات سے ہمیشہ کے لیے مٹ گئی، یا کہیں نہ کہیں محفوظ ہے؟

یہ سوال سننے میں سادہ لگتا ہے، لیکن اس نے جدید فزکس کے دو سب سے کامیاب نظریات — آئن سٹائن کی جنرل ریلیٹیویٹی اور کوانٹم میکینکس — کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اسے بلیک ہول انفارمیشن پیراڈاکس کہتے ہیں۔

اس مضمون میں ہم اسے بالکل شروع سے، قدم بہ قدم سمجھیں گے۔

  1. پہلا قدم: فزکس میں "معلومات” کا مطلب کیا ہے؟

روزمرہ زبان میں "معلومات” کا مطلب خبر یا علم ہوتا ہے۔ لیکن فزکس میں اس کا مطلب کچھ اور ہے۔

فزکس میں معلومات = کسی نظام کی مکمل تفصیل۔ یعنی ہر ذرہ کہاں ہے، کس رفتار سے کس سمت جا رہا ہے، اور اس کی کوانٹم حالت کیا ہے۔

ایک آسان مثال: ویڈیو کو الٹا چلانا

فرض کریں آپ نے بلیئرڈ کی میز پر گیندوں کے ٹکرانے کی ویڈیو بنائی۔ اگر آپ ویڈیو الٹی چلائیں تو وہ بھی فزکس کے قوانین کے مطابق بالکل درست لگے گی۔ یعنی اگر آپ کو آخری لمحے میں ہر گیند کی جگہ اور رفتار بالکل ٹھیک معلوم ہو، تو آپ حساب لگا کر بتا سکتے ہیں کہ شروع میں گیندیں کہاں تھیں۔

یہی وہ بنیادی خیال ہے: حال کی مکمل تفصیل میں ماضی کی پوری معلومات چھپی ہوتی ہے۔

ایک اور مثال: تاش کے پتے

تاش کے پتوں کو آپ جتنا چاہیں پھینٹ لیں، پتے بکھر جاتے ہیں لیکن کوئی پتہ غائب نہیں ہوتا۔ اگر آپ ہر پھینٹ کو ریکارڈ کریں تو اصولاً اصل ترتیب واپس لا سکتے ہیں۔ معلومات بکھری ہیں، مٹی نہیں۔

  1. کوانٹم میکینکس کا سنہری اصول: معلومات کبھی نہیں مٹتیں

کوانٹم میکینکس کا ایک بنیادی ستون یہ ہے کہ کسی بند نظام کا ارتقا "یونیٹری” (Unitary) ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں:

معلومات بکھر سکتی ہیں، الجھ سکتی ہیں، چھپ سکتی ہیں — لیکن کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں۔

کتاب جلانے کی مثال

اگر آپ ایک کتاب جلا دیں تو بظاہر اس کی تحریر ختم ہو گئی۔ لیکن فزکس کہتی ہے کہ اصولاً وہ معلومات دھوئیں کے ذرات کی حرکت، راکھ کی ترتیب اور نکلنے والی حرارت کی لہروں میں موجود ہیں۔ عملاً انہیں دوبارہ جوڑ کر کتاب پڑھنا ناممکن ہے، لیکن اصولاً معلومات کائنات میں موجود رہتی ہیں۔

یہ اصول اتنا اہم کیوں ہے؟

اگر معلومات واقعی مٹ سکتی ہوں تو:

  • فزکس کی پیش گوئی کی صلاحیت کمزور پڑ جائے گی، کیونکہ ایک ہی حال سے کئی مختلف ماضی ممکن ہوں گے۔

  • کوانٹم میکینکس کی ریاضیاتی بنیاد میں دراڑ پڑ جائے گی، جو آج تک ہر تجربے میں درست ثابت ہوئی ہے۔

اسی لیے یہ مسئلہ معمولی نہیں — یہ فزکس کی بنیاد کا سوال ہے۔

  1. دوسرا قدم: بلیک ہول کیا ہے؟

بلیک ہول خلا کا وہ حصہ ہے جہاں کششِ ثقل اتنی شدید ہوتی ہے کہ ایک خاص حد کے اندر سے روشنی بھی باہر نہیں نکل سکتی۔ اس حد کو ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) کہتے ہیں۔

