اسرائیل کے قومی پرچم پر ستارۂ داؤد تاریخی حقیقت، قدیم پس منظر اور صیہونی تحریک سے تعلق
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اسرائیل کے قومی پرچم کے درمیان موجود چھ کونوں والا نیلا ستارہ دنیا کی معروف مذہبی اور قومی علامتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے انگریزی میں ’’اسٹار آف ڈیوڈ‘‘ (Star of David) اور عبرانی زبان میں ’’ماگن داؤد‘‘ (Magen David) کہا جاتا ہے، جس کے لفظی معنی ’’داؤد کی ڈھال‘‘ ہیں۔
یہ نشان دو ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے متساوی الاضلاع مثلثوں سے تشکیل پاتا ہے، جس سے چھ کونوں والی ہندسی شکل وجود میں آتی ہے۔ آج یہ علامت یہودی شناخت، صیہونی تحریک اور ریاست اسرائیل سے وابستہ ہے۔ تاہم اس کی تاریخ محض یہودی مذہب یا جدید اسرائیلی ریاست تک محدود نہیں۔ اس نشان کی جڑیں مختلف قدیم تہذیبوں کے ہندسی، آرائشی اور بعض اوقات مذہبی و تعویذی تصورات میں بھی ملتی ہیں۔
اس علامت کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی قدیم ہندسی شکل اور یہودی شناخت کے ساتھ اس کے بعد میں قائم ہونے والے تعلق کو الگ الگ دیکھا جائے۔
ستارۂ داؤد کی قدیم تاریخ
چھ کونوں والے ستارے کو علمِ ہندسہ میں ہیکساگرام (Hexagram) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ہندسی شکل ہے جو دو متقابل مثلثوں کے باہمی اتصال سے بنتی ہے۔ اس طرح کی شکلیں قدیم زمانے سے مشرقِ وسطیٰ، ہندوستان، یورپ اور دیگر علاقوں میں استعمال ہوتی رہی ہیں۔
تاریخی آثار میں یہ نشان مختلف تہذیبوں کی عمارتوں، آرائشی اشیا، مذہبی مقامات اور بعض تعویذوں پر بھی ملتا ہے۔ اس لیے اسے کسی ایک مذہب یا قوم کی ایجاد قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں۔
قدیم یہودی آثار میں بھی ہیکساگرام کی بعض مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً فلسطین کے قدیم شہر کفرناحوم (Capernaum) کی یہودی عبادت گاہ کے آثار میں اس شکل کا ایک نقش ملتا ہے۔ تاہم اس کی موجودگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس زمانے میں یہودی اسے اپنی مخصوص مذہبی علامت سمجھتے تھے۔ قدیم عمارتوں میں ہندسی اشکال اکثر آرائشی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔
یہودی مذہب کی قدیم اور زیادہ نمایاں علامت سات شاخوں والا شمعدان، یعنی مینورا (Menorah) تھا، جس کا ذکر مذہبی روایات اور تاریخی آثار میں ملتا ہے۔
کیا حضرت داؤدؑ کی ڈھال پر یہی نشان تھا؟
ستارۂ داؤد کے بارے میں ایک عام روایت یہ ہے کہ حضرت داؤدؑ اپنی ڈھال پر یہی چھ کونوں والا ستارہ استعمال کرتے تھے۔ تاہم اس دعوے کی تائید میں کوئی مستند تاریخی دستاویز یا قابلِ اعتماد قدیم ثبوت دستیاب نہیں۔
عبرانی بائبل اور تلمود میں بھی اس مخصوص ہندسی شکل کو حضرت داؤدؑ کی حقیقی ڈھال یا یہودی مذہب کی باقاعدہ علامت قرار دینے کا واضح حوالہ نہیں ملتا۔
اس نشان کو ’’ماگن داؤد‘‘ یعنی داؤد کی ڈھال کا نام قرونِ وسطیٰ میں زیادہ نمایاں طور پر دیا جانے لگا۔ اس کی ایک مذہبی تشریح یہ تھی کہ خدا حضرت داؤدؑ کا محافظ اور ڈھال ہے۔ اس اعتبار سے یہ نام ایک علامتی اور مذہبی تصور کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ کسی ثابت شدہ تاریخی ہتھیار کی شکل کی۔
یہودی تصوف، خصوصاً قبالہ (Kabbalah) کی بعض روایات میں بھی ہندسی نشانات کو روحانی اور تعویذی اہمیت دی جاتی تھی۔ چھ کونوں والا ستارہ بھی بعض ایسی روایات میں استعمال ہوا۔
یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلامی دنیا کی بعض روایات میں اسی طرح کی شکل کو ’’مہرِ سلیمان‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم مہرِ سلیمان کی مختلف روایات میں پانچ اور چھ کونوں والی دونوں اشکال کا ذکر ملتا ہے۔ اس لیے دونوں اصطلاحات کو ہر تاریخی موقع پر ایک ہی شکل کا نام سمجھنا درست نہیں۔
قرونِ وسطیٰ میں یہودی شناخت کے ساتھ تعلق
چھ کونوں والے ستارے کا یہودی برادریوں کی شناخت کے ساتھ تعلق بتدریج مضبوط ہوا۔ اس حوالے سے یورپ کے شہر پراگ (Prague) کی تاریخ اہم سمجھی جاتی ہے۔
چودھویں صدی میں پراگ کے یہودیوں کو مقدس رومی شہنشاہ چارلس چہارم کی طرف سے مخصوص پرچم رکھنے کا حق ملنے کا ذکر تاریخی روایات میں آتا ہے۔ بعد کے زمانے میں اس پرچم کو ستارۂ داؤد کے ساتھ منسوب کیا گیا۔
تاہم اس واقعے کی تفصیلات اور اس زمانے کے پرچم کی اصل شکل کے بارے میں تاریخی تحقیق میں کچھ اختلاف موجود ہے۔
سترہویں صدی تک یہ نشان یورپ کی بعض یہودی برادریوں میں اجتماعی شناخت کے طور پر زیادہ نمایاں ہو چکا تھا۔ بعد ازاں اسے عبادت گاہوں، مذہبی کتابوں، قبروں اور مختلف ثقافتی اشیا پر استعمال کیا جانے لگا۔
انیسویں صدی میں اس کا استعمال مزید وسیع ہوا اور یہودی شناخت کی ایک معروف علامت بن گیا۔ اس طرح ایک ایسی ہندسی شکل جو پہلے مختلف تہذیبوں میں موجود تھی، وقت کے ساتھ یہودی برادری کی مخصوص اجتماعی شناخت سے وابستہ ہو گئی۔
صیہونی تحریک اور ستارۂ داؤد کا سیاسی استعمال
انیسویں صدی کے آخری حصے میں یورپ میں جدید صیہونی تحریک (Zionist Movement) نے جنم لیا۔ اس تحریک کا بنیادی سیاسی مقصد یہودیوں کے لیے فلسطین میں ایک قومی وطن قائم کرنا تھا۔
اس وقت مختلف ممالک میں آباد یہودی برادریوں کے درمیان ایک مشترکہ قومی شناخت کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ چونکہ ستارۂ داؤد پہلے ہی یورپی یہودیوں میں ایک معروف علامت بن چکا تھا، اس لیے اسے صیہونی تحریک نے بھی اپنی شناخت کا حصہ بنایا۔
1885ء میں فلسطین کے علاقے ریشون لزیون (Rishon LeZion) میں ایک نیلے اور سفید رنگ کا پرچم تیار کیا گیا تھا۔ اس پر سفید پس منظر، نیلی پٹیاں اور درمیان میں نیلا ستارۂ داؤد موجود تھا۔ اسرائیل بیلکنڈ اور فینی میئرووچ کے نام اس ابتدائی پرچم کی تیاری کے حوالے سے سامنے آتے ہیں۔
اس واقعے کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید صیہونی تحریک کے باقاعدہ قیام سے پہلے بھی فلسطین میں یہودی آبادکاروں کے بعض حلقوں میں نیلے اور سفید پرچم کے ساتھ ستارۂ داؤد کا استعمال شروع ہو چکا تھا۔
1897ء کی پہلی صیہونی کانگریس
1897ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں پہلی عالمی صیہونی کانگریس منعقد ہوئی۔ اس کانگریس میں تھیوڈور ہرتزل (Theodor Herzl) سمیت جدید صیہونی تحریک کے اہم رہنما شریک ہوئے۔
ہرتزل نے ایک مجوزہ پرچم کا تصور پیش کیا تھا جس میں سفید پس منظر پر سات سنہری ستارے شامل تھے۔ ان سات ستاروں کو مستقبل کی یہودی ریاست میں روزانہ سات گھنٹے کام کرنے کے تصور سے منسوب کیا گیا تھا۔
دوسری طرف ڈیوڈ وولفسون (David Wolffsohn) نے یہودی مذہبی شال تلیت (Tallit) سے متاثر ہو کر ایک مختلف ڈیزائن تجویز کیا۔ اس میں سفید پس منظر پر دو نیلی افقی پٹیاں اور درمیان میں ستارۂ داؤد شامل تھا۔
