میٹافزکس، سائنس اور قرآن: کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ کہاں تک؟ ۔۔۔ تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد

میٹافزکس، سائنس اور قرآن: کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ کہاں تک؟

تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ میٹافزکس، سائنس اور قرآن: کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ کہاں تک؟ ۔۔۔ تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد)گیارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں، جب سلجوقی سلطنت کے دارالحکومت بغداد کی جامعہ نظامیہ کے وسیع و عریض علمی ایوانوں میں تین سو سے زائد طلبہ اور علما سانس روکے بیٹھے ہوتے تھے، تو مسندِ تدریس پر بیٹھا ہوا سینتیس سالہ نوجوان مفکر، ابو حامد محمد بن محمد الغزالی، اپنے قلم سے انسانی فکر کی تاریخ کے سب سے بڑے سوال پر ضرب لگا رہا تھا۔

یہ سوال بظاہر سادہ تھا، مگر اس کی تہہ میں پوری کائنات کی میکانکی اور مابعد الطبیعیاتی ساخت کا راز چھپا ہوا تھا:

جب آگ کا شعلہ روئی کے گالے کو چھوتا ہے تو روئی کو کون جلاتا ہے؟

ایک عام آدمی سے لے کر اس دور کے عظیم مشائی فلاسفہ (الفارابی اور ابن سینا کے پیروکاروں) تک، ہر شخص کا جواب ایک ہی تھا کہ آگ ہی روئی کے جلنے کی علت اور فاعل ہے، کیونکہ آگ کی طبعی ماہیت ہی جلانا ہے اور وہ اپنے اس طبعی تقاضے سے مجبور ہے۔

لیکن جنوری 1095ء (محرم 488 ہجری) میں مکمل ہونے والی اپنی معرکہ آراء کتاب ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ کے سترہویں مسئلے کا آغاز کرتے ہوئے امام غزالیؒ نے اس صدیوں پرانے یقین کے سامنے ایک ایسی منطقی دیوار کھڑی کر دی جس کی گونج سات سو سال بعد اسکاٹ لینڈ کے فلسفی ڈیوڈ ہیوم کی تحریروں میں اور نو سو سال بعد بیسویں صدی کی کوانٹم تجربہ گاہوں میں سنائی دینی تھی۔

غزالی نے نہایت ٹھنڈے اور بے رحم عقلی استدلال کے ساتھ سوال اٹھایا کہ روئی کے جلنے اور راکھ بننے میں اصل فاعل کون ہے؟

تمہارے پاس اس بات کا کیا تجرباتی یا عقلی ثبوت ہے کہ آگ خود جلانے کا کام کرتی ہے؟

مشاہدہ (المشاہدۃ) تو صرف یہ دکھاتا ہے کہ روئی کا جلنا آگ کی ملاقات کے ’’ساتھ‘‘ یا اس کے ’’پاس‘‘ (عندہ) رونما ہوا ہے، مشاہدہ یہ ہرگز نہیں دکھاتا کہ جلنے کا عمل آگ کے ’’ذریعے‘‘ (بہ) ہوا ہے!

پچھلی قسط کے اختتام پر ہم نے جہاں اپنے سفر کو روکا تھا، یعنی جدید سائنس کی دریافت کردہ کونیاتی اور کوانٹم حدود پر، وہاں سے جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر بغداد، قرطبہ، دمشق اور قونیہ کے ان کلاسیکی اسلامی مراکز کی طرف دیکھتے ہیں، تو ایک عجیب فکری حیرت ہمارا دامن تھام لیتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جن سوالات سے آج اکیسویں صدی کی نظریاتی طبیعیات، فلسفۂ سائنس اور علمیات (Epistemology) الجھ رہی ہیں، جیسے علت و معلول (Causality) کی اصل ماہیت، مادے کا غیر مسلسل اور نقطوی (Discrete) ہونا، کائنات کی بنیادی وحدت، وقت کی اضافیت، اور وجود کے مختلف مدارج، ان سوالات کو اسلامی تہذیب کے سنہری دور میں متکلمین، فلاسفہ اور صوفیا نے اپنے اپنے زاویے سے نہ صرف چھیڑا تھا بلکہ ان پر مستقل علمی نظام ہائے فکر تعمیر کیے تھے۔

تاہم، اس مقام پر قدم رکھتے ہی ہمیں اس خطرناک فکری دلدل سے ہوشیار رہنا ہوگا جس نے آج کے مقبولِ عام لٹریچر اور سوشل میڈیا کی بحثوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

آج کے دور میں ایک طرف وہ مستشرقین اور ان کے مقلدین ہیں جو بغیر اصل متون پڑھے یہ سطحی فتویٰ صادر کر دیتے ہیں کہ امام غزالیؒ نے علت و معلول کا انکار کر کے مسلم دنیا میں سائنس کا گلا گھونٹ دیا؛

اور دوسری طرف وہ پرجوش متجددین اور عوامی خطیب ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اشعری متکلمین نے آٹھ سو سال پہلے کوانٹم میکانکس دریافت کر لی تھی، محی الدین ابن عربیؒ کا ’’وحدت الوجود‘‘ دراصل جدید ’’کوانٹم فیلڈ تھیوری‘‘ ہے، اور مولانا جلال الدین رومیؒ نے ڈارون سے چھ سو سال پہلے حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ پیش کر دیا تھا۔

یہ دونوں انتہائیں تاریخی اور سائنسی دیانت کے منافی ہیں۔

ایک سنجیدہ محقق کا کام یہ نہیں کہ وہ ماضی کے صوفیانہ مکاشفے یا کلامی استدلال کو جدید طبیعیات کی مساواتوں کا نعم البدل قرار دے، بلکہ اس کا کام یہ دیکھنا ہے کہ انسانی ذہن جب مختلف صدیوں اور مختلف علمی آلات کے ساتھ حقیقت کے بنیادی سوالات سے ٹکراتا ہے، تو ان کے درمیان کہاں حقیقی فلسفیانہ ہم آہنگی (Philosophical Resonance) پیدا ہوتی ہے اور کہاں ان کے مناہج و مقاصد ایک دوسرے سے بالکل جدا ہو جاتے ہیں۔

اس تاریخی اور فکری تقابل کو اس کی اصل گہرائی میں سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اسلامی تاریخ کے اس عظیم الشان مثلث کو سمجھنا ہوگا جو نویں صدی سے تیرہویں صدی عیسوی کے درمیان تشکیل پایا۔

