ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قطب جنوبی کی یخ بستہ برف کے اندر کئی میل کی گہرائی میں اچانک ایک ایسا سگنل پکڑا گیا جس نے پوری دنیا کے ماہرین فلکیات کو چونکا دیا۔ تقریباً اڑھائی کلومیٹر گہرائی کے ابدی اندھیرے میں ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصے کے لیے ایک پراسرار نیلی چمک پیدا ہوئی اور پھر غائب ہو گئی لیکن برف کی دبیز تہہ میں موجود رصد گاہ کے آلات گواہی دے رہے تھے کہ کوئی نادیدہ چیز زمین کے سینے کو چیرتی ہوئی گزر چکی ہے۔ وہ کائنات کے ایک دور دراز اور خوفناک گوشے سے تقریباً 4 ارب سال کا طویل فاصلہ طے کر کے آنے والا ایک ننھا سا مسافر تھا جس نے چپکے سے اپنے دامن میں چھپے کائنات کے سب سے پراسرار درندے یعنی ایک بھوکے بلیک ہول کے وہ راز اگل دیے جنہیں جاننے کے لیے سائنس دان کئی دہائیوں سے بے چین تھے۔
قطب جنوبی یعنی انٹارکٹیکا کی میلوں گہری برف کے اندر نصب کی گئی اس رصد گاہ کو آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری (IceCube Neutrino Observatory) کہا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد نیوٹرینو (Neutrino) نامی انتہائی باریک اور بنیادی ذرات کی کھوج لگانا ہے۔ حال ہی میں فزکس کا نوبل انعام جیتنے والے سائنسدان ہلزن فرانسس کا پیش کردہ یہ بے مثال تخیل آج انسانی تاریخ کی ایک بے حد اہم دریافت کا سبب بن چکا ہے۔ نیوٹرینو پر کوئی برقی چارج نہیں ہوتا اور اس کی کمیت یعنی ماس بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ مادے کے ساتھ تعامل یعنی انٹرایکشن کیے بغیر کائنات کے دور دراز علاقوں، کثیف گیس کے بادلوں اور مقناطیسی میدانوں کے بیچ سے بالکل سیدھی لکیر میں سفر کرتے ہوئے زمین تک پہنچ جاتا ہے۔ عام روشنی یا فوٹون (Photon) راستے میں موجود گرد اور مقناطیسی اثرات سے مڑ جاتے ہیں یا رک جاتے ہیں مگر نیوٹرینو بغیر کسی رکاوٹ کے سیدھا اپنے منبع سے نکل کر ہم تک پہنچتا ہے، اس لیے سائنس دان اسے فلکیاتی دنیا کا سب سے خالص قاصد قرار دیتے ہیں۔
جب کوئی بہت بڑا بلیک ہول (Black Hole) اپنے قریبی مادے کو نگل رہا ہوتا ہے تو اس کے گرد شدید کشش ثقل اور تیز رفتار گردش کی وجہ سے ایک تپتی ہوئی قرص بن جاتی ہے جسے ایکریشن ڈسک (Accretion Disk) کہا جاتا ہے۔ اس جگہ بننے والے طاقتور مقناطیسی میدان اور شدید دباؤ کی وجہ سے کچھ مادہ بلیک ہول کے دونوں قطبین سے روشنی کی رفتار کے قریب تیزی کے ساتھ فوواروں کی صورت میں خلا میں خارج ہوتا ہے جنہیں ریلیٹیوسٹک جیٹس (Relativistic Jets) کہتے ہیں۔ جب یہ جیٹس سیدھے زمین کی سمت ہوں تو ایسے متحرک بلیک ہول والے نظام کو بلیزر (Blazar) کہا جاتا ہے۔ ان جیٹس کے اندر ذرات کی اس قدر شدید ٹکر ہوتی ہے کہ پروٹون (Proton) جیسے بھاری ذرات کی باہمی تصادم کے نتیجے میں بے پناہ توانائی والے نیوٹرینو خارج ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ ذرات بلیک ہول کے بالکل قریبی ماحول کے پرتشدد واقعات کے دوران پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ان کی ساخت اور توانائی میں اس ماحول کی براہ راست معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔
یہ بات سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ انسانی تاریخ کی یہ انوکھی ترین رصد گاہ کوئی روایتی عمارت نہیں جس کی دیواریں یا کمرے کھودے گئے ہوں بلکہ اسے بنانے کے لیے انجینیئرز نے کمال مہارت سے کھولتے ہوئے گرم پانی کا ایک طاقتور ڈرل سسٹم استعمال کیا۔ انہوں نے ہزاروں لیٹر کھولتا ہوا پانی شدید دباؤ کے ساتھ برف پر مار کر 2450 میٹر گہرے 86 تنگ کنوئیں پگھلائے، اور پانی جمنے سے پہلے ہر بور ہول کے اندر مضبوط کیبلز کے ساتھ روشنی کے تقریباً 60 خاص ڈیٹیکٹرز تہہ میں اتار دیے، جن کے درمیان کم از کم 56 فٹ کا فاصلہ رکھا گیا۔ چند ہی گھنٹوں میں منفی درجہ حرارت نے اس پانی کو دوبارہ شیشے کی طرح شفاف برف میں جما کر ہمیشہ کے لیے مقید کر دیا اور یوں برف خود اس رصد گاہ کی دیواریں اور شیشہ بن گئی جہاں مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد یہ آلات ابدی تاریکی میں محفوظ ہو کر بیٹھ گئے۔