تلیت یہودی مذہبی روایت میں استعمال ہونے والی ایک مخصوص شال ہے جسے مرد بعض مذہبی عبادات کے دوران اوڑھتے ہیں۔ اس پر عموماً نیلی یا دوسری رنگین دھاریاں موجود ہوتی ہیں۔
وولفسون کے تجویز کردہ ڈیزائن کو صیہونی تحریک کی علامت کے طور پر قبول کیا گیا۔ اس طرح ستارۂ داؤد جدید یہودی قومی تحریک کے پرچم کا مرکزی نشان بن گیا۔
1948ء میں اسرائیل کا قومی پرچم
14 مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر وہی نیلا اور سفید پرچم استعمال ہوا جو پہلے ہی صیہونی تحریک کی علامت بن چکا تھا۔
اسرائیل کے قیام کے بعد اس بات پر غور کیا گیا کہ صیہونی تحریک کے پرچم کو نئی ریاست کا قومی پرچم بنایا جائے یا کوئی نیا ڈیزائن اختیار کیا جائے۔
بالآخر 28 اکتوبر 1948ء کو اسرائیل کی عارضی ریاستی کونسل نے اسی پرچم کو ملک کا سرکاری قومی پرچم قرار دے دیا۔
اس پرچم میں سفید پس منظر، اوپر اور نیچے دو نیلی افقی پٹیاں اور درمیان میں نیلے رنگ کا چھ کونوں والا ستارہ موجود ہے۔ اس کا سرکاری تناسب 8:11 ہے۔
یوں ایک ایسی علامت جو مختلف قدیم تہذیبوں میں ہندسی اور آرائشی شکل کے طور پر موجود تھی، بیسویں صدی میں ایک جدید قومی ریاست کی شناخت کا مرکزی حصہ بن گئی۔
پرچم کے رنگوں اور نشانات کی اہمیت
اسرائیلی پرچم کے سفید اور نیلے رنگوں کا تعلق بنیادی طور پر یہودی مذہبی شال تلیت سے بیان کیا جاتا ہے۔
سفید پس منظر تلیت کے سفید کپڑے کی یاد دلاتا ہے، جبکہ نیلی پٹیاں اس کی مذہبی دھاریوں سے متاثر ہیں۔ یہودی مذہبی روایت میں نیلے رنگ کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
درمیان میں موجود ستارۂ داؤد جدید یہودی قومی شناخت اور صیہونی تحریک کی علامت ہے۔
بعض تشریحات میں سفید رنگ کو پاکیزگی اور نیلے رنگ کو آسمان، وفاداری یا روحانیت سے بھی منسوب کیا جاتا ہے، لیکن ان تشریحات کو پرچم کے سرکاری اور متفقہ معنی قرار دینا درست نہیں۔ تاریخی طور پر تلیت کے ساتھ اس کا تعلق زیادہ واضح ہے۔
دوسری جنگِ عظیم اور نازی جرمنی کا دور
ستارۂ داؤد کی تاریخ کا ایک نہایت دردناک باب دوسری جنگِ عظیم کے دوران سامنے آیا۔
نازی جرمنی نے یہودیوں کو دوسرے شہریوں سے الگ شناخت کرنے اور ان پر امتیازی سلوک مسلط کرنے کے لیے زرد رنگ کے ستارۂ داؤد والے بیج استعمال کیے۔
یکم ستمبر 1941ء کو نازی حکومت نے جرمنی میں چھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے یہودیوں کے لیے زرد ستارہ پہننا لازمی قرار دیا۔ اس نشان کے اندر جرمن زبان میں یہودی کے معنی کا لفظ درج ہوتا تھا۔
اس سے پہلے مقبوضہ پولینڈ کے بعض علاقوں میں بھی یہودیوں کے لیے مخصوص شناختی نشانات استعمال کیے جا چکے تھے۔
یہ محض شناخت کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہودی آبادی کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنے، ان کی نقل و حرکت محدود کرنے، انہیں ہراساں کرنے اور نازی نسل پرستانہ پالیسیوں پر عمل درآمد کا ایک ذریعہ تھا۔
بعد ازاں ہولوکاسٹ کے دوران لاکھوں یہودیوں کو منظم طریقے سے قتل کیا گیا۔ اس تاریخی سانحے کے بعد ستارۂ داؤد یہودیوں کے لیے اجتماعی شناخت کے ساتھ ظلم، محرومی اور مزاحمت کی یاد سے بھی وابستہ ہو گیا۔
ماگن داؤد اَدوم: اسرائیل کی طبی امدادی سروس
اسرائیل کی قومی ہنگامی طبی امدادی تنظیم کا نام ماگن داؤد اَدوم (Magen David Adom) ہے، جس کے معنی ’’سرخ ڈھالِ داؤد‘‘ ہیں۔