ایونٹ ہورائزن: واپسی کا آخری دروازہ

اسے آبشار کے کنارے کی طرح سمجھیں۔ دریا میں تیرتی کشتی آبشار سے دور ہو تو واپس جا سکتی ہے۔ لیکن ایک خاص حد کے بعد پانی کی رفتار کشتی کی زیادہ سے زیادہ رفتار سے بڑھ جاتی ہے — اب واپسی ممکن نہیں۔ بلیک ہول میں "کشتی” روشنی ہے، اور وہ حد ایونٹ ہورائزن ہے۔

"بلیک ہول کے بال نہیں ہوتے” (No-Hair Theorem)

یہ پیراڈاکس کو سمجھنے کے لیے بہت اہم نکتہ ہے۔ جنرل ریلیٹیویٹی کے مطابق باہر سے دیکھنے والے کے لیے ایک بلیک ہول کی صرف تین خصوصیات ہوتی ہیں:

  1. ماس (کمیت)

  2. برقی چارج

  3. اسپن (گردش)

بس! اور کچھ نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک بلیک ہول ایک ہاتھی کو نگل کر بنا ہو اور دوسرا اتنے ہی ماس کی کتابوں کے ڈھیر سے — تو باہر سے دونوں بالکل ایک جیسے نظر آئیں گے۔ ہاتھی کی ساری تفصیل بظاہر غائب ہو گئی۔

جب تک بلیک ہول موجود ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ "معلومات اندر بند ہیں”۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بلیک ہول خود ختم ہونے لگتا ہے۔

  1. تیسرا قدم: ہاکنگ ریڈی ایشن — بلیک ہول بھی مرتے ہیں

1974ء میں اسٹیفن ہاکنگ نے ایک انقلابی دریافت کی: جب کوانٹم میکینکس کو بلیک ہول کے کنارے پر لاگو کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بلیک ہول بہت مدھم حرارتی شعاعیں خارج کرتا ہے۔ انہیں ہاکنگ ریڈی ایشن کہتے ہیں۔

ایک آسان (مگر سادہ کی گئی) تصویر

کوانٹم میکینکس کے مطابق خالی خلا بھی حقیقت میں خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ذرات کے جوڑے لمحے بھر کے لیے بنتے اور غائب ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ایسا جوڑا ایونٹ ہورائزن کے بالکل قریب بنے، تو ایک ذرہ اندر گر سکتا ہے اور دوسرا باہر نکل جاتا ہے۔ باہر نکلنے والے ذرات ہاکنگ ریڈی ایشن بناتے ہیں، اور اس عمل میں بلیک ہول کی توانائی — یعنی ماس — آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے۔

(یہ تصویر سمجھانے کے لیے مفید ہے، لیکن ہاکنگ کا اصل حساب اس سے زیادہ پیچیدہ ریاضی پر مبنی ہے۔)

کچھ حیران کن اعداد

  • بلیک ہول کا درجہ حرارت اس کے ماس کے الٹ تناسب میں ہوتا ہے: جتنا بڑا بلیک ہول، اتنا ٹھنڈا۔

  • سورج جتنے ماس کے بلیک ہول کا ہاکنگ درجہ حرارت تقریباً 60 نینو کیلون ہے — یعنی مطلق صفر سے بس ذرا سا اوپر۔ یہ اتنا مدھم ہے کہ اسے ناپا نہیں جا سکتا۔

  • سورج جتنا بلیک ہول تقریباً 10⁶⁷ سال میں ختم ہوگا، جبکہ کہکشاؤں کے مرکز کے بڑے بلیک ہولز کو 10¹⁰⁰ سال یا اس سے بھی زیادہ لگ سکتے ہیں۔

اصل مسئلے کی جڑ

ہاکنگ کے حساب میں یہ ریڈی ایشن مکمل طور پر بے ترتیب حرارت (thermal radiation) نکلی۔ یعنی اس کا انحصار صرف بلیک ہول کے ماس، چارج اور اسپن پر ہے — اس پر نہیں کہ اندر کیا گرا تھا۔