جب عباسی خلفاء خصوصاً مامون الرشید کے دور میں ’’بیت الحکمۃ‘‘ کے تحت یونانی فلسفے، ارسطو کی منطق و مابعد الطبیعیات، اور نو افلاطونی (Neoplatonic) متون کا عربی میں ترجمہ ہوا، تو مسلم دنیا میں حقیقت کو سمجھنے کے تین بڑے مکاتبِ فکر ابھرے۔

پہلا مکتب ’’مشائی فلاسفہ‘‘ (Peripatetic Philosophers) کا تھا، جس کے سرخیل یعقوب بن اسحاق الکندی (متوفی 873ء)، ابو نصر الفارابی (متوفی 950ء)، بو علی ابن سینا (980ء تا 1037ء) اور بعد ازاں اندلس میں قاضی ابن رشد (1126ء تا 1198ء) تھے۔ ان فلاسفہ نے ارسطو کے فلسفۂ فطرت کو اسلامی توحید کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔

ابن سینا نے اپنی عظیم کتاب ’’الشفاء‘‘ (کتاب الالٰہیات، جس کا مستند تنقیدی متن اور انگریزی ترجمہ مائیکل مارمورا نے 2005ء میں برگہم ینگ یونیورسٹی پریس سے شائع کیا) میں یہ موقف اختیار کیا کہ کائنات ایک واجب الوجود (خدا) سے ایک عقلی اور لازمی نظام کے تحت صادر (Emanate) ہوئی ہے، اور اس کائنات کے اندر مادی اشیاء میں اللہ نے ایسی ذاتی طبائع اور قوتیں (Intrinsic Natures and Powers) ودیعت کر دی ہیں جن کے تحت ہر سبب اپنے مسبب کو لازمی طور پر (Necessarily) پیدا کرتا ہے۔

آگ اپنی طبع سے جلاتی ہے اور پانی اپنی طبع سے پیاس بجھاتا ہے؛

طبعی قوانین کا ٹوٹنا عقلاً محال ہے۔

اس فلسفیانہ جبریت کے مقابلے میں دوسرا بڑا مکتب ’’متکلمین‘‘ کا اٹھا، جس میں معتزلہ کے بعد اشعری مکتبِ فکر (ابو الحسن اشعری، قاضی ابوبکر باقلانی، امام الجوینی، امام غزالی اور امام فخر الدین رازی) کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔

متکلمین کا بنیادی سروکار یہ تھا کہ اگر ارسطو اور ابن سینا کی طرح یہ مان لیا جائے کہ کائنات کے طبعی اسباب اپنی ذات میں خود کفیل اور لازمی ہیں، تو پھر خالقِ کائنات ایک ایسے معطل گھڑی ساز کی طرح بن کر رہ جاتا ہے جس نے ایک بار مشین چلا دی اور اب وہ خود بھی اس مشین کے پرزوں کی حرکت میں مداخلت نہیں کر سکتا؛ نیز اس سے انبیاء کے معجزات اور خدا کی آزادانہ مشیت (Divine Volition) کی نفی لازم آتی ہے۔

چنانچہ اشعری متکلمین نے ارسطو کی مابعد الطبیعیات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک متبادل کونیاتی ماڈل پیش کیا جسے تاریخِ فلسفہ میں ’’کلامی ایٹمزم‘‘ (Kalam Atomism) اور ’’نظریۂ اقتران و عادت‘‘ (Occasionalism) کہا جاتا ہے (اس موضوع پر ہارورڈ کے ہیری آسٹرن ولفسن کی 1976ء کی کتاب The Philosophy of the Kalam اور اے آئی صبرہ کے تحقیقی مقالات آج بھی بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں)۔

تیسرا مکتب ’’عرفانی اور اشراقی حکمت‘‘ کا تھا، جس نے شیخ الاشراق شہاب الدین سہروردی اور شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کی قیادت میں استدلالی عقل کے بجائے کشف، وجدان اور مشاہدۂ باطنی کو حقیقت تک رسائی کا اعلیٰ ذریعہ قرار دیا اور کائنات کو خالق کے اسماء و صفات کے ظہور (Theophany / تجلی) کے طور پر دیکھا۔

آئیے اب اس مثلث کے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والے ستون، یعنی امام غزالیؒ اور ابن رشد کے درمیان ہونے والے ’’قانونِ سبب و مسبب‘‘ (Law of Causality) کے تاریخی مناظرے کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ جدید فلسفۂ سائنس اور طبیعیات کے ساتھ اس کا حقیقی رشتہ کیا ہے۔

امام غزالیؒ نے ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ کے مسئلہ سترہ (مسئلہ فی ابطال قولہم ان الاقتران المشاہد فی الوجود بین الاسباب والمسببات اقتران تلازم بالضرورۃ) میں فلاسفہ کے نظریۂ سببیت پر جو تنقید کی، وہ انسانی تاریخ میں تجرباتی علمیات (Empirical Epistemology) کے سب سے لطیف اور گہرے تجزیوں میں شمار ہوتی ہے۔

غزالی لکھتے ہیں کہ ہمارے نزدیک دو ایسی چیزوں کا آپس میں جڑنا جنہیں عادتاً ایک کو ’’سبب‘‘ اور دوسرے کو ’’مسبب‘‘ سمجھا جاتا ہے، منطقی طور پر لازم و ملزوم نہیں ہے۔

پانی پینا اور پیاس بجھنا، کھانا کھانا اور سیر ہونا، آگ کا لگنا اور روئی کا جلنا، سورج کا نکلنا اور روشنی کا پھیلنا، دوا کا لینا اور شفا کا ملنا، یہ تمام چیزیں دو الگ الگ واقعات ہیں۔

ان میں سے کسی ایک شے کے اندر دوسری شے کو پیدا کرنے کی ذاتی اور لازمی منطقی طاقت موجود نہیں ہے۔

ہمارا حسی مشاہدہ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ دونوں واقعات ہمیشہ آگے پیچھے اکٹھے (Conjunction / اقتران) رونما ہوتے ہیں، لیکن مشاہدہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ پہلی شے نے دوسری شے کو پیدا کیا ہے۔

غزالی دلیل دیتے ہیں کہ بے جان مادہ (جیسے آگ) نہ شعور رکھتا ہے، نہ ارادہ اور نہ علم؛ تو جو چیز خود بے شعور اور بے جان ہے وہ روئی کے اندر سیاہی، دھواں اور راکھ جیسی نئی صفات ’’تخلیق‘‘ کرنے والی فاعل کیسے ہو سکتی ہے؟