یہ تنظیم 1930ء میں قائم ہوئی اور اسرائیل کے قیام سے پہلے بھی طبی امداد فراہم کر رہی تھی۔ اس کی ذمہ داریوں میں ایمبولینس سروس، حادثات میں طبی امداد، خون جمع کرنا اور قدرتی آفات کے دوران ہنگامی خدمات فراہم کرنا شامل ہیں۔
2006ء میں بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے اسے اسرائیل کی قومی امدادی سوسائٹی کے طور پر تسلیم کیا۔
یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ ستارۂ داؤد جدید اسرائیلی ریاست اور اس کے اداروں کی شناخت میں کس قدر نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔
کیا چھ کونوں والا ستارہ صرف یہودیوں کی علامت ہے؟
تاریخی اعتبار سے اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
ہیکساگرام کی شکل یہودی مذہب کے علاوہ بھی مختلف تہذیبوں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ اسلامی دنیا میں اسے بعض اوقات مہرِ سلیمان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قدیم مساجد، عمارتوں، مخطوطات اور آرائشی فن پاروں میں بھی اس سے ملتی جلتی شکلیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
مراکش کے سابق قومی پرچم پر بھی 1915ء سے 1945ء تک چھ کونوں والا ستارہ موجود تھا، جسے بعد میں پانچ کونوں والے ستارے سے تبدیل کر دیا گیا۔
یورپ کے بعض قدیم گرجا گھروں اور دوسری تاریخی عمارتوں میں بھی یہ ہندسی شکل آرائشی نقش کے طور پر ملتی ہے۔
لہٰذا ہیکساگرام کی اصل کو کسی ایک مذہب یا قوم تک محدود کرنا درست نہیں۔ البتہ جدید دور میں اس کا سب سے نمایاں تعلق یہودی شناخت اور ریاست اسرائیل سے قائم ہو چکا ہے۔
تاریخی حقیقت کا خلاصہ
ستارۂ داؤد کی تاریخ ہمیں ایک اہم بات سمجھاتی ہے کہ کسی علامت کی قدامت اور اس کی موجودہ مذہبی یا قومی شناخت ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔
چھ کونوں والا ستارہ قدیم زمانے سے مختلف تہذیبوں میں موجود تھا، لیکن یہودی شناخت کی مخصوص علامت کے طور پر اس کا نمایاں ہونا قرونِ وسطیٰ اور اس کے بعد کا تاریخی عمل ہے۔
انیسویں صدی میں یورپی یہودیوں کے درمیان اس کا استعمال وسیع ہوا، جدید صیہونی تحریک نے اسے اپنی قومی شناخت کا حصہ بنایا، 1897ء میں صیہونی کانگریسوں کے پرچم سے اس کا تعلق مضبوط ہوا اور بالآخر 1948ء میں یہ ریاست اسرائیل کے قومی پرچم کا مرکزی نشان بن گیا۔
اس بات کا کوئی قابلِ اعتماد تاریخی ثبوت موجود نہیں کہ حضرت داؤدؑ کی حقیقی ڈھال پر یہی نشان بنا ہوا تھا۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ یہ شکل ابتدا ہی سے صرف یہودی مذہب کے لیے مخصوص تھی۔
اصل تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ایک قدیم اور مشترکہ ہندسی شکل نے مختلف ادوار میں مختلف تہذیبوں اور معاشروں میں الگ الگ معانی اختیار کیے۔ وقت کے ساتھ یہودی برادری نے اسے اپنی اجتماعی شناخت کا حصہ بنایا اور جدید صیہونی تحریک نے اسے سیاسی و قومی علامت میں تبدیل کر دیا۔
تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ضروری ہے کہ مذہبی روایات، تاریخی دستاویزات اور سیاسی تشریحات کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جائے۔ کسی علامت کی موجودہ شناخت کو اس کی مکمل قدیم تاریخ سمجھ لینا بھی غلط ہے اور اس کی موجودہ مذہبی و قومی اہمیت کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔
تاریخ کی اصل خوب صورتی یہی ہے کہ وہ روایات اور عقائد سے آگے بڑھ کر شواہد کی روشنی میں ماضی کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