ہاتھی والا بلیک ہول اور کتابوں والا بلیک ہول بالکل ایک جیسی ریڈی ایشن خارج کریں گے۔

  1. پیراڈاکس: تین باتیں جو ایک ساتھ سچ نہیں ہو سکتیں

اب تمام ٹکڑے جوڑیں:

  1. کتاب بلیک ہول میں گری — اس کی معلومات اندر چلی گئیں۔

  2. بلیک ہول نے صرف بے ترتیب حرارت خارج کی — جس میں کتاب کا کوئی نشان نہیں۔

  3. بلیک ہول مکمل طور پر ختم ہو گیا — پیچھے صرف وہ بے ترتیب حرارت رہ گئی۔

نتیجہ: کتاب کی معلومات کائنات سے مٹ گئیں۔

لیکن کوانٹم میکینکس کہتی ہے کہ معلومات مٹ نہیں سکتیں! تو یا ہاکنگ کے حساب میں کچھ کمی ہے، یا کوانٹم میکینکس کا بنیادی اصول غلط ہے۔ دونوں ایک ساتھ درست نہیں ہو سکتے۔

1976ء میں ہاکنگ نے یہ دلیرانہ دعویٰ کیا کہ معلومات واقعی ضائع ہو جاتی ہیں اور بلیک ہولز کوانٹم میکینکس کے اس اصول کو توڑ دیتے ہیں۔ اس پر دہائیوں تک بحث چلی۔

بیان

کہاں سے آیا

پیراڈاکس میں کردار

معلومات کبھی نہیں مٹتیں

کوانٹم میکینکس

بنیادی اصول

بلیک ہول کی صرف 3 خصوصیات ہوتی ہیں

جنرل ریلیٹیویٹی

معلومات "چھپ” جاتی ہیں

ریڈی ایشن بے ترتیب ہوتی ہے

ہاکنگ کا حساب

معلومات باہر نہیں آتیں

بلیک ہول ختم ہو جاتا ہے

ہاکنگ ریڈی ایشن

معلومات کا آخری ٹھکانہ بھی ختم

  1. ممکنہ جوابات: سائنسدانوں نے کیا تجویز کیا؟

اس مسئلے کے کئی ممکنہ حل پیش کیے گئے۔ آسانی کے لیے انہیں چار گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

جواب 1: معلومات واقعی ضائع ہو جاتی ہیں

  • یہ ہاکنگ کا ابتدائی موقف تھا۔

  • آج بھی سر راجر پنروز اسی رائے کے حامی ہیں۔ ان کے خیال میں کوانٹم میکینکس کو گریویٹی کی موجودگی میں بدلنا پڑے گا۔

  • مسئلہ: یہ کوانٹم میکینکس کی بنیاد سے ٹکراتا ہے، اور اس کے کچھ ریاضیاتی نتائج مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے آج اکثریت اسے قبول نہیں کرتی۔

جواب 2: معلومات ریڈی ایشن کے ساتھ آہستہ آہستہ باہر آتی ہیں

  • یعنی ہاکنگ ریڈی ایشن حقیقت میں مکمل بے ترتیب نہیں، بلکہ اس میں بہت باریک اور الجھے ہوئے پیٹرن ہیں جن میں معلومات چھپی ہیں — بالکل جلی ہوئی کتاب کے دھوئیں کی طرح۔

  • یہ آج کی اکثریتی رائے ہے، اور آگے کے حصوں میں اس کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

جواب 3: بلیک ہول مکمل ختم نہیں ہوتا (باقیات / Remnants)

  • ممکن ہے آخر میں ایک انتہائی چھوٹا سا "بچا ہوا ٹکڑا” رہ جائے جس میں ساری معلومات محفوظ ہوں۔

  • مسئلہ: ایک بہت چھوٹے ٹکڑے میں لامحدود معلومات سمونا دوسرے نظریاتی مسائل پیدا کرتا ہے، اس لیے یہ خیال زیادہ مقبول نہیں۔