یہاں غزالی اپنے مشہور نظریۂ ’’سنتِ الٰہیہ‘‘ یا ’’عادتِ الٰہیہ‘‘ (Divine Habit) کو پیش کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ حقیقت میں ہر لمحے کائنات میں ہونے والی ہر تبدیلی کا براہِ راست فاعل صرف اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے؛ آگ روئی کو نہیں جلاتی بلکہ جب آگ روئی سے چھوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی جاری و ساری عادت کے مطابق اس لمحے روئی میں جلنے کی صفت پیدا فرما دیتا ہے۔

اب فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے، جو فلاسفہ نے بھی اٹھایا اور آج کا قاری بھی اٹھاتا ہے، کہ اگر آگ میں جلانے کی ذاتی طاقت نہیں ہے، تو پھر اگر میں بازار میں اپنی کتاب گھر چھوڑ آؤں تو کیا اللہ کی مشیت سے وہ کتاب پیچھے سے گھوڑا یا انسان بن کر چلنا شروع کر دے گی؟

اگر اسباب اور مسببات کا کوئی ربط ہی نہیں تو پھر علم اور سائنس کیسے ممکن رہے گی؟

اس اعتراض کے جواب میں امام غزالیؒ نے ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ ہی کے اندر ایک ایسا نکتہ بیان کیا ہے جسے غزالی پر ’’دشمنِ سائنس‘‘ کا الزام لگانے والے ناقدین عموماً چھپا جاتے ہیں۔

غزالی فرماتے ہیں کہ بے شک عقلی اور منطقی طور پر (Logically) یہ ممکن ہے کہ آگ چھوئے اور روئی نہ جلے، لیکن اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اپنی ’’عادت‘‘ (سنتِ الٰہیہ) کو اس قدر مسلسل اور باقاعدہ رکھا ہے کہ اس نے ہمارے ذہنوں میں یہ پختہ علم پیدا کر دیا ہے کہ عام حالات میں آگ چھونے پر روئی ضرور جلے گی اور کتاب گھوڑا نہیں بنے گی، سوائے اس خاص لمحے کے جب اللہ کسی نبی کی صداقت دکھانے کے لیے (جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں، سورۃ الانبیاء 21:69: قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ) اپنی اس عادتِ جاریہ کو معطل فرما دے یا ایسے طبعی اسباب پیدا کر دے جو آگ کی حرارت کو روئی تک پہنچنے سے روک دیں۔

بلکہ غزالی تو اس سے بھی آگے بڑھ کر ’’تہافت‘‘ ہی میں فلاسفہ کو ایک دوسرا متبادل جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم یہ ماننے کو بھی تیار ہیں کہ آگ میں ایک خاص صفت ہے اور روئی میں ایک خاص ساخت ہے، لیکن کسی عمل کے مکمل ہونے کے لیے بے شمار پوشیدہ شرائط (Conditions) اور موانع کا نہ ہونا ضروری ہوتا ہے؛

جس طرح ایک شخص اپنے جسم پر طلق (Talc / ابرق) مل کر آگ میں بیٹھ جائے تو وہ نہیں جلتا، اسی طرح کائنات میں فطرت کے ایسے بلند تر اور پوشیدہ قوانین و اسباب موجود ہیں جن کا انسان کو ابھی علم نہیں، اور جب کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو وہ درحقیقت ان نادیدہ اسباب کے حرکت میں آنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے جسے نادان لوگ قانونِ فطرت کے خلاف سمجھ بیٹھتے ہیں!

امام غزالیؒ کی اس کتاب کے جواب میں تقریباً پچاسی سال بعد قرطبہ کے عظیم فلسفی اور فقیہ قاضی ابن رشد (Averroes) نے اپنی مشہور کتاب ’’تہافت التہافت‘‘ (The Incoherence of the Incoherence، جس کا مستند انگریزی ترجمہ سائمن وان ڈین برگ نے آکسفورڈ سے 1954ء میں شائع کیا) لکھی۔

ابن رشد نے غزالی کے نظریۂ سببیت پر شدید ترین تنقید کی اور ایک ایسا فلسفیانہ موقف اختیار کیا جو جدید تجرباتی سائنس کے بنیادی منہج کی ہو بہو ترجمانی کرتا ہے۔

ابن رشد نے لکھا کہ ظاہری اسباب کے اندر موجود طبعی تاثیر اور سببیت کا انکار کرنا دراصل خود ’’عقل‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کا انکار کرنا ہے۔

ابن رشد کے تاریخی الفاظ ہیں کہ

’’جو شخص اسباب کو رفع کرتا ہے، وہ عقل ہی کو رفع کر دیتا ہے‘‘ (فمن رفع الاسباب فقد رفع العقل)۔

ان کا استدلال تھا کہ ہر شے کی حقیقت اور اس کی تعریف (Definition) اس کے مخصوص عمل اور تاثیر ہی سے پہچانی جاتی ہے؛ اگر آگ سے جلانے کی صفت، پانی سے سیراب کرنے کی صفت اور آنکھ سے دیکھنے کی صفت نکال لی جائے، تو پھر تمام اشیاء یکساں اور بے معنی ہو جائیں گی اور نہ ان کا کوئی نام باقی رہے گا اور نہ کوئی شناخت۔

ابن رشد کے نزدیک خالقِ کائنات کی حکمت اور قدرت اس میں نہیں ہے کہ وہ ایک بے ترتیب اور بے قاعدہ کائنات چلائے، بلکہ اس کی کامل حکمت اسی میں ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے اشیاء کے درمیان سبب اور مسبب کا ایک مستحکم، اٹل اور قابلِ فہم رشتہ قائم کیا ہے جس کا مطالعہ کر کے انسانی عقل صانعِ حقیقی کی حکمت تک پہنچتی ہے۔

اب ذرا تاریخ کے اس منظر کو تیزی سے آگے بڑھائیے اور اٹھارہویں صدی کے اسکاٹش فلسفی ڈیوڈ ہیوم (David Hume) کی کتاب ’’اے ٹریٹائز آف ہیومن نیچر‘‘ (1739ء) اور ’’این انکوائری کنسرننگ ہیومن انڈرسٹینڈنگ‘‘ (1748ء، سیکشن ہفتم) کو کھولیے۔

ہیوم جب سبب اور مسبب کا تجزیہ کرتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر لفظ بہ لفظ وہی دلیل دیتا ہے جو چھ سو سال پہلے بغداد میں امام غزالیؒ نے دی تھی (یہاں تک کہ بعض جدید محققین نے اس بات پر بحث کی ہے کہ کیا ہیوم نے غزالی یا نکولس مالیبرانش کے تراجم سے استفادہ کیا تھا)۔