زمین کے بالائی ماحول میں خلا سے برسنے والی دیگر تابکار لہروں کا ایسا طوفان برپا رہتا ہے جس کے ہجوم میں نیوٹرینو کی نازک اور مدہم چمک دب کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے اڑھائی کلومیٹر گہری برف کو ایک ناقابل تسخیر کائناتی پردے کے طور پر چنا گیا تاکہ وہ تمام خارجی مداخلتوں کو اوپر ہی روک لے۔ اس اتھاہ گہرائی کے بے پناہ بوجھ تلے ہوا کے تمام ذرات برف سے خارج ہو جاتے ہیں اور وہ ایک بے داغ، شفاف بلور کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس سے نیوٹرینو کے ٹکراؤ سے ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصے کے لئے جنم لینے انتہائی معمولی سی نیلی کرن بھی بغیر کسی رکاوٹ کے رصد گاہ کے حساس آلات تک پہنچ پاتی ہے۔
انٹارکٹیکا کی برف میں نصب ان روشنی کے ڈیٹیکٹرز کو ڈیجیٹل آپٹیکل ماڈیول (Digital Optical Module) کہا جاتا ہے۔ یہ محض شیشے کے گولے نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل چھوٹا کمپیوٹر ہیں جو برف میں اس نایاب لمحے کو قید کرتے ہیں جب کھربوں میں سے کوئی ایک نیوٹرینو برف کے ایٹم سے ٹکراتا ہے۔ اس تصادم سے اس میڈیم میں روشنی کی رفتار سے بھی تیز ایک تابکاری پیدا ہوتی ہے جسے چیرنکوف ریڈی ایشن (Cherenkov Radiation) کہتے ہیں جو نینو سیکنڈ کے دسویں حصے سے بھی کم وقت کے لیے ہلکی نیلی چمک کی صورت میں بیدار ہوتی ہے۔ یہ ڈیٹیکٹرز اس چمک کو پکڑتے ہی فوراً ڈیجیٹل ڈیٹا میں بدل کر اس کا ٹائم اسٹیمپ (Timestamp) محفوظ کر لیتے ہیں۔ زمین کی سطح سے قریباً 2 کلومیٹر نیچے سے یہ تمام قیمتی ڈیٹا تانبے کی کیبلز یعنی کاپر وائرز کے ذریعے زمینی رصد گاہ تک پہنچتا ہے جہاں تمام ڈیٹیکٹرز کے ٹائم اسٹیمپس کا باہمی تجزیہ کر کے نیوٹرینو کے آنے کی بالکل درست سمت اور زاویے کا تعین کیا جاتا ہے۔
اس طریقے سے سائنس دانوں نے تقریباً 4 ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک دیو ہیکل بلیک ہول سے آنے والے نیوٹرینو کا سراغ لگایا۔ جب خلا میں موجود دوربینوں نے اس جانب رخ کیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت وہ بلیک ہول واقعی مادے کو نگل کر انتہائی طاقتور شعاعیں خارج کر رہا تھا اور اس طرح نیوٹرینوز کی رفتار اور توانائی کے تجزیے سے بلیک ہول کے سب سے ہنگامہ خیز اور ناقابل رسائی حصوں کے راز کھل کر سامنے آ گئے۔
انٹارکٹیکا کے اندھیروں میں چمکنے والی وہ ہلکی سی نیلی روشنی دراصل فلکیات کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز بن گئی۔ صدیوں سے انسان خلا کو ٹٹولتا رہا ہے مگر پہلی بار ایک ایسے قاصد نے زمین پر قدم رکھا جو کائنات کے سب سے تاریک اور خوفناک مقامات کے اندر کی خبر لایا تھا۔ سائنس دان ان نادیدہ ذرات کے پیچھے اس لیے بھاگ رہے ہیں تاکہ وہ بلیک ہول کے اس آخری کنارے کے راز جان سکیں جہاں عام روشنی بھی دفن ہو جاتی ہے اور جہاں پہنچ کر مادہ بالکل غائب ہو جاتا ہے۔ یہ ننھا سا مسافر ہمیں بتاتا ہے کہ جب خلا میں کوئی بہت بڑا طوفان اٹھتا ہے یا کوئی وزنی ستارہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹتا ہے تو وہاں کیا بیتتی ہے۔ برف کے ڈھیر میں قید ہونے والی سیکنڈ کے کروڑویں حصے کی وہ چمک محض ایک سگنل نہیں بلکہ کائنات کے آغاز اور ساخت سے جڑے ان گہرے سوالوں کا پہلا واضح جواب ہے جن کے سامنے صدیوں سے انسانی عقل عاجز کھڑی تھی۔