جواب 4: معلومات بلیک ہول کی "سطح” پر محفوظ ہوتی ہیں

  • یہ خیال ہولوگرافک اصول سے جڑا ہے، جو اگلے حصے کا موضوع ہے۔ یہ دراصل جواب 2 کی بنیاد بھی ہے۔

  1. ایک حیرت انگیز سراغ: بلیک ہول کی اینٹروپی اور ہولوگرافک اصول

اینٹروپی کیا ہے؟

اینٹروپی کو آسانی سے یوں سمجھیں: کسی نظام کو بیان کرنے کے لیے کتنی معلومات درکار ہیں۔ جتنی زیادہ بے ترتیبی، اتنی زیادہ اینٹروپی۔

بیکن سٹائن اور ہاکنگ کی دریافت

1970ء کی دہائی میں جیکب بیکن سٹائن اور پھر ہاکنگ نے دکھایا کہ بلیک ہول کی بھی اینٹروپی ہوتی ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ یہ اینٹروپی بلیک ہول کے حجم کے نہیں، بلکہ اس کی ایونٹ ہورائزن کی سطح کے رقبے کے متناسب ہوتی ہے۔

یہ بہت عجیب ہے! عام طور پر ایک کمرے میں جتنا زیادہ حجم ہو، اتنی زیادہ چیزیں سما سکتی ہیں۔ لیکن بلیک ہول میں معلومات کی گنجائش دیواروں کے رقبے سے طے ہوتی ہے، نہ کہ اندر کی جگہ سے۔

ہولوگرافک اصول

اس سراغ سے ہولوگرافک اصول نے جنم لیا: کسی خطے کی تمام معلومات اس کی سرحدی سطح پر "لکھی” ہوئی ہو سکتی ہیں۔

مثال: آپ نے کریڈٹ کارڈ پر چمکتا ہوا ہولوگرام دیکھا ہوگا۔ وہ ایک چپٹی (دو ابعادی) سطح ہے، لیکن اس میں ایک سہ ابعادی تصویر کی پوری معلومات موجود ہوتی ہے۔ اسی طرح شاید بلیک ہول کے اندر کی ساری معلومات اس کی بیرونی سطح پر محفوظ ہوں۔

مالڈاسینا کی دریافت (1997)

خوان مالڈاسینا نے ریاضیاتی طور پر ایک خاص قسم کی کائنات کا ماڈل پیش کیا (جسے AdS/CFT کہتے ہیں) جس میں گریویٹی اور بلیک ہولز والی پوری دنیا کو اس کی سرحد پر موجود ایک عام کوانٹم نظام کے ذریعے مکمل طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔

اور عام کوانٹم نظام میں معلومات کبھی ضائع نہیں ہوتیں۔ لہٰذا اگر یہ تصویر درست ہے تو بلیک ہول میں بھی معلومات محفوظ رہنی چاہییں۔

یہ ہماری اصل کائنات کا ماڈل نہیں، بلکہ ایک "تجرباتی کائنات” ہے جس پر ریاضی آزمائی جاتی ہے — لیکن اس نے بیشتر نظریاتی طبیعیات دانوں کو قائل کر دیا کہ معلومات محفوظ رہتی ہیں۔

ہاکنگ کی شرط

1997ء میں ہاکنگ اور کِپ تھورن نے ماہرِ طبیعیات جان پریسکل سے شرط لگائی: ہاکنگ اور تھورن کا کہنا تھا کہ معلومات ضائع ہوتی ہیں، پریسکل کا کہنا تھا کہ محفوظ رہتی ہیں۔

2004ء میں ڈبلن کی ایک کانفرنس میں ہاکنگ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی رائے بدل رہے ہیں اور شرط ہار گئے ہیں۔ انہوں نے پریسکل کو وعدے کے مطابق ایک انسائیکلوپیڈیا دیا — بیس بال کا، جس سے "معلومات” جب چاہیں نکالی جا سکیں! (تھورن نے البتہ اس وقت ہار تسلیم نہیں کی۔)