ہیوم کہتا ہے کہ جب بلئیرڈ کی ایک گیند دوسری گیند سے ٹکراتی ہے اور دوسری گیند چل پڑتی ہے، تو ہمارے حواس صرف ’’مسلسل اقتران‘‘ (Constant Conjunction) دیکھتے ہیں، ہم ان کے درمیان کسی ’’لازمی تعلق‘‘ (Necessary Connection) کا مشاہدہ نہیں کرتے؛ یہ صرف ہمارے ذہن کی ’’عادت‘‘ (Custom or Habit) ہے جو ہمیں یقین دلاتی ہے کہ پہلی گیند کے ٹکرانے پر دوسری گیند ضرور چلے گی۔

فرق صرف یہ تھا کہ غزالی نے اس ’’عادت‘‘ کو خالق کے ارادے (عادتِ الٰہیہ) سے منسوب کیا، جبکہ ہیوم نے اسے انسانی ذہن کی نفسیاتی عادت قرار دیا۔

اور پھر جب بیسویں صدی میں کوانٹم میکانکس کا ظہور ہوا، تو غزالی اور ابن رشد کی یہ بحث ایک بالکل نئی سائنسی سطح پر دوبارہ زندہ ہو گئی۔

کوانٹم فزکس نے اس مباحثے میں کیا فیصلہ سنایا؟

اگر ہم سائنسی دیانت داری سے دیکھیں تو کوانٹم میکانکس نے ایک طرف ابن سینا، ابن رشد اور نیوٹن کی اس ’’کلاسیکی میکانکی جبریت‘‘ (Strict Mechanical Determinism) کو توڑ دیا جس کا دعویٰ تھا کہ ہر مادی سبب اپنے اندر اگلے واقعے کو سو فیصد جبر کے ساتھ پیدا کرنے کی ذاتی اور حتمی طاقت رکھتا ہے۔

کوانٹم سطح پر، ریڈیو ایکٹو ایٹم کا ٹوٹنا ہو یا الیکٹران کا کسی ایک مقام پر ظاہر ہونا، وہاں پچھلی مادی حالت اگلے لمحے کے کسی ایک متعین واقعے کو لازمی قرار نہیں دیتی، بلکہ صرف امکانات کی ایک ریاضیاتی تقسیم (Probability Distribution) طے کرتی ہے۔

اس حد تک امام غزالیؒ کی یہ فلسفیانہ بصیرت بالکل درست ثابت ہوئی کہ مادی اسباب کے درمیان تعلق کوئی منطقی اور مطلق جبر (Logical Necessity) نہیں ہے، بلکہ فطرت کی اپنی ایک ’’عادت‘‘ یا شماریاتی باقاعدگی (Statistical Regularity) ہے جو بڑے پیمانے پر ہمیں ایک اٹل قانون کی طرح نظر آتی ہے۔

اسی طرح اشعری متکلمین کا یہ تصور کہ زمان و مکان مسلسل (Continuous) نہیں بلکہ ناقابلِ تقسیم اکائیوں (جواہر اور آنات) پر مشتمل ہیں، اور کائنات ہر لمحے نئے سرے سے وجود کے سانچے میں ڈھل رہی ہے (تجدیدِ امثال)، آج کی کوانٹم گریویٹی اور لوپ کوانٹم گریویٹی (Loop Quantum Gravity، جس پر کارلو روویلی اور لی سمولن کام کر رہے ہیں) کے اس نظریے کے ساتھ ایک غیر معمولی فلسفیانہ مماثلت رکھتا ہے کہ پلانک اسکیل پر زمان و مکان مسلسل نہیں بلکہ نقطوی اور کوانٹائزڈ (Discrete and Quantized) ہیں۔

لیکن، اور یہ ’’لیکن‘‘ ہماری علمی دیانت کی جان ہے، کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اشعری متکلمین کا ’’جوہرِ فرد‘‘ ہی آج کا کوانٹم ذرہ ہے یا غزالی نے کوانٹم فزکس دریافت کر لی تھی؟

ہرگز نہیں!

متکلمین کا طریقۂ کار خالصتاً منطقی اور کلامی (Dialectical) تھا؛ ان کے پاس نہ کوئی تجربہ گاہ تھی، نہ شروڈنگر کی مساوات تھی، اور نہ پلانک کا مستقل (h)۔

اور اسی طرح تاریخی سچائی یہ ہے کہ عملی سائنس کرنے کے لیے سائنس دان کو روزانہ تجربہ گاہ میں جاتے وقت ابن رشد کے اس اصول کو بطور ’’طریقِ کار‘‘ (Methodological Principle) تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ فطرت کے اسباب قابلِ اعتماد اور باقاعدہ ہیں، کیونکہ اگر فطرت میں باقاعدگی (جسے قرآن ’’سنت اللہ‘‘ کہتا ہے، سورۃ الاحزاب 33:62: وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا) نہ ہو تو سائنس کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی جا سکتی۔

یہاں تک کہ یہ مشہور الزام کہ غزالی نے مسلم دنیا میں سائنس ختم کر دی، جدید تاریخِ سائنس کے مستند ترین محققین، جیسے کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جارج صلبہ (George Saliba) نے اپنی کتاب Islamic Science and the Making of the European Renaissance (ایم آئی ٹی پریس، 2007ء) میں اور میک گِل یونیورسٹی کے پروفیسر جمیل راغب (Jamil Ragep) اور فرینک گریفل (Frank Griffel، مصنف Al-Ghazali’s Philosophical Theology، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2009ء) نے، تاریخی شواہد سے غلط ثابت کر دیا ہے، کیونکہ غزالی کے بعد تیرہویں سے پندرہویں صدی تک نصیر الدین طوسی، قطب الدین شیرازی، ابن الشاطر اور علی قوشجی جیسے عظیم مسلم ہیئت دانوں اور ریاضی دانوں کا سنہری دور آیا جنہوں نے کوپرنیکس کے لیے ریاضیاتی ماڈلز تیار کیے، اور خود غزالی نے ’’المنقذ من الضلال‘‘ میں ریاضی اور طبیعیات کو مذہب کے منافی قرار دینے والوں کو نادان دوست کہا تھا۔

اب ہم اپنے دوسرے بڑے ستون یعنی شیخِ اکبر محی الدین ابن عربیؒ (1165ء تا 1240ء) کے فلسفۂ ’’وحدت الوجود‘‘ اور جدید طبیعیات کی ’’کوانٹم فیلڈ تھیوری‘‘ (Quantum Field Theory – QFT) کے تقابل کی طرف آتے ہیں۔

آج کل کے روحانی اور مابعد الطبیعیاتی حلقوں میں یہ بات بہت شوق سے کہی جاتی ہے کہ جس طرح ابن عربیؒ اور ان کے شارحین (جیسے صدر الدین قونوی، داؤد قیصری اور عبدالرحمٰن جامی) نے یہ کہا تھا کہ کائنات میں ’’وجود‘‘ صرف ایک ہے اور تمام مخلوقات و اشیاء اسی ایک وجود کے بحرِ بیکراں کی موجیں اور تعینات ہیں، بالکل اسی طرح جدید کوانٹم فیلڈ تھیوری نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ کائنات میں الگ الگ ٹھوس ذرات کوئی مستقل وجود نہیں رکھتے بلکہ پوری کائنات میں بنیادی کوانٹم فیلڈز پھیلی ہوئی ہیں اور ہر ذرہ (مثلاً الیکٹران یا فوٹون) دراصل اپنے متعلقہ فیلڈ میں اٹھنے والی ایک لہر یا ارتعاش (Excitation of the underlying field) ہے!

