ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل) جب سوال ہدایت کے لیے نہیں، ضد کے لیے ہونے لگیں ۔کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ دو انسان ایک ہی بات سنتے ہیں، ایک کی آنکھیں حقیقت دیکھ کر کھل جاتی ہیں، جبکہ دوسرا اسی حقیقت کے سامنے کھڑے ہو کر بھی نئے اعتراضات تلاش کرنے لگتا ہے؟
فرق ہمیشہ علم کی کمی کا نہیں ہوتا۔ کبھی فرق دل کی نیت کا ہوتا ہے۔
ایک انسان سوال اس لیے کرتا ہے کہ اسے حقیقت سمجھنی ہے، اور دوسرا اس لیے کہ وہ حقیقت کو قبول کرنے سے بچ سکے۔ بظاہر دونوں سوال کر رہے ہوتے ہیں، مگر ان کے دلوں کی منزلیں مختلف ہوتی ہیں۔
ترجمہ: کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اسی طرح سوالات کرو جیسے اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام سے سوالات کیے گئے تھے؟ اور جو ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے، وہ یقیناً سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
(سورۃ البقرہ: 108)
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے: قرآن ہر سوال کی مذمت نہیں کر رہا۔ دین کو سمجھنے، کسی حکم کی حکمت جاننے اور اپنے شبہات دور کرنے کے لیے سوال کرنا غلط نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اللہ تعالیٰ سے پوچھا تھا کہ مردوں کو کیسے زندہ کیا جائے، تاکہ ان کے دل کو اطمینان حاصل ہو۔ (البقرہ: 260)
پس سوال کرنا مسئلہ نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ سوال کے پیچھے نیت کیا ہے۔
کیا ہم حقیقت جاننا چاہتے ہیں، یا اپنی پہلے سے قائم رائے کو بچانا چاہتے ہیں؟
کیا ہم جواب ملنے پر اپنی سوچ درست کرنے کے لیے تیار ہیں، یا ہر جواب کے بعد ایک نیا اعتراض لے آئیں گے؟
بنی اسرائیل کی تاریخ میں ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں اللہ کے واضح حکم کے سامنے بھی غیر ضروری سوالات اور سخت رویّے نے معاملے کو دشوار بنایا۔ قرآن ہمیں ان واقعات کے ذریعے یہ سکھاتا ہے کہ جب حق واضح ہو جائے تو انسان کو ضد اور بہانوں کے بجائے سنجیدگی سے اطاعت کی طرف بڑھنا چاہیے۔
آج بھی ہم اپنے اندر یہی رویہ تلاش کر سکتے ہیں۔
نماز کا حکم سامنے ہو تو ہم کہتے ہیں: ابھی وقت نہیں۔ کسی کی حق تلفی کا معاملہ ہو تو کہتے ہیں: پہلے اس نے میرے ساتھ کیا کیا تھا؟ حرام کمائی چھوڑنے کی بات ہو تو کہتے ہیں: آج کے دور میں یہ کیسے ممکن ہے؟
کبھی ہماری مشکلات حقیقی ہوتی ہیں، اور ان کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ لیکن کبھی ہم مشکل حل کرنے کے بجائے اسی مشکل کو اپنے لیے عذر بنا لیتے ہیں۔
یہیں ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: **کیا میں جواب تلاش کر رہا ہوں، یا اپنے بہانے کو درست ثابت کرنا چاہتا ہوں؟**
ترجمہ: اہلِ کتاب میں سے بہت سے لوگ اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے یہ چاہتے ہیں کہ حق واضح ہو جانے کے بعد بھی تمہیں ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹا دیں۔ پس تم معاف کرو اور درگزر سے کام لو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
(سورۃ البقرہ: 109)
اس آیت میں قرآن اُس زمانے کے اہلِ کتاب میں سے بہت سے لوگوں کے ایک رویّے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسے ہر یہودی یا ہر عیسائی کے بارے میں عمومی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ قرآن خود بتاتا ہے کہ اہلِ کتاب سب ایک جیسے نہیں۔ (آل عمران: 113)
یہاں اصل توجہ ایک انسانی بیماری پر ہے: حسد۔
کبھی انسان کسی دوسرے کی کامیابی دیکھ کر صرف اس لیے بے چین نہیں ہوتا کہ وہ خود پیچھے رہ گیا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ دوسرا آگے کیوں بڑھ گیا۔