  1. پیج کرو: معلومات کب اور کیسے باہر آتی ہیں؟

اگر معلومات محفوظ ہیں اور ریڈی ایشن کے ساتھ باہر آتی ہیں، تو کیسے؟ 1993ء میں ڈان پیج نے اس کا جواب ایک گراف کی صورت میں دیا جسے پیج کرو (Page Curve) کہتے ہیں۔

کوانٹم الجھاؤ (Entanglement) — ایک سادہ وضاحت

کوانٹم میکینکس میں دو ذرات اس طرح "جڑ” سکتے ہیں کہ ایک کی حالت جاننے سے دوسرے کی حالت بھی معلوم ہو جائے، چاہے وہ کتنے ہی دور ہوں۔ ہاکنگ ریڈی ایشن کا ہر باہر جانے والا ذرہ بلیک ہول کے اندر کے کسی ذرے سے اسی طرح جڑا ہوتا ہے۔

دو مختلف کہانیاں

سوچیں کہ ہم بلیک ہول سے نکلنے والی ساری ریڈی ایشن جمع کر رہے ہیں اور ناپ رہے ہیں کہ یہ اندر سے کتنی "الجھی” ہوئی ہے:

ہاکنگ کی کہانی: الجھاؤ مسلسل بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ بلیک ہول ختم ہو جاتا ہے۔ آخر میں ریڈی ایشن ایسی چیز سے جڑی رہ جاتی ہے جو اب موجود ہی نہیں — یعنی معلومات ضائع۔

پیج کی کہانی: الجھاؤ شروع میں بڑھتا ہے، لیکن بلیک ہول کی تقریباً آدھی عمر پر (جسے "پیج ٹائم” کہتے ہیں) یہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، اور آخر میں صفر ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ریڈی ایشن خود ہی مکمل معلومات اپنے اندر رکھتی ہے — کچھ ضائع نہیں ہوا۔

ایک مثال: فرض کریں ایک لفافے میں ایک خط کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھا گیا ہے اور ٹکڑے ایک ایک کر کے باہر آ رہے ہیں۔ شروع کے ٹکڑوں سے کچھ سمجھ نہیں آتا — وہ بے ترتیب لگتے ہیں۔ لیکن آدھے سے زیادہ ٹکڑے آ جانے کے بعد پیغام آہستہ آہستہ واضح ہونے لگتا ہے، اور آخر میں پورا خط جوڑا جا سکتا ہے۔

سوال یہ تھا: کیا کوئی حساب واقعی پیج کرو دیتا ہے؟ کئی دہائیوں تک اس کا جواب نہیں ملا۔

  1. ایک نیا بحران: فائر وال پیراڈاکس (2012)

جب لگا کہ معلومات کا باہر آنا طے ہو رہا ہے، تو 2012ء میں چار سائنسدانوں — المہیری، مارولف، پولچنسکی اور سُلی (AMPS) — نے ایک نیا مسئلہ اٹھایا۔

الجھاؤ کی "یک زوجگی”

کوانٹم میکینکس کا ایک اصول ہے کہ ایک ذرہ مکمل طور پر صرف ایک ہی دوسرے ذرے سے الجھ سکتا ہے۔ اسے "Monogamy of entanglement” کہتے ہیں۔

مسئلہ

  • پیج ٹائم کے بعد نکلنے والا ذرہ، معلومات باہر لانے کے لیے، پہلے نکلی ہوئی ریڈی ایشن سے جڑا ہونا چاہیے۔

  • لیکن ایونٹ ہورائزن کے ہموار رہنے کے لیے یہی ذرہ بلیک ہول کے اندر والے ساتھی سے بھی جڑا ہونا چاہیے۔

  • ایک ذرہ دونوں سے مکمل طور پر نہیں جڑ سکتا!