آئیے اس دلکش تقابل کو پہلے خالص طبیعیات اور پھر خالص عرفانی فلسفے کی کسوٹی پر پرکھیں۔

طبیعیات میں ’’کوانٹم فیلڈ تھیوری‘‘، جس کی بنیاد پال ڈیرک (Paul Dirac)، رچرڈ فائن مین، جولین شونگر (Julian Schwinger)، سن اترو توموناگا اور سٹیون وائنبرگ (Steven Weinberg، ملاحظہ ہو ان کی مستند نصابی کتاب The Quantum Theory of Fields، کیمبرج یونیورسٹی پریس، 1995ء) نے رکھی اور جو آج ذراتی طبیعیات کے ’’معیاری ماڈل‘‘ (Standard Model of Particle Physics) کی بنیاد ہے، واقعی ہمیں کائنات کی ایک حیرت انگیز وحدت دکھاتی ہے۔

 کلاسیکی فزکس میں ہم سمجھتے تھے کہ ایک الیکٹران یہاں ہے اور دوسرا الیکٹران کہکشاں کے دوسرے سرے پر ہے اور ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

لیکن کوانٹم فیلڈ تھیوری بتاتی ہے کہ پوری کائنات کے طول و عرض میں ایک ہی ہمہ گیر ’’الیکٹران فیلڈ‘‘ (Electron Field) اور ایک ہی ’’برقی مقناطیسی فیلڈ‘‘ پھیلا ہوا ہے۔

جس کو ہم خالی خلا (Vacuum) کہتے ہیں، وہ حقیقت میں عدم نہیں ہے بلکہ وہ ان کوانٹم فیلڈز کی بنیادی توانائی سے لبریز حالت (Quantum Vacuum State) ہے جس میں ہر لمحے ورچوئل ذرات توانائی کے اتار چڑھاؤ (Quantum Fluctuations) کی صورت میں ابھرتے اور فنا ہوتے رہتے ہیں، جس کا تجرباتی ثبوت ہینڈرک کاسیمیر کی پیش گوئی کردہ ’’کاسیمیر ایفیکٹ‘‘ (Casimir Effect، 1948ء، جس کی درست پیمائش اسٹیو لامورو نے 1997ء میں Physical Review Letters میں کی) کی صورت میں موجود ہے۔

جب اس بنیادی فیلڈ کے کسی حصے کو توانائی ملتی ہے تو اس میں ایک ارتعاش پیدا ہوتا ہے جسے ہم ایک ’’ذرہ‘‘ کہتے ہیں؛ اسی لیے کائنات کے تمام الیکٹران اپنی کمیت اور چارج میں سو فیصد ایک جیسے ہیں کیونکہ وہ ایک ہی فیلڈ کی موجیں ہیں!

مزید برآں، طبیعیات دانوں کا سب سے بڑا خواب ’’گرینڈ یونیفائیڈ تھیوری‘‘ (GUT) اور ’’نظریۂ کل‘‘ ہے، جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ بگ بینگ کے ابتدائی انتہائی گرم لمحے میں کائنات کی تمام بظاہر مختلف قوتیں اور فیلڈز دراصل ایک ہی واحد ’’سپر فیلڈ‘‘ (Single Unified Field) کی مختلف شکلیں تھیں جو درجۂ حرارت گرنے پر ’’سمٹری بریکنگ‘‘ (Symmetry Breaking) کے ذریعے الگ الگ نظر آنے لگیں۔

اب ذرا دوسری طرف ابن عربیؒ کی ’’فصوص الحکم‘‘ اور ’’الفتوحات المکیہ‘‘ (جن کا گہرا علمی و فلسفیانہ تجزیہ جاپانی محقق توشیہیکو ایزوتسو نے اپنی شاہکار کتاب Sufism and Taoism، 1983ء میں اور سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک کے پروفیسر ولیم چٹک نے The Sufi Path of Knowledge: Ibn al-‘Arabi’s Metaphysics of Imagination، 1989ء میں پیش کیا ہے) کا مطالعہ کیجیے۔

ابن عربیؒ کے نزدیک ’’الوجود الحق‘‘ (حقیقی وجود) صرف ذاتِ باری تعالیٰ کا ہے، جو اپنے کنہِ ذات (مقامِ احدیت) میں ہر تعین، صفت اور ادراک سے ماورا ہے۔

 کائنات کی تمام اشیاء اپنے طور پر عدم میں تھیں، لیکن ان کے علمی نقوش (جنہیں ابن عربیؒ ’’اعیانِ ثابتہ‘‘ کہتے ہیں) ازل سے علمِ الٰہی میں موجود تھے۔

جب حق تعالیٰ نے اپنے اسماء و صفات کے ظہور کا ارادہ فرمایا، تو ’’نَفَسُ الرحمٰن‘‘ (شعور و وجود کی الٰہی لہر) کے ذریعے وجود کا نور ان اعیانِ ثابتہ پر چمکا اور یوں کائنات اپنے تمام مراتب کے ساتھ ظاہر ہو گئی۔

ابن عربیؒ کے نزدیک کائنات ہر لمحے ’’خلقِ جدید‘‘ (Continuous New Creation) میں ہے، جس کی دلیل وہ سورۃ ق کی آیت 15 (بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ) اور سورۃ الرحمٰن کی آیت 29 (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ) سے لیتے ہیں، یعنی کائنات کی کوئی شے دو لمحے تک اپنی ذات کے بل بوتے پر قائم نہیں رہتی بلکہ حق تعالیٰ کی تجلی ہر آن اسے عدم سے وجود کا لباس پہنا رہی ہے، مگر تجلیات کا تسلسل اتنا تیز ہے کہ انسان کو اشیاء مستقل اور ٹھوس نظر آتی ہیں (بالکل ویسے ہی جیسے اندھیرے میں جلتے ہوئے شعلے کو تیزی سے گھمایا جائے تو وہ آگ کا ایک مستقل دائرہ نظر آتا ہے)۔

