ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا معافی مانگنا ہی بدل جانے کے لیے کافی ہے؟
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ روزانہ استغفار کرتے ہیں، اپنی غلطیوں پر معافی بھی مانگتے ہیں، لیکن کچھ ہی دنوں بعد پھر اسی غلطی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ آخر کمی کہاں رہ جاتی ہے؟ کیا ہم اللہ سے معافی مانگ رہے ہوتے ہیں، یا صرف اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر رہے ہوتے ہیں؟
قرآن ہمیں دو ایسے الفاظ سے روشناس کراتا ہے جنہیں ہم اکثر ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں: توبہ اور استغفار۔
دونوں کا تعلق اللہ کی طرف رجوع اور گناہوں کی معافی سے ہے، لیکن ان کے مفہوم اور عملی پہلو میں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔
استغفار کیا ہے؟
استغفار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنا۔ بندہ اپنی کوتاہی تسلیم کرتا ہے، اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے اور اس سے مغفرت مانگتا ہے۔
ترجمہ: اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے، وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا پائے گا۔
(سورۃ النساء: 110)
استغفار محض زبان سے چند الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں؛ اس میں اپنی غلطی کا اعتراف، اللہ کی طرف محتاجی اور اس کی رحمت سے امید شامل ہے۔ البتہ زبان سے استغفار کرنا بھی ایک نیکی ہے، جسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
پھر توبہ کیا ہے؟
توبہ کا بنیادی مفہوم ہے گناہ سے پلٹ کر اللہ کی طرف واپس آنا۔
یعنی انسان صرف یہ نہ کہے کہ یا اللہ! مجھے معاف کر دے، بلکہ وہ اپنی زندگی کا رخ بھی بدلنے کی کوشش کرے۔ گناہ چھوڑے، اپنے کیے پر نادم ہو اور آئندہ اس کی طرف نہ لوٹنے کا سچا ارادہ کرے۔
توبۂ نصوح ایسی سچی توبہ ہے جو انسان کے اندر حقیقی تبدیلی کی بنیاد بنے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ توبہ کرنے والا آئندہ کبھی لغزش کا شکار نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ کہ توبہ کے وقت اس کا ارادہ سچا ہو اور وہ گناہ سے بچنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔
دونوں میں اصل فرق کیا ہے؟
استغفار میں بندہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے، جبکہ توبہ میں وہ گناہ سے پلٹنے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کا عملی عزم کرتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور ایک ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔
مثلاً ایک شخص غصے میں اپنی بیوی کو تکلیف دہ الفاظ کہتا ہے۔ بعد میں وہ کہتا ہے: ’’استغفراللہ، یا اللہ مجھے معاف کر دے۔‘‘ یہ استغفار ہے۔
لیکن جب وہ اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے، بیوی سے معافی مانگتا ہے، اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے اور آئندہ اپنے رویّے کو درست کرنے کے لیے عملی قدم اٹھاتا ہے، تو یہ توبہ کے تقاضوں کی طرف بڑھنا ہے۔
اور اگر کسی گناہ میں کسی دوسرے انسان کا حق پامال ہوا ہو تو صرف زبانی استغفار کافی نہیں؛ جہاں ممکن ہو، حق واپس کرنا یا مناسب طریقے سے تلافی کرنا بھی ضروری ہے۔
ایک اہم غلط فہمی
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ بار بار گناہ کے بعد توبہ کرتے ہیں تو ان کی توبہ بے فائدہ ہے۔ یہ سوچ بھی انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس کر سکتی ہے۔
اگر انسان سچے دل سے توبہ کرے، پھر کمزوری کے باعث دوبارہ لغزش ہو جائے، تو اسے دوبارہ اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ پہلے کی سچی توبہ محض اس وجہ سے بے معنی نہیں ہو جاتی کہ بعد میں ایک نئی لغزش پیش آ گئی۔ البتہ توبہ کو گناہ جاری رکھنے کا بہانہ بنانا درست نہیں۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں، مگر اپنی غلطیوں کو معمول بھی نہ بنائیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آپ نے کتنی مرتبہ استغفار کیا؛ اصل سوال یہ بھی ہے کہ آپ کا استغفار آپ کو گناہ سے دور اور اللہ کے قریب کرنے میں کیا کردار ادا کر رہا ہے۔
اپنے دل سے پوچھیں: کیا میں صرف معافی مانگتا ہوں، یا اپنی اصلاح کی کوشش بھی کرتا ہوں؟ کیا میری توبہ میرے رویّے، میری زبان، میرے معاملات اور دوسروں کے حقوق میں بھی تبدیلی لا رہی ہے؟
یاد رکھیے، گناہ کے بعد اللہ کی طرف لوٹنے کا دروازہ بند نہیں، اور اصلاح کی کوشش کبھی بے معنی نہیں۔ مایوسی شیطان کا راستہ ہے، جبکہ امید کے ساتھ سچی توبہ بندۂ مومن کا راستہ ہے۔
آپ کی رائے: آپ کے خیال میں انسان کے لیے زیادہ مشکل کیا ہے: اپنی غلطی تسلیم کرنا یا اسے چھوڑ کر خود کو بدلنا؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیے۔ تحریر مفید لگے تو لائک کریں، دوسروں تک شیئر کریں اور مزید ایسی اصلاحی تحریروں کے لیے پیج فالو کریں۔