فلسفۂ حیات کیا ہے؟

فلسفۂ حیات کیا ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان جب  شعور کی منزل پر پہنچتا ہےتوتین سوالات اس کا پیچھا کر رہے ہوتے ہیں میں کون ہوں؟  میں کیوں ہوں؟    مجھے زندگی کو کیسے جینا چاہیے؟  انھی سوالوں کے منظم، دلیل پر مبنی اور مربوط جواب کو ’’ فلسفۂ حیات‘’کہتےہیں۔ سادہ الفاظ میں فلسفۂ حیات وہ فکری نقشہ ہے جو زندگی کے اصل  مقصد، حقیقی معنی، اقدار اور رویّوں کا تعین کرتا ہے۔ یہ محض نظریاتی بحث نہیں بل کہ وہ بنیادی زاویۂ نگاہ ہے جس کے تحت ہم فیصلے کرتے ہیں، دکھ سہتے ہیں اور خوشی تلاش کرتے ہیں۔

فلسفے کی تاریخ میں اس سوال پر سب سے پہلے سنجیدہ غور یونانی مفکرین نے کیا۔ افلاطون کی تحریر ’’معذرتِ سقراط‘‘  میں سقراط کا مشہور قول ملتا ہے جس میں وہ کہتا ہے  کہ غور و فکر سے خالی زندگی جینے کے لائق نہیں۔ یعنی زندگی کو بغیر سوچے گزار دینا انسانی وقار کے منافی ہے۔ ارسطو نے اپنی کتاب ’’ نیکوماکین اخلاقیات‘‘  میں زندگی کا اعلیٰ ترین مقصد ’یودیمونیا‘  قرار دیا، جسے عموماً ’’ انسانی فلاح‘‘  یا ’’ بھرپور زندگی‘‘  کہا جاتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ کیفیت عقل اور اخلاقی فضائل کے مطابق عمل سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ وقتی لذت سے۔ ایپی کیورس نے سکونِ قلب کو اصل مقصد ٹھہرایا، جب کہ رواقی فلسفیوں، جیسے ایپکٹیٹس اور مارکس اوریلیس، نے سکھایا کہ جو چیزیں ہمارے اختیار میں نہیں انھیں قبول کیا جائے اور جو اختیار میں ہیں، یعنی ہمارے فیصلے اور ردِعمل، ان پر توجہ دی جائے۔

جدید دور میں وجودیت نے اس بحث کو نیا رخ دیا۔ کیرکیگارڈ نے فرد کی ذاتی ذمہ داری اور باطنی صداقت پر زور دیا۔ نطشے نے روایتی اقدار پر سوال اٹھایا اور انسان کو اپنی اقدار خود تخلیق کرنے کی دعوت دی۔ ژاں پال سارتر کا مشہور نظریہ ہے کہ انسان میں ’’وجود ماہیت پر مقدم ہے‘‘، یعنی انسان پہلے موجود ہوتا ہے اور پھر اپنے انتخاب سے اپنی حقیقت بناتا ہے۔ البیئر کامو نے ’’ سسیفس کا افسانہ‘‘  میں زندگی کی بے معنویت کا سامنا کرتے ہوئے بھی جینے اور جدوجہد جاری رکھنے کو انسانی عظمت قرار دیا۔ ان سب کے مقابل وکٹر فرینکل کی کتاب ’’ معنی کی تلاش میں انسان‘‘  خاص اہمیت رکھتی ہے۔ نازی عقوبت خانوں کے تجربے کے بعد انھوں نے ’’ علاجِ معنی‘‘  کی بنیاد رکھی اور یہ نتیجہ پیش کیا کہ انسان کی بنیادی قوتِ محرکہ لذت یا طاقت نہیں بل کہ معنی کی تلاش ہے۔

اسلامی فکری روایت میں فلسفۂ حیات کی بنیاد وحی اور عقل کے امتزاج پر رکھی گئی ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو خلیفۃ اللہ اور امانت کا حامل قرار دیتا ہے اور زندگی کو آزمائش کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ابنِ مسکویہ نے ’’تہذیب الاخلاق‘‘  میں اعتدال اور اخلاقی تربیت کو سعادت کا راستہ بتایا۔ امام غزالی نے ’’ کیمیائے سعادت‘‘  میں نفس کی پہچان اور تزکیے کو حقیقی خوشی کی کنجی قرار دیا۔ علامہ اقبالؒ نے اس روایت کو عصرِ حاضر کی زبان دی۔ ان کے ہاں ’’خودی‘‘  کا تصور مرکزی ہے، یعنی انسان کا اپنی ذات کو پہچاننا، اسے مضبوط کرنا اور عمل کے ذریعے کائنات میں تخلیقی کردار ادا کرنا۔ وہ اپنی کتاب  ’’اسرارِ خودی‘‘ اور ’’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘  میں   جمود کے بجائے حرکت، تقلید کے بجائے اجتہاد اور فرار کے بجائے عمل کی تلقین کرتے ہیں۔

حالیہ دہائیوں میں نفسیات نے بھی اس موضوع پر تجرباتی تحقیق پیش کی ہے۔ مارٹن سیلگمین کی مثبت نفسیات میں خوش حال زندگی کے عناصر مثبت جذبات، لگن، تعلقات، معنی اور کامیابی کی صورت میں بیان ہوئے ہیں۔ رائن اور ڈیسی کا ’’ نظریۂ خود ارادیت‘‘  بتاتا ہے کہ خودمختاری، صلاحیت اور تعلق کی ضرورتیں پوری ہوں تو انسان کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔ یوں قدیم فلسفہ اور جدید سائنس کئی نِکات پر ایک دوسرے کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔

ان تمام نظریات کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ فلسفۂ حیات کوئی ایک متعین فارمولا نہیں، مگر اس کے چند مشترک عناصر ضرور ہیںجیسا کہ مقصد کی تلاش، اقدار کا شعور، ذمہ داری کا احساس، دکھ کو معنی دینے کی صلاحیت اور دوسروں سے تعلق۔ ہر فرد شعوری یا لا شعوری طور پر کوئی نہ کوئی فلسفۂ حیات رکھتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی اسے سوچ سمجھ کر اپناتا ہے اور کوئی حالات کے بہاؤ میں بہتے ہوئے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ ہم اپنے نظریۂ حیات کو پرکھیں، اسے علم، تجربے اور ضمیر کی کسوٹی پر جانچیں، اور پھر اس کے مطابق جینے کی ہمت پیدا کریں۔

آپ کے نزدیک فلسفئہ حیات کیا ہے؟ کمنٹ میں ضرور

 بتائیے۔

#philosophy #life #learn #urdu #human