یہاں رک کر ہمیں پوری علمی دیانت کے ساتھ دونوں نظریات کے درمیان خطِ امتیاز کھینچنا ہوگا۔

بلاشبہ، ابن عربیؒ کی مابعد الطبیعیات اور کوانٹم فیلڈ تھیوری کے درمیان ایک حیرت انگیز ’’ساختی اور استعاراتی مماثلت‘‘ (Structural and Metaphorical Analogy) موجود ہے:

دونوں اس سادہ لوح مادی تصور کو رد کرتے ہیں کہ کائنات الگ تھلگ اور خود مختار ٹھوس ذرات کا مجموعہ ہے؛

دونوں کثرت (Multiplicity) کے پیچھے ایک بنیادی وحدت (Underlying Unity) دکھاتے ہیں؛

اور دونوں ٹھوس اجسام کو ایک گہرے، غیر مرئی اور مسلسل متحرک پس منظر کے عارضی مظاہر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

لیکن خبردار!

’’کوانٹم فیلڈ‘‘ کو ’’ذاتِ باری تعالیٰ‘‘ یا ’’وجودِ مطلق‘‘ کا مترادف قرار دینا ایک فاش علمی اور کلامی غلطی ہے۔

کوانٹم فیلڈ، چاہے وہ کتنا ہی لطیف اور ہمہ گیر کیوں نہ ہو، ایک طبعی، ریاضیاتی اور مادی شے ہے جو زمان و مکان (Spacetime) کے اندر مقید ہے، توانائی اور اینٹروپی کے قوانین کے تابع ہے، اور اسلامی مابعد الطبیعیات کی رو سے وہ ’’خالق‘‘ نہیں بلکہ ’’عالمِ خلق‘‘ کی سب سے بنیادی طبعی تہہ ہے۔

ابن عربیؒ کا ’’وجودِ حق‘‘ زمان، مکان، توانائی اور ریاضی کی مساواتوں سے ورا الوراء، باشعور، زندہ اور علیم و قدیر حقیقت ہے۔

لہٰذا ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ کوانٹم فیلڈ تھیوری نے مادی کائنات کے اندر ’’وحدت فی الکثرت‘‘ (Unity in Multiplicity) کا ایک ایسا طبعی نمونہ پیش کیا ہے جس نے ابن عربیؒ کے عرفانی استعارے کو آج کے سائنسی ذہن کے لیے سمجھنا آسان بنا دیا ہے، لیکن ہم یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ فزکس کی مساواتوں نے صوفیانہ وحدت الوجود کو تجربہ گاہ میں ثابت کر دیا ہے۔

اسی طرح کی ایک اور مشہور بحث تیرہویں صدی کے عظیم عارف اور شاعر مولانا جلال الدین رومیؒ (1207ء تا 1273ء)، ان سے پہلے اخوان الصفا (دسویں صدی)، ابن مسکویہ (متوفی 1030ء، مصنف ’’الفوز الاصغر‘‘) اور ابن خلدون (متوفی 1406ء، ’’مقدمہ‘‘ فصل ششم) کے ہاں ملنے والے ’’تدرجِ وجود‘‘ اور جدید نظریۂ ارتقاء (Evolution) کے تقابل کی ہے۔

مولانا رومیؒ کی ’’مثنوی معنوی‘‘ (دفتر چہارم، ابیات 3637 تا 3641، نکلسن ایڈیشن) کے وہ مشہور اشعار، جن کا حوالہ علامہ محمد اقبالؒ نے بھی اپنے خطبات ’’تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ (The Reconstruction of Religious Thought in Islam، 1930ء) میں دیا ہے، ہر صاحبِ ذوق کے حافظے میں گونجتے ہیں:

’’أز جمادی مُردم و نامی شدم / وز نما مُردم بہ حیوان سر زدم / مُردم از حیوانی و آدم شدم / پس چہ ترسم کی ز مردن کم شدم / حملۂ دیگر بمیرم از بشر / تا بر آرم از ملائک بال و پر…‘‘

(میں جمادات یعنی بے جان مادے کی حالت سے مرا تو نباتات یعنی پودا بن کر ابھرا؛ نباتات کی حالت سے مرا تو حیوان کی صورت میں سر نکالا؛ حیوانیت سے مرا تو انسان بنا، تو پھر میں مرنے سے کیوں ڈروں؟ کیا میں کبھی مرنے سے گھٹا ہوں؟ اگلے مرحلے میں میں بشریت سے مروں گا تاکہ فرشتوں سے بھی آگے پر نکال سکوں، اور اس کے بعد اس مقام میں داخل ہو جاؤں گا جو وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا)۔

ان اشعار کو پڑھ کر انیسویں اور بیسویں صدی کے بعض مفکرین (جیسے شبلی نعمانی اور بعض جدید لکھاریوں) نے یہ دعویٰ کر دیا کہ رومیؒ اور ابن مسکویہ نے چارلس ڈارون کی 1859ء کی کتاب ’’آن دی اوریجن آف اسپیشیز‘‘ سے صدیاں پہلے حیاتیاتی ارتقاء (Biological Evolution) کا نظریہ پیش کر دیا تھا۔

اگر میں اپنے ’’کلیم ویریفکیشن پروٹوکول‘‘ کے تحت اس دعوے کی تاریخی اور متنی جانچ کروں، تو حقیقت کچھ اور ہی سامنے آتی ہے۔

رومیؒ، ابن مسکویہ اور اخوان الصفا جس چیز کو بیان کر رہے تھے، وہ فلسفے کی تاریخ میں ’’سلسلۂ مراتبِ وجود‘‘ (The Great Chain of Being) اور روح یا شعور کا ’’نذولی و صعودی سفر‘‘ (Arc of Descent and Ascent / قوسِ نزول و قوسِ صعود) کہلاتا ہے۔

ان کا بنیادی ماخذ ڈارون کا ’’فطری چناؤ‘‘ (Natural Selection)، اندھی جینیاتی تبدیلیاں (Random Genetic Mutations) یا بقائے اصلح (Survival of the Fittest) کا بے مقصد حیاتیاتی میکانزم نہیں تھا۔

رومیؒ تو دراصل سورۃ البقرہ کی آیت 28 (كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ…) اور سورۃ نوح کی آیات 14 اور 17 (وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا… وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا) کی صوفیانہ اور وجودی تشریح کر رہے تھے۔

ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ ایک تو مادی غذا (جمادات) زمین سے نکل کر پودے کا حصہ بنتی ہے، پودے کو انسان کھاتا ہے تو وہ خون اور نطفہ (حیوانی روح) بنتا ہے، اور پھر اس میں انسانی شعور پھونکا جاتا ہے؛