یہی رویہ دین کے معاملے میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ کوئی شخص حق کو پہچان لیتا ہے، مگر اسے قبول کرنے کے بجائے اس بات سے پریشان ہوتا ہے کہ یہ حق کسی دوسرے کے ذریعے کیوں سامنے آیا، یا اس کے قبول کرنے سے اس کی اپنی حیثیت پر کیا اثر پڑے گا۔
لیکن اس آیت کا سب سے حیرت انگیز پہلو صرف بیماری کی نشاندہی نہیں، بلکہ اس کے جواب میں دی جانے والی ہدایت ہے:
فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا — پس معاف کرو اور درگزر کرو۔
سوچیے! جب کسی کے رویّے میں حسد ہو، جب کوئی آپ کو آپ کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرے، جب کوئی آپ کی نیکی کو بھی شک کی نظر سے دیکھے، تو دل میں بدلے کی خواہش پیدا ہونا کتنا آسان ہے۔
لیکن قرآن اہلِ ایمان کو سکھاتا ہے کہ ہر اشتعال کا جواب اشتعال سے دینا ضروری نہیں۔ ہر مخالفت کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لینا بھی عقل مندی نہیں۔
کبھی معاف کرنا دل کو نفرت کی قید سے آزاد کرنا ہوتا ہے۔ کبھی درگزر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی توانائی اپنے مقصد پر لگائیں، نہ کہ ہر مخالف کے ساتھ الجھتے رہیں۔
البتہ معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ظلم کو ظلم کہنا چھوڑ دے، اپنے حقوق سے دست بردار ہو جائے یا کسی کو نقصان پہنچاتے رہنے کی کھلی چھوٹ دے دے۔ قرآن کا درگزر حکمت اور عدل سے جدا نہیں۔
جب مخالفت کے باوجود اپنا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے
ان دونوں آیات کو ساتھ رکھ کر دیکھیے۔
پہلی آیت ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے: کہیں ہم حق سامنے آنے کے بعد بھی ضد تو نہیں کر رہے؟
دوسری آیت ہمیں دوسروں کے رویّوں کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے: کہیں ہم کسی کے حسد یا مخالفت کی وجہ سے اپنے ایمان اور اپنے اچھے عمل سے تو دور نہیں ہو رہے؟
یہاں ایک اہم سبق پوشیدہ ہے۔
اپنی اصلاح میں سخت دیانت داری، اور دوسروں کے ساتھ معاملے میں حکمت و درگزر۔
ہم اکثر اس کے برعکس کرتے ہیں۔ اپنی غلطی کے لیے دلیلیں جمع کرتے ہیں، لیکن دوسروں کی غلطی کے لیے فوراً فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ اپنے لیے نرمی چاہتے ہیں، مگر دوسروں کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے۔
قرآن کا پیغام ہمیں اس دوہرے معیار سے باہر نکالتا ہے۔
اگر سوال کریں تو سیکھنے کے لیے کریں۔ اگر اختلاف کریں تو انصاف کے ساتھ کریں۔ اگر مخالفت کا سامنا ہو تو اپنے کردار کو نفرت کے حوالے نہ کریں۔ اور اگر حق واضح ہو جائے تو محض اپنی انا بچانے کے لیے اسے رد نہ کریں۔
کیونکہ حق قبول کرنے کے لیے صرف ذہن کا قائل ہونا کافی نہیں؛ کبھی دل کو اپنی بڑائی بھی چھوڑنی پڑتی ہے۔
تدبر کا سوال
آج اپنے دل سے دو سوال کیجیے:
کیا کوئی ایسی بات ہے جس کی سچائی میں پہچان چکا ہوں، مگر اپنی انا یا مفاد کی وجہ سے اسے قبول کرنے سے بچ رہا ہوں؟
اور کیا کسی کی مخالفت نے میرے اندر اتنی نفرت پیدا کر دی ہے کہ میں اپنی اصلاح اور اپنے اصل مقصد کو بھولنے لگا ہوں؟
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن محض پڑھا نہیں جاتا، بلکہ انسان کے اندر اترنے لگتا ہے۔
اگلی قسط میں
ہم سورۃ البقرہ کی اگلی آیات کی طرف بڑھیں گے، جہاں قرآن نماز اور زکوٰۃ کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں یاد دلائے گا کہ ایمان صرف دعوے اور بحث کا نام نہیں؛ اس کا اثر ہماری عبادت، ہمارے مال اور ہماری عملی زندگی میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
اگر یہ تحریر آپ کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دے تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ صفحے کو فالو کریں، پوسٹ کو لائک اور شیئر کریں، اور کمنٹ میں بتائیں: آپ کے خیال میں انسان کے لیے اپنی غلطی ماننا زیادہ مشکل ہوتا ہے یا کسی دوسرے کو معاف کرنا؟