AMPS کا کہنا تھا کہ اگر معلومات واقعی باہر آتی ہیں، تو شاید ایونٹ ہورائزن پر ایک انتہائی گرم توانائی کی دیوار — "فائر وال” — موجود ہو، جو اندر گرنے والی ہر چیز کو جلا دے۔

لیکن یہ آئن سٹائن کے اصولِ مساوات سے ٹکراتا ہے، جس کے مطابق بڑے بلیک ہول میں گرنے والے شخص کو ایونٹ ہورائزن پار کرتے وقت کچھ خاص محسوس نہیں ہونا چاہیے۔ یوں پیراڈاکس ایک نئی شکل میں واپس آ گیا۔

  1. سب سے بڑی پیش رفت: "آئی لینڈز” (2019)

2019ء میں دو الگ الگ تحقیقی گروپوں — جیف پیننگٹن، اور المہیری، اینگل ہارٹ، مارولف اور میکسفیلڈ — نے ایک بڑا قدم اٹھایا۔ انہوں نے پہلی بار ایسا حساب کیا جس سے پیج کرو نکل آیا۔

آئی لینڈ کیا ہے؟ (سادہ وضاحت)

ان حسابات میں ایک حیرت انگیز چیز سامنے آئی۔ پیج ٹائم کے بعد جب ہم پوچھتے ہیں کہ "باہر کی ریڈی ایشن میں کیا معلومات ہیں؟”، تو ریاضی کے مطابق بلیک ہول کے اندر کا ایک حصہ بھی اس ریڈی ایشن کا حصہ شمار ہونے لگتا ہے۔ اس اندرونی حصے کو "آئی لینڈ” (جزیرہ) کہا گیا۔

یعنی ایک عجیب مگر گہری بات: بلیک ہول کے اندر کی کچھ معلومات دراصل پہلے ہی باہر کی ریڈی ایشن میں کوڈ ہو چکی ہوتی ہیں۔ اسی سے الجھاؤ کا گراف مڑ کر نیچے آتا ہے، بالکل جیسے پیج نے پیش گوئی کی تھی۔

یہ اتنا اہم کیوں ہے؟

  • یہ نتیجہ گریویٹی کے نسبتاً مانوس طریقوں سے نکلا، نہ کہ کسی مکمل نئے نظریے سے۔

  • اس نے مضبوط اشارہ دیا کہ ہاکنگ کے اصل حساب میں کچھ اہم چیزیں رہ گئی تھیں، اور معلومات واقعی محفوظ رہتی ہیں۔

لیکن ایک کمی ابھی باقی ہے

یہ حسابات بتاتے ہیں کہ معلومات باہر آتی ہیں، لیکن مکمل طور پر یہ نہیں بتاتے کہ ایک ایک ذرے کی سطح پر یہ کیسے ہوتا ہے۔ اس کے لیے کوانٹم گریویٹی کا مکمل نظریہ درکار ہے، جو ابھی تک موجود نہیں۔

  1. کیا اسے تجربے سے پرکھا جا سکتا ہے؟

  • اصل بلیک ہولز: ان کی ہاکنگ ریڈی ایشن اتنی مدھم ہے کہ آج تک کبھی ناپی نہیں جا سکی، اور قریب مستقبل میں بھی اس کا امکان بہت کم ہے۔

  • لیبارٹری میں "مصنوعی بلیک ہولز”: سائنسدانوں نے انتہائی ٹھنڈے ایٹموں کی گیس (Bose–Einstein condensate) میں ایسے نظام بنائے ہیں جہاں آواز کی لہروں کے لیے "ایونٹ ہورائزن” بنتا ہے۔ اسرائیل کے ٹیکنیون انسٹیٹیوٹ میں جیف اسٹائن ہاور کی ٹیم نے ان میں ہاکنگ ریڈی ایشن جیسی علامات دیکھیں۔ یہ ہاکنگ کے بنیادی خیال کی ایک دلچسپ جانچ ہے، لیکن اصل گریویٹی والے بلیک ہول کی معلومات کا مسئلہ ان سے حل نہیں ہوتا۔

اسی لیے یہ بحث زیادہ تر نظریاتی اور ریاضیاتی سطح پر چل رہی ہے۔

  1. آج کی صورتحال: کیا طے ہے اور کیا نہیں؟

سوال

موجودہ صورتحال

کیا بلیک ہولز ہاکنگ ریڈی ایشن خارج کرتے ہیں؟

نظریاتی طور پر وسیع اتفاق؛ اصل بلیک ہولز میں ناپی نہیں گئی

کیا معلومات محفوظ رہتی ہیں؟

اکثریت: ہاں (ہولوگرافی، AdS/CFT اور آئی لینڈز کی بنیاد پر)

کیا یہ حتمی طور پر ثابت ہو چکا؟

نہیں — یہ ابھی حل طلب مسئلہ ہے

معلومات باہر کیسے آتی ہیں؟

مکمل تفصیل نامعلوم؛ کوانٹم گریویٹی کا مکمل نظریہ درکار

کیا فائر وال موجود ہے؟

زیادہ تر ماہرین کے خیال میں غالباً نہیں، لیکن بحث جاری

کیا کوئی بڑا سائنسدان اختلاف کرتا ہے؟

ہاں — راجر پنروز اب بھی معلومات کے ضائع ہونے کے قائل ہیں

  1. پنروز کے CCC نظریے سے تعلق

یہ بحث براہِ راست ہمارے پچھلے مضمون — "بگ بینگ سے پہلے کی کائنات” — سے جڑی ہوئی ہے۔

پنروز کے کونفرمل سائیکلک کاسمولوجی نظریے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ ہر نئی کائنات کم اینٹروپی کے ساتھ "صاف” آغاز کیسے کرتی ہے۔ پنروز کا جواب یہ ہے کہ بلیک ہولز میں جانے والی معلومات ضائع ہو جاتی ہیں، اور اسی طرح پچھلی کائنات کی اینٹروپی کا بڑا حصہ "مٹ” جاتا ہے۔

لہٰذا:

  • اگر معلومات ضائع ہوتی ہیں → CCC کی یہ بنیاد مضبوط رہتی ہے۔

  • اگر معلومات محفوظ رہتی ہیں (جیسا کہ اکثریت سمجھتی ہے) → CCC کو اس سوال کا کوئی اور جواب تلاش کرنا ہوگا۔

یوں ایک بلیک ہول کا سوال پوری کائنات کے آغاز اور انجام کے سوال سے جا ملتا ہے۔

  1. خلاصہ

  • فزکس میں معلومات کا مطلب ہے کسی نظام کی مکمل تفصیل۔ کوانٹم میکینکس کہتی ہے کہ یہ کبھی مکمل طور پر نہیں مٹتی۔

  • بلیک ہول باہر سے صرف ماس، چارج اور اسپن دکھاتا ہے، باقی سب کچھ بظاہر چھپ جاتا ہے۔

  • ہاکنگ ریڈی ایشن کی وجہ سے بلیک ہول آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے، اور ہاکنگ کے اصل حساب میں یہ ریڈی ایشن معلومات سے خالی تھی — یہی پیراڈاکس ہے۔

  • ہولوگرافک اصول اور AdS/CFT نے مضبوط اشارہ دیا کہ معلومات محفوظ رہتی ہیں۔ ہاکنگ نے 2004ء میں اپنی رائے بدل لی۔

  • پیج کرو بتاتا ہے کہ معلومات بلیک ہول کی تقریباً آدھی عمر کے بعد ریڈی ایشن کے ساتھ باہر آنا شروع ہوتی ہیں۔

  • 2019ء کے آئی لینڈ حسابات نے پہلی بار یہ پیج کرو حاصل کیا — یہ اس بحث کی سب سے بڑی پیش رفت ہے۔

  • نتیجہ: معلومات غالباً محفوظ رہتی ہیں — لیکن بکھری اور الجھی ہوئی شکل میں، جیسے جلی ہوئی کتاب کی تحریر دھوئیں میں۔ پھر بھی یہ ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں، اور اس کی مکمل سمجھ کوانٹم گریویٹی کے نظریے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

  1. اپنی سمجھ جانچیں (مشقی سوالات)

  2. فزکس میں "معلومات” سے کیا مراد ہے؟ ایک مثال دیں۔

  3. No-Hair Theorem کے مطابق باہر سے بلیک ہول کی کون سی تین خصوصیات معلوم کی جا سکتی ہیں؟

  4. اگر ایک بلیک ہول کا ماس دوگنا کر دیا جائے تو اس کے ہاکنگ درجہ حرارت پر کیا اثر پڑے گا؟

  5. بلیک ہول انفارمیشن پیراڈاکس کو تین نکات میں بیان کریں۔

  6. بلیک ہول کی اینٹروپی کس چیز کے متناسب ہوتی ہے، اور یہ بات کیوں حیران کن ہے؟

  7. "پیج ٹائم” کیا ہے؟

  8. فائر وال پیراڈاکس کس اصول سے ٹکراتا ہے؟

جوابات

  1. کسی نظام کی مکمل تفصیل — ہر ذرے کی جگہ، رفتار اور کوانٹم حالت۔ مثال: بلیئرڈ کی گیندوں کی آخری حالت معلوم ہو تو ان کی ابتدائی حالت معلوم کی جا سکتی ہے۔

  2. ماس، برقی چارج اور اسپن۔

  3. درجہ حرارت آدھا ہو جائے گا، کیونکہ درجہ حرارت ماس کے الٹ تناسب میں ہوتا ہے (T ∝ 1/M)۔

  4. (الف) معلومات بلیک ہول میں جاتی ہیں؛ (ب) ہاکنگ ریڈی ایشن بے ترتیب ہوتی ہے اور معلومات باہر نہیں لاتی؛ (ج) بلیک ہول مکمل ختم ہو جاتا ہے — تو معلومات کہاں گئیں؟ یہ کوانٹم میکینکس کے اصول سے ٹکراتا ہے۔

  5. ایونٹ ہورائزن کی سطح کے رقبے کے متناسب۔ حیران کن اس لیے کہ عام طور پر معلومات کی گنجائش حجم سے طے ہوتی ہے، رقبے سے نہیں۔ اسی سے ہولوگرافک اصول نے جنم لیا۔

  6. بلیک ہول کی عمر کا وہ تقریباً درمیانی وقت جس کے بعد، پیج کرو کے مطابق، ریڈی ایشن میں معلومات باہر آنا شروع ہوتی ہیں۔

  7. آئن سٹائن کے اصولِ مساوات سے، جس کے مطابق بڑے بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن کو پار کرنے والے کو کچھ خاص محسوس نہیں ہونا چاہیے۔

حوالہ جات

  1. Hawking, S. W. (1975). Particle creation by black holes. Communications in Mathematical Physics, 43, 199–220.

  2. Hawking, S. W. (1976). Breakdown of predictability in gravitational collapse. Physical Review D, 14, 2460.

  3. Bekenstein, J. D. (1973). Black holes and entropy. Physical Review D, 7, 2333.

  4. Page, D. N. (1993). Information in black hole radiation. Physical Review Letters, 71, 3743.

  5. Maldacena, J. (1998). The large N limit of superconformal field theories and supergravity. Advances in Theoretical and Mathematical Physics, 2, 231. (arXiv: hep-th/9711200)

  6. Almheiri, A., Marolf, D., Polchinski, J., & Sully, J. (2013). Black holes: complementarity or firewalls? Journal of High Energy Physics, 2013(2), 062.

  7. Penington, G. (2020). Entanglement wedge reconstruction and the information paradox. Journal of High Energy Physics, 2020(9), 002.

  8. Almheiri, A., Engelhardt, N., Marolf, D., & Maxfield, H. (2019). The entropy of bulk quantum fields and the entanglement wedge of an evaporating black hole. Journal of High Energy Physics, 2019(12), 063.

  9. Penrose, R. (2010). Cycles of Time: An Extraordinary New View of the Universe. London: The Bodley Head.

DrJavaid Research & Learning Hub

Online Physics | IELTS | Research Training Learn Physics. Master IELTS. Advance Your Research. آن لائن فزکس کلاسز

WhatsApp:+923334326252

DrJavaid Afzal

#physicsbydrjavaid

#ieltswithdrjavaid

#drjavaidresearchandlearninghub