اور دوسرا اس سے بھی گہرا مفہوم یہ ہے کہ پوری کائنات اندھے اتفاقات سے نہیں چل رہی بلکہ اس کے اندر ایک ’’عشقِ الٰہی‘‘ اور ’’غائی کشش‘‘ (Teleological Drive) کارفرما ہے جو وجود کے ادنیٰ ترین درجے (مادے) کو کھینچ کر شعور کے اعلیٰ ترین درجے (انسان اور پھر وصالِ الٰہی) کی طرف لے جا رہی ہے۔

ڈارون کے کلاسیکی مادہ پرستانہ ارتقاء اور رومیؒ کے ارتقاء میں زمین و آسمان کا فرق ہے:

ڈارون کا ارتقاء محض حیاتیاتی بقا کے لیے جینز کی اندھی جدوجہد ہے جس کا کوئی اخلاقی یا روحانی مقصد نہیں اور جو انسان کی جسمانی موت پر ختم ہو جاتا ہے؛

جبکہ رومیؒ کا ارتقاء ’’شعور اور روح کا ارتقاء‘‘ ہے جس کے لیے انسانی زندگی کوئی آخری اسٹیشن نہیں بلکہ موت سے گزر کر مابعد الطبیعیاتی عروج کی ایک درمیانی منزل ہے!

ہاں، علامہ اقبالؒ نے جس فلسفیانہ بصیرت کی طرف اشارہ کیا تھا وہ اپنی جگہ نہایت قیمتی ہے:

کہ رومیؒ کے اس تصور نے اسلامی فکر میں کائنات کو ایک جامد (Static) شے کے بجائے ایک مسلسل ارتقاء پذیر، زندہ اور آگے بڑھتی ہوئی حقیقت (Dynamic and Evolving Reality) کے طور پر دیکھنے کی فضا ضرور ہموار کی۔

یہاں آ کر ہمارے سامنے اس پوری قسط کا سب سے نازک اور بنیادی علمیاتی سوال (Epistemological Question) کھڑا ہو جاتا ہے:

کیا صوفیا اور عرفا کا ’’کشف و مکاشفہ‘‘ یا وجدانی علم (Intuitive / Experiential Knowledge) اور جدید سائنس دانوں کا ’’تجرباتی و ریاضیاتی علم‘‘ (Empirical and Mathematical Knowledge) ایک ہی منزل تک پہنچنے کے دو مختلف راستے ہیں؟

اس سوال کے گرد پچھلے پچاس سالوں میں دنیا بھر میں بہت دھند پھیلائی گئی ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب آسٹرین نژاد امریکی ماہرِ طبیعیات فرٹجوف کیپرا (Fritjof Capra) نے 1975ء میں اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’دی تاؤ آف فزکس‘‘ (The Tao of Physics) شائع کی اور یہ دعویٰ کیا کہ جدید کوانٹم فزکس اور مشرقی تصوف و عرفان دراصل ایک ہی حقیقت کو مختلف زبانوں میں بیان کر رہے ہیں۔

لیکن اگر ہم سستی جذباتیت سے ہٹ کر خود کوانٹم فزکس کے اصل بانیوں کے مستند تحریری ریکارڈ اور اسلامی اصولِ معرفت کا مطالعہ کریں، تو تصویر کہیں زیادہ محتاط اور گہری نظر آتی ہے۔

یہ درست ہے کہ کوانٹم انقلاب کے معمار، جیسے نیلز بوہر، ارون شروڈنگر، ورنر ہائزنبرگ اور وولف گینگ پولی، جب ایٹم کی تہہ میں گئے اور انہوں نے دیکھا کہ وہاں کلاسیکی منطق اور روزمرہ کی زبان ناکام ہو رہی ہے، تو وہ گہرے فلسفیانہ اور مابعد الطبیعیاتی سوالات کی طرف متوجہ ہوئے۔

نیلز بوہر نے جب اپنے ’’اصولِ تکمیلیت‘‘ (Principle of Complementarity) کو پیش کیا کہ روشنی بیک وقت ذرہ بھی ہے اور لہر بھی، اور یہ دونوں بظاہر متضاد پہلو مل کر ہی پوری حقیقت بتاتے ہیں، تو اس نے اپنے خاندانی نشان (Coat of Arms) کے لیے مشرقی فلسفے کی علامت ’’ین اور یانگ‘‘ کو منتخب کیا اور اس کے نیچے لاطینی میں لکھوایا: Contraria sunt complementa (تضادات ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں)۔

ارون شروڈنگر نے کیمبرج یونیورسٹی میں دیے گئے اپنے 1944ء کے مشہور خطبات ’’واٹ از لائف؟‘‘ (What is Life?) اور بعد ازاں ’’مائنڈ اینڈ میٹر‘‘ (1958ء) میں شعور کی وحدت پر کھل کر مابعد الطبیعیاتی بحث کی۔

لیکن خود انہی عظیم سائنس دانوں کے رفیق، اور آئن سٹائن کی مساواتوں سے کائنات کے پھیلاؤ پر کام کرنے والے ممتاز ماہرِ فلکیات سر آرتھر ایڈنگٹن (Sir Arthur Eddington) نے اپنی 1928ء کی شہرہ آفاق کتاب ’’دی نیچر آف دی فزیکل ورلڈ‘‘ (The Nature of the Physical World، کیمبرج یونیورسٹی پریس) اور نوبل انعام یافتہ ماہرِ طبیعیات وولف گینگ پولی نے کارل یونگ کے ساتھ اپنی خط و کتابت میں اس خلطِ مبحث کے خلاف سخت تنبیہ کی تھی، جسے بعد میں کین ولبر (Ken Wilber) نے اپنی مرتب کردہ کتاب ’’کوانٹم کویسچنز: مسٹیکل رائٹنگز آف دی گریٹسٹ فزسسٹس‘‘ (1984ء) میں دستاویزی شکل دی۔

ایڈنگٹن نے نہایت خوبصورتی سے واضح کیا کہ فزکس کا علم ’’علامتی اور مقداری علم‘‘ (Symbolic and Quantitative Knowledge) ہے؛ فزکس دنیا کی کسی شے کی اندرونی حقیقت کو براہِ راست نہیں چھوتی، بلکہ وہ صرف آلاتِ پیمائش کی سوئیوں کی حرکت (Pointer Readings) اور ان کے درمیان ریاضیاتی نسبتوں کو ناپتی ہے۔

اگر آپ ایک ہاتھی کو ڈھلوان پر سے پھسلتا ہوا دیکھ رہے ہیں، تو فزکس اس ہاتھی کی زندگی، اس کے درد یا اس کی روح کو نہیں دیکھتی؛ فزکس کے لیے وہ ہاتھی صرف ’’دو ٹن کمیت (m)‘‘ ہے جو ایک خاص زاویے (\theta) پر پھسل رہی ہے!

اس کے برعکس، روحانی مشاہدہ یا شعور کا داخلی تجربہ ’’براہِ راست اور کیفیتی علم‘‘ (Intimate and Qualitative Knowledge) ہے جہاں انسان وجود کی معنویت کو اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

اسی اصول کو خود اسلامی علمی روایت نے صدیوں پہلے اتنی صراحت سے طے کر دیا تھا کہ اس میں کسی الجھن کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔

اسلامی علمیات اور اصولِ فقہ و کلام کا یہ متفقہ اور زریں قاعدہ ہے، جسے امام غزالیؒ، ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ (مکتوباتِ امام ربانی) سب نے تسلیم کیا ہے، کہ صوفیا کا ’’کشف‘‘ یا ’’الہام‘‘ ایک ذاتی اور داخلی (Subjective) روحانی واردات ہے؛ وہ صاحبِ کشف کے اپنے قلبی اطمینان کا باعث تو ہو سکتا ہے، لیکن وہ دوسرے انسانوں کے لیے نہ کوئی شرعی حجت بن سکتا ہے اور نہ ہی کوئی معروضی سائنسی ثبوت (Objective Scientific Proof) قرار پا سکتا ہے جب تک کہ اسے وحیِ قطعی (قرآن و سنت) اور عقل و مشاہدے کی عام کسوٹی پر پرکھ نہ لیا جائے۔

کشف سے طبعی کائنات کی ریاضیاتی مساواتیں دریافت نہیں ہوتیں، اور لیبارٹری کی مساواتوں سے قلبی معرفت اور روحانی تقویٰ حاصل نہیں ہوتا۔

دونوں کے دائرے، دونوں کے آلات اور دونوں کے مقاصد الگ ہیں۔

پھر سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں ان قدیم اسلامی فلاسفہ، متکلمین اور صوفیا کو آج کی اکیسویں صدی میں پڑھنے اور جدید سائنس کے ساتھ ان کا مکالمہ قائم کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ آج کی سائنس کے پاس ’’حساب‘‘ (Calculation) تو تاریخِ انسانی کا تیز ترین اور درست ترین موجود ہے، لیکن اس کے پاس اپنے ہی دریافت کردہ حقائق کو سمونے کے لیے کوئی جامع ’’مابعد الطبیعیاتی چوکھٹا‘‘ (Metaphysical Framework) اور ’’حکمت‘‘ (Wisdom) موجود نہیں ہے۔

آج کا ماہرِ طبیعیات جب تجربہ گاہ میں کوانٹم اینٹینگلمنٹ دیکھتا ہے، جب وہ خلا کے ستر فیصد حصے میں تاریک توانائی پاتا ہے، جب وہ مادے کی تہہ میں جا کر دیکھتا ہے کہ ٹھوس پن غائب ہو کر خالص ریاضیاتی امکانات اور فیلڈز رہ گئے ہیں، تو اس کی پرانی انیسویں صدی کی مادہ پرستانہ زبان اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور وہ فکری خلا میں معلق ہو جاتا ہے۔

ایسے میں جب ہم امام غزالیؒ کی سببیت پر تنقید، ابن رشد کی قانونِ فطرت کی وکالت، متکلمین کے تجدیدِ امثال کے تصور، اور ابن عربیؒ و سہروردیؒ کے مراتبِ وجود کے فلسفے کو سامنے لاتے ہیں، تو ہم سائنس پر کوئی مذہبی فتویٰ مسلط نہیں کرتے؛

بلکہ ہم جدید انسان کو یہ دکھاتے ہیں کہ کائنات کو ایک بے روح، اندھی اور خود قایم مادی مشین کے بجائے ایک ایسے زندہ، مربوط، کثیر المراتب اور بامعنی نظام کے طور پر بھی عقلی طور پر سمجھا جا سکتا ہے جس کی ہر طبعی حرکت کے پیچھے ایک علیم و حکیم ارادہ کارفرما ہے۔

غزالی ہمیں سکھاتے ہیں کہ اسباب کے ظاہر کا احترام کرو مگر اسباب کا بت نہ بناؤ؛ ابن رشد ہمیں سکھاتے ہیں کہ فطرت کے قوانین کا مطالعہ عین عبادت اور حکمت ہے؛

اور ابن عربیؒ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کائنات کا کوئی ذرہ خالق کی تجلیِ وجود سے الگ تھلگ اور بے معنی نہیں ہے۔

لیکن جیسے ہی ہم اس فلسفیانہ اور تاریخی سفر کے اس موڑ پر پہنچتے ہیں جہاں غزالی، ابن رشد، ابن عربی، آئن سٹائن اور ہائزنبرگ کے قافلے آمنے سامنے کھڑے ہیں، ہمارے سامنے اس پوری سیریز کا سب سے بڑا، سب سے حساس اور سب سے بنیادی سوال پوری شدت کے ساتھ آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔

ہم نے پہلی قسط سے لے کر اب تک بارہا ’’خالق‘‘، ’’واجب الوجود‘‘، ’’علتِ اولیٰ‘‘ اور ’’خدا‘‘ کا ذکر کیا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ کس طرح مادے کی تہہ کھلنے پر سائنس دانوں کو کائنات کے قوانین میں ایک حیرت انگیز ریاضیاتی نظم نظر آیا۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سائنس اپنی دوربینوں، خوردبینوں اور مساواتوں کی مدد سے ’’خدا‘‘ کو دریافت کر سکتی ہے؟

جب کوئی کہتا ہے کہ کائنات کا حیرت انگیز توازن (Fine-tuning) یا ڈی این اے (DNA) کا پیچیدہ معلوماتی کوڈ خدا کے وجود کا ’’سائنسی ثبوت‘‘ ہے، تو اس دعوے کی اصل علمی اور منطقی حیثیت کیا ہے؟

کیا ’’خالق‘‘ کو ’’مخلوق‘‘ کے پیمانوں سے ناپا جا سکتا ہے، یا سائنس کا کام صرف اس دہلیز تک پہنچانا ہے جہاں سے آگے کا قدم اٹھانا فلسفے، عقلِ سلیم اور وحی کا کام ہے؟

یہ وہ فیصلہ کن سوال ہے جو ہمیں اپنے اس تحقیقی سفر کی ساتویں منزل کی طرف لے کر چلتا ہے۔

(جاری ہے…